بات چیت ، مسئلہ کا حل

1990کا سال کراچی کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز تھا۔

1990کا سال کراچی کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز تھا۔ پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قائم تھی۔ مہاجر قومی موومنٹ MQM نے پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے میں مدد کی تھی، یوں وفاق اور صوبہ سندھ میں ایم کیو ایم حکومت کا حصہ تھی مگر دونوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد IJI میں شمولیت اختیار کرلی گئی تھی اور آئی جے آئی غلام مصطفی جتوئی، نواز شریف اور نصر اﷲ خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مہم شروع کرچکی تھی۔ کراچی سمیت پورے سندھ میں امن و امان کی صورتحال خراب تھی۔ کراچی میں لسانی، مذہبی اور دیگر وجوہات کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ جاری تھی۔ کراچی یونیورسٹی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے 3کارکنوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ ان طلبہ کے قتل کا الزام ایم کیو ایم کے ایک رکن صوبائی اسمبلی پر عائد کیا گیا تھا۔ اس وقت اندرونِ سندھ ڈاکوؤں کا راج تھا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔

اس عدم اعتماد کے پیچھے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان متحرک تھے۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اور تحریک استقلال کے چیئرمین ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے ایک بینک اسکینڈل کا انکشاف کیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لیے بینک سے رقم لے کر قومی اسمبلی کے اراکین میں تقسیم کی گئی تھی۔ 1991ء میں صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو برطرف کیا۔ غلام مصطفی جتوئی کو نگراں وزیر اعظم مقرر کیا گیا اور ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ جنرل اسلم بیگ ریٹائر ہوئے اور جنرل آصف نواز نئے چیف آف اسٹاف مقرر ہوئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما جام صادق وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

 سندھ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، یوں پورے صوبے میں آپریشن شروع ہوا۔ اندرونِ سندھ ڈاکوؤں کا صفایا ہونے لگا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔ ایم کیو ایم کے بیشتر رہنما انڈرگراؤنڈ ہوگئے۔ اس آپریشن کے آغاز سے قبل ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین اچانک لندن چلے گئے۔ ایم کیو ایم کے ایک رہنما آفاق احمد نے اپنے قائد سے بغاوت کا فیصلہ کیا اور پورے شہر میں آفاق کے جنگجوؤں نے ایم کیو ایم کے دفاتر پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ اس دوران متحارب گروپوں میں جھڑپوں میں ایم کیو ایم کے کئی کارکن جاں بحق ہوئے۔

ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم طارق منظرِ عام پر آگئے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایک ایسے مشن پر تھے کہ ایم کیو ایم اور مقتدرہ کے درمیان صلح ہوجائے اور کراچی کے حالات معمول پر آجائیں۔ کہا جاتا ہے کہ عظیم طارق کی قیام گاہ پر ایم کیو ایم کے کارکن پہرہ دیتے تھے۔ ان میں ایک رہنما وہ بھی شامل تھے جو آج کل ایم کیو ایم کے ایک گروپ کے روحِ رواں ہیں۔ یکم مئی 1993ء کو نامعلوم افراد نے رات گئے ان کی قیام گاہ میں داخل ہو کر عظیم طارق کو قتل کردیا۔ کراچی کے ہزاروں نوجوانوں کی طرح ایم کیو ایم کے بانی اراکین میں سے ایک عظیم طارق کے قاتلوں کا بھی پتہ نہیں چل سکا۔

 آفاق احمد اور الطاف حسین کے گروپوں کی لڑائی پورے شہر میں پھیل گئی۔ لائنز ایریا، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور لانڈھی کے علاقوں کے دفاتر پر آفاق احمد کے حامیوں نے قبضہ کرلیا۔ شہر بھر میں ایم کیو ایم کے منتخب گروہوں میں خون ریز جھڑپیں معمول بن گئیں۔ اس کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی بھی لہر آئی۔ یکم جولائی 1997ء کو الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کا نام ترک کر کے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیا مگر آفاق حمد نے اپنے گروپ کا نام تبدیل نہیں کیا۔ ان دنوں کراچی کے حالات اتنے خراب تھے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے جو کارکن اور ہمدرد ان علاقوں میں رہتے تھے جن پر اب آفاق احمد کے گروپ کا قبضہ تھا ان کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ کئی کارکن ہلاک کردیئے گئے اور کئی کے گھروں پر قبضہ ہوگیا جب کہ بہت سے لوگ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

متحدہ کے بہت سے کارکن ایسے تھے جن کے خاندان والے اپنے گھروں میں مقیم رہے مگر ان برسوں محفوظ ٹھکانوں پر زندگی گزارنی پڑی۔ ایسی ہی صورتحال آفاق احمد کے حامیوں کے ساتھ ہوئی۔ اس دوران کچھ بین الاقوامی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔ برطانیہ نے چین کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اپنی نوآبادی ہانگ کانگ پر قبضہ کے 90 سالہ معاہدہ کی تجدید نہیں کرے گا اور یکم جون 1997کو برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کردیا۔ اس وقت چین میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل Jiang Zemia اور پریمیئر LiPeng اور اس وقت چین کے مرد آئن Deng Klaoping کے چین کی سیاست پر گہرے اثرات تھے۔

اگرچہ کہ ڈینگ سیاؤپنگ نے ہانگ کانگ کو کنٹرول میں لینے کے باوجود وہاں کے نظام میں تبدیلی نہ کرنے کے لیے ایک الگ حکومت اور دو نظام کا نعرہ دیا مگر کراچی کے نوجوانوں کو یہ فلسفہ پڑھایا گیا کہ کراچی ہانگ کانگ بن سکتا ہے، اس بناء پر کراچی پر مکمل قبضہ ضروری ہے۔ اس نظریہ کی بناء پر کراچی میں پھر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے لگی۔ نوجوان جنگجو محلوں میں بجلی فراہم کرنے والے ٹرانسفارمروں اور پی ٹی سی ایل کے کنکشن والی کیبل کو کلاشنکوف یا رائفل کی فائرنگ سے اڑادیتے تھے۔ سرکاری سیکیورٹی اہلکار محلوں کا گھیراؤ کرتے تھے۔ ایم کیو ایم کے دونوں متحارب گروپوں کے درمیان مسلح جھڑپیں عام سی بات بن گئی۔ یہ صورتحال بے نظیر بھٹو کی تیسری حکومت میں کسی حد تک کم ہوئی۔ ایم کیو ایم کے متحارب گروپوں میں جھڑپیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور تک جاری رہیں۔

 سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں کراچی میں نو گو ایریا ختم ہوئے اور بہت سے کارکن اپنے آبائی گھروں میں رہنے کے قابل ہوئے ۔ اس صدی کے آغاز میں مصطفی کمال نے اپنی الگ جماعت پاک سرزمین پارٹی بنالی تھی۔ مصطفی کمال نے گزشتہ سال اپنی جماعت کو ایم کیو ایم میں ضم کردیا تھا، جب سے ایم کیو ایم کے دو گروپ ہیں۔ ایک گروپ کی قیادت مصطفی کمال اور دوسرے گروپ کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کررہے ہیں۔ ایک اخباری خبر نے سب کو پریشان کردیا کہ کراچی پھر 1991 اور 1992کی سیاست کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

اس خبر کے متن کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتوار کو ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد پر اسلحہ کے استعمال نے نہ صرف ایم کیو ایم کے کارکنوں بلکہ تمام شہریوں اور مرکز کے اطراف میں رہنے والے مکینوں کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ صورتحال ایم کیو ایم کے ہمدردوں کے لیے کرب کا باعث بن گئی ہے ۔ پولیس نے ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک کارکن بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے مقدمہ میں طویل عرصہ تک جیل میں قید رہنے کے بعد رہا ہوا ۔

 ایم کیو ایم کے ذرائع کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم کے اندرونی انتخابات کے لیے اکتوبر کی تاریخ دی ہے۔ یہ گروہ بندی ان ہی انتخابات کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر بیوروکریٹ اور ایم کیو ایم کے سابق معمر رہنما سید سردار احمد کی مداخلت سے دونوں گروپوں کے درمیان سیزفائر ہوا ہے ۔ کراچی کے عوام چاہتے ہیں کہ دونوں گروپ اسلحہ کے بجائے بات چیت سے مسئلہ حل کریں اور کراچی میں حقیقی امن قائم رہے۔

Load Next Story