ملتانی مٹی ہی ہے نکھری جلد کا راز، گھر پر بنائیں آسان فیس ماسکس
خوبصورت، صاف اور تروتازہ جلد کے لیے مہنگی مصنوعات کا استعمال ہی واحد حل نہیں۔ ملتانی مٹی ایک عرصے سے گھریلو بیوٹی رُوٹین کا حصہ رہی ہے اور خاص طور پر چکنی جلد رکھنے والے افراد اسے اضافی تیل اور جلد کی صفائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کو ہفتے میں کبھی کبھار جلد کی صفائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے جلد کی تمام بیماریوں کا علاج سمجھنا درست نہیں۔ خوبصورت اور صحت مند جلد کے لیے صفائی، مناسب موئسچرائزنگ، متوازن غذا اور سورج کی شعاعوں سے تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
چکنی جلد کے لیے مفید
چکنی جلد پر اضافی آئل کی وجہ سے چہرہ جلدی چکنا نظر آنے لگتا ہے اور بعض افراد کو دانوں کی شکایت بھی رہتی ہے۔ ملتانی مٹی اپنی جاذب خصوصیات کی وجہ سے اضافی تیل کو جذب کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ملتانی مٹی میں مناسب مقدار میں پانی یا گلاب کا پانی شامل کر کے ہلکا سا پیسٹ بنایا جا سکتا ہے۔ اسے چہرے پر لگائیں اور مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے دھو لیں۔
نرم اور تازہ جلد کے لیے ماسک
اگر آپ جلد کو صاف اور نرم محسوس کرنا چاہتی ہیں تو ملتانی مٹی میں شہد شامل کیا جا سکتا ہے۔ شہد جلد کو خشکی سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ملتانی مٹی چہرے کی سطح سے اضافی تیل اور گردوغبار دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ماسک کو چند منٹ کے لیے چہرے پر لگائیں اور پھر نیم گرم پانی سے دھو لیں۔
دانوں والی جلد کے لیے
کیل مہاسوں کی صورت میں جلد پر بہت زیادہ چیزیں آزمانے کے بجائے سادہ رُوٹین اپنانا بہتر ہے۔ ملتانی مٹی کو پانی کے ساتھ ملا کر کبھی کبھار استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر جلد پر شدید دانے، سوزش یا جلن ہو تو گھریلو نسخوں کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا چاہیے۔
اسکرب کے طور پر استعمال
ملتانی مٹی کو پسے ہوئے بادام جیسے نرم اجزا کے ساتھ ملا کر فیس ماسک کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن چہرے کو زور سے رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سخت اسکرب جلد کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر کے جلن پیدا کر سکتا ہے۔
سن ٹین اور بے رونقی کے لیے
دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کے بعد جلد بے رونق یا قدرے ٹینڈ دکھائی دے سکتی ہے۔ ملتانی مٹی کا سادہ ماسک جلد کو صاف اور تازہ محسوس کرا سکتا ہے، تاہم یہ سن ٹین ختم کرنے کا مستقل علاج نہیں۔
دھوپ سے جلد کو محفوظ رکھنے کے لیے سن اسکرین کا باقاعدہ استعمال زیادہ اہم ہے۔
حساس جلد والے افراد یہ بات ضرور یاد رکھیں
ہر قدرتی چیز ہر جلد کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ حساس جلد پر ملتانی مٹی یا اس میں لیموں، ٹماٹر اور دیگر تیز اجزا شامل کرنے سے جلن یا الرجی ہو سکتی ہے۔
اس لیے کسی بھی نئے ماسک کو چہرے پر لگانے سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر پیچ ٹیسٹ کرنا بہتر ہے۔ جلن، خارش یا سرخی محسوس ہو تو اسے فوراً دھو دیں۔