حوثی ڈرون حملہ، یمن کی سرکاری فورسز کے 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی
صنعا: یمن کے صوبے مارب میں حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے 3 اہلکار ہلاک جبکہ 4 زخمی ہوگئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمنی فوج کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ڈرون حملہ جنوبی مارب کے علاقے حریب میں کیا گیا۔
فوجی ذریعے کے مطابق حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 3 اہلکاروں کی ہلاکت اور 4 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ڈرون کے ذریعے حریب کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ جنوبی مارب میں واقع ہے اور یمن کی جاری کشیدگی کے دوران مختلف اوقات میں فوجی جھڑپوں اور حملوں کا مرکز بنتا رہا ہے۔
حالیہ حملے میں سرکاری فورسز کو جانی نقصان پہنچا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں فوجی تنصیبات کو بھی کوئی نقصان پہنچا یا صرف اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
یمن میں حوثی گروپ اور حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔ ملک میں جاری تنازع نے پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے حملے اور جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے حالیہ برسوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گروپ کی کارروائیوں کا دائرہ یمن کے اندر فوجی اہداف کے علاوہ بحیرہ احمر اور خطے کے دیگر سمندری علاقوں تک بھی پھیل چکا ہے۔
دوسری جانب یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز ملک کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق مارب میں ہونے والے تازہ حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے حملے کی مکمل نوعیت اور اس کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں کسی بھی نئی عسکری کارروائی سے ملک میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ خطے میں جاری وسیع تر تنازعات کے باعث یمن کی سکیورٹی صورتحال بھی مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔