یورپ میں بدترین خشک سالی، دریا سوکھنے پر قدیم باقیات برآمد
یورپ میں شدید خشک سالی کیوجہ سے دریاؤں کے سکڑنے سے قدیم آثار ظاہر ہورہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ اس وقت شدید گرمی اور خشک سالی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث ڈینیوب سمیت کئی بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہو گئی ہے۔
اس صورتحال نے جہاں زراعت، توانائی اور دریائی نقل و حمل کو متاثر کیا ہے، وہیں پانی کے نیچے چھپی کئی تاریخی اور قبل از تاریخ باقیات بھی سامنے آ گئی ہیں۔
ڈینیوب دریا میں پانی کی ریکارڈ کم سطح کے نتیجے میں بلغاریہ میں تقریباً 1700 سال پرانے قسطنطین کے رومی پل کی بنیادیں دوبارہ نمایاں ہو گئی ہیں۔ یہ پل رومی بادشاہ قسطنطین اول کے دور میں تقریباً 328 عیسوی میں مکمل ہوا تھا اور دو کلومیٹر سے زیادہ طویل تھا۔
شمالی بلغاریہ میں دریا کے خشک ہونے سے قدیم میمتھ کے فوسلز بھی سامنے آئے، جن میں جبڑے، دانت، کندھے کی ہڈی اور ران کی ہڈی شامل ہیں۔
ڈینیوب کے مختلف حصوں میں دوسری عالمی جنگ کے جرمن نازی بحری جہازوں کے ملبے بھی پانی سے باہر آ گئے ہیں۔ جرمنی میں پانی کی کمی نے ایسے آثار نمایاں کیے ہیں جو ماضی کی شدید خشک سالیوں کی یاد دلاتے ہیں۔