سینیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر دلاور کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں گرما گرمی، لفظی گولہ باری

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی میں ایف آئی اے حکام نے سگریٹ چوری کے معاملے پر انکوائری پر بریفنگ دی

فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر طلحہ محمود اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر دلاور کے درمیان گرما گرمی ہوئی جہاں دونوں کی جانب لفظی گولہ باری کی گئی اور ایک نے دوسرے کو چور اور نوکر جیسے القابات سے نوازا۔

خیبرپختونخواہ کے سرکاری گودام سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تشکیل دی گئی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے حکام نے کہا کہ سیگریٹ چوری کے معاملے کی ہم نے جو انکوائری کی اس میں ایف بی آر کے افسر کو قصوروار قرار دیا گیا۔

ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ڈپٹی کلکٹر فہیم رشید سمیت تین افسروں کے خلاف انکوائری کی گئی، پیرا ماؤنٹ کمپنی کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔

ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ہم نے اپنی انکوائری رپورٹ ایف بی آر کو بھجوا دی ہے، ایف بی آر بورڈ کے اجلاس کے بعد مقدمہ درج ہو گا۔

کمیٹی کے اجلاس میں سگریٹ کمپنیوں اور پاکستان ٹوبیکو سے متعلق گفتگو کی جا رہی تھی کہ سینیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر دلاور خان کی ایک دوسرے سے تلخ کلامی ہوگئی، طلحہ محمود نے کہا کہ ہماری شخصیت داغ دار ہو رہی ہے، ہمارا سگریٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو مال پکڑا جا رہا ہے ان میں سینیٹر دلاور کا مال بھی شامل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور خواجہ آصف کو بریف کیا گیا کہ کمیٹی میں سگریٹ کے مالک بیٹھے ہیں، آئندہ کمیٹی میں سینیٹر دلاور آئے تو میں نہیں آؤں گا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس تو شناختی کارڈ نہیں، اربوں روپے چوری کے کیسز ہیں۔

سینیٹر دلاور خان نے طلحہ محمود کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا مزید نام نہیں لینا، میں نے بہت صبر کیا ہے، آپ تو بیٹریاں چوری کر کے یہاں آ گئے ہیں، آپ جیسے تو میرے نوکر ہیں۔

سینیٹ کمیٹی نے سینیٹر فیصل سلیم رحمان سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹر سلیم کے سگریٹ کے کتنے کاروبار ہیں اور کب سے وہ یہ کاروبار کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران صحافیوں کے حوالے سے بیانات پر صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کمیٹی کی جانب سے جو میڈیا ادارے کے خلاف ریمارکس دیے گئے اس پر تشویش ہے، ہم قانون سے مبرا نہیں ہیں،  پیمرا اور پریس کونسل میں شکایت کی جا سکتی ہے اور تمام فورم موجود ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کو بتا کہ یہ کہنا کہ رپورٹر یا مالک کو اٹھا کر لے آؤ جیسے پی ٹی آئی والوں کے ساتھ کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم سب پاکستانیوں کی عزت ایک ہی ہے، صحافی ہمارے بازو ہیں، کسی کو کسی کی پگڑی اچھالنے کی اجازت نہیں، ہماری کمیٹی ٹیکس چوری پر کام کر رہی ہے۔

کمیٹی کے کنوینر سیف اللہ ابڑو نے کہا ہمیں ڈیٹا نہیں مل رہا تھا، فاٹا اور پاٹا میں 1120 ارب کی درآمد کی گئی، یہ اس علاقے میں امپورٹ ہوئی جہاں کوئی فیکٹری نہیں ہے، یہ سارا ڈیٹا 2018 سے 2021 تک کا ہمیں فراہم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حیران کن بات ہے فاٹا اور پاٹا میں 114ارب کا غیر ملکی کپڑا منگوایا گیا جہاں حالات معاشی طور پر خراب ہیں، وہاں غیر ملکی کپڑا منگوایا جارہا ہے، ایف بی آر کے مطابق پکڑے جانے والے سگریٹس کا سینیٹر فیصل اور دلاور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Load Next Story