ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی بڑی کارروائی، کسٹمز کا ایک سپرنٹنڈنٹ اور دو انسپکٹرز گرفتار
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی، پاکستان کسٹمز کے ایک سپرنٹنڈنٹ اور دو انسپکٹرز کو رشوت ستانی، بھتہ خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
شکایت کنندہ نے ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ مذکورہ افسران نے ملی بھگت سے اسے ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔
کسٹم کے زیر التواء مجرمانہ مقدمے میں ناجائز رعایت کے عوض ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا بعد ازاں 25 لاکھ روپے پر طے پایا۔ ملزمان نے یہ بھی دھمکی دی کہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر شکایت کنندہ کے خاندان اور ساتھیوں کو بھی مقدمے میں ملوث کیا جائے گا۔
مجاز اتھارٹی سے منظوری اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں سیکٹر آئی ایٹ اسلام آباد کے MYST Café میں ٹریپ ریڈ کی گئی۔
چھاپے کے دوران کسٹم کے ایک انسپکٹر کو مطالبہ کردہ رشوت کی پہلی قسط 5 لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ رنگی ہوئی کرنسی ملزم کے قبضے سے برآمد کر لی گئی اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا گیا۔
موبائل فون کی ابتدائی فرانزک جانچ سے وائس چیٹس برآمد ہوئی ہیں جن سے شکایت کنندہ سے رقم بٹورنے کی مجرمانہ سازش اور اس کے خاندان کو ہراساں کرنے کے منصوبے کا انکشاف ہوا۔
ملزمان کے خلاف دفعات 161 اور 109 تعزیرات پاکستان اور دفعہ 5(2) پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت ایف آئی آر نمبر 39/2026 درج کی گئی۔ گرفتار انسپکٹر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر کسٹم سپرنٹنڈنٹ اور ایک اور انسپکٹر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر کاربند ہے اور رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی، مزید تفتیش جاری ہے۔