امریکی سینیٹ میں ایک بار پھر ایران جنگ ختم کرنے کیلئے قرارداد پیش
امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے ایک بار پھر جنگی اختیارات کی قرارداد پیش کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سینیٹ اس سے پہلے بھی ایران جنگ کے حوالے سے قراردادوں پر ووٹنگ کر چکی ہے۔ 30 جولائی کو سینیٹ نے 49-50 ووٹوں سے سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کی قرارداد کو آگے بڑھانے سے روک دیا تھا۔
اس قرارداد کا مقصد ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر مجبور کرنا تھا، جب تک کانگریس باقاعدہ جنگ یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے۔
امریکی قانون کے تحت وار پاورز ریزولوشن کانگریس کو صدر کے جنگی اختیارات پر نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔ قرارداد کے حامی سینیٹرز کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف طویل فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے۔
اس اقدام کا مقصد امریکی فوج کو ایران کے خلاف ایسی کارروائیوں سے روکنا ہے جنہیں کانگریس نے باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا۔ تاہم، ماضی کی طرح اس قرارداد کو بھی ریپبلکن اکثریت کی مخالفت کا سامنا ہے. اس سے پہلے جون میں سینیٹ نے پہلی مرتبہ ایران جنگ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں 50-48 ووٹ آئے تھے۔ اس قرارداد میں صدر سے کہا گیا تھا کہ کانگریس کی جنگی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں سے امریکی فوج واپس بلائی جائے۔