ایران جنگ سے پیٹرولیم کمپنیاں پیسا بنا رہی ہیں تو ٹیکس لگائیں؛ ٹرمپ سے مطالبہ

امریکی دو بڑی پیٹرول کمپنیوں نے بھی رواں سال اربوں ڈالر کے غیر معمولی منافع کا اعلان کیا ہے

ٹرمپ نے پیٹرولیم کمپنیوں پر بے جا منافع کمانے کا الزام عائد کیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعتراف کہ ایران جنگ کے باعث بڑی تیل کمپنیاں ضرورت سے زیادہ منافع کما رہی ہیں ان کے لیے نئی سیاسی مشکل بن گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ماحولیاتی تنظیموں، صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اگر صدر تڑمپ واقعی اپنی بات پر یقین رکھتے ہیں تو بڑی آئل کمپنیوں پر ونڈ فال پرافٹس ٹیکس عائد کریں تاکہ غیر معمولی منافع کا کچھ حصہ عوام کو واپس مل سکے۔

یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کی دو بڑی توانائی کمپنیوں ایکسون موبل اور شیورون نے بھی رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے اربوں ڈالر کے غیر معمولی منافع کا اعلان کیا ہے۔

پیٹرول کمپنیوں کا ریکارڈ منافع

شیورون نے بتایا کہ اس کی دوسری سہ ماہی کی آمدنی تقریباً 400 فیصد اضافے کے بعد 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ایکسون موبل کا منافع دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہو گیا۔

ان نتائج کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کمپنیاں پیٹرول کی قلت کی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بہت زیادہ پیسہ کما رہی ہیں مجھے یہ پسند نہیں۔ انہیں اس منافع کا کچھ حصہ عوام کو واپس دینا چاہیے۔

ماحولیاتی تنظیموں کا سخت ردعمل

صارفین کے حقوق کی تنظیم پبلک سٹیزن کے توانائی پروگرام کے ڈائریکٹر ٹائسن سلوکم نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان ان کی اپنی پالیسیوں سے متصادم ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد تیل کمپنیوں کو بے شمار مراعات دیں، ماحولیاتی قوانین نرم کیے اور ایران کے خلاف جنگی پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں اور انہی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا اضافی منافع ملا۔

انھوں نے کہا کہ اگر صدر واقعی سمجھتے ہیں کہ تیل کمپنیاں حد سے زیادہ کمائی کر رہی ہیں تو انہیں فوری طور پر ونڈ فال پرافٹس ٹیکس کی حمایت کرنی چاہیے۔

چند ماہ پہلے ٹرمپ کا مؤقف مختلف تھا

دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2026 میں صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا کے لیے فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم (امریکا) بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔

اسی دوران انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز بند بھی کر دے تو اس کا امریکا پر محدود اثر پڑے گا کیونکہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔

تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بین الاقوامی سپلائی چین اور عالمی تجارت سے متاثر ہوتی ہیں اس لیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی پوری دنیا میں قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔

ٹرمپ کی پالیسیاں اور تیل کی صنعت

رپورٹ کے مطابق 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان سے انتخابی مہم کے لیے بڑے مالی تعاون کی درخواست کی۔

اقتدار میں واپسی کے بعد ان کی حکومت نے فوسل فیول کی پیداوار پر عائد متعدد پابندیاں ختم کیں، نئی ڈرلنگ کی اجازت میں آسانیاں پیدا کیں، کئی ماحولیاتی ضوابط نرم کیے اور تیل کمپنیوں کے خلاف ماحولیاتی مقدمات کی مخالفت کی۔

ماحولیاتی تنظیم ایورگرین ایکشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لینا موفٹ نے کہا کہ انہی پالیسیوں کے باعث تیل کمپنیاں آج اربوں ڈالر کا اضافی منافع سمیٹ رہی ہیں۔

کیا ٹرمپ خود بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی 2025 کی مالیاتی تفصیلات میں ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال اپنی ذاتی سرمایہ کاری میں اضافہ کرتے ہوئے تیل کمپنی ایکسون موبل کے 30 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کے شیئرز خریدے اور شیورون میں 12 لاکھ 50 ہزار سے 60 لاکھ ڈالر تک سرمایہ کاری کی۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں کا مطالبہ

ڈیموکریٹ سینیٹر شیلڈن وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے رکن رو کھنہ نے تجویز دی ہے کہ ایران جنگ کے باعث حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع پر خصوصی ٹیکس عائد کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکی شہریوں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ریلیف دینے پر خرچ کی جائے۔

رو کھنہ نے اس سے قبل پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے دوران امریکی پٹرول کی برآمدات روکنے کا بل بھی پیش کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح امریکی عوام کے لیے پٹرول کی قیمتیں کم رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی "انرجی ڈومیننس" پالیسی کا مقصد سستی، محفوظ اور قابل اعتماد توانائی فراہم کرنا ہے، جبکہ تیل و گیس کی پیداوار بڑھانا قیمتیں کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت تیل یا گیس کی برآمدات پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

عوام پر کتنا بوجھ پڑا؟

براؤن یونیورسٹی کے ایک ٹریکر کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی شہری پٹرول کی مد میں 78 ارب ڈالر سے زائد اضافی رقم ادا کر چکے ہیں۔

دوسری جانب کلائمیٹ پاور اور سینٹر فار امریکن پروگریس ایکشن فنڈ کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی توانائی پالیسیوں کے باعث اوسط امریکی خاندان کو پٹرول پر 285 ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑا ہے۔

 

Load Next Story