’آج کیا پکائیں؟‘ کیا آپ بھی ہیں اس سوال سے پریشان؟

جب خاتونِ خانہ گھر کے مردوں سے پوچھتی ہیں کہ ’آج کیا بنائیں؟‘ اور جواب ملتا ہے ’کچھ بھی بنا لو‘

گھروں میں روزانہ کھانے کی تیاری سے پہلے سامنے آنے والا سوال ’آج کیا پکائیں؟‘ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن اکثر خواتین کے لیے یہ روز کا ایک نیا امتحان بن چکا ہے۔ گھر کے تمام افراد کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کھانا تیار کرنا جو سب شوق سے کھا لیں، خاص طور پر موجودہ مہنگائی میں، آسان کام نہیں۔

کھانا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن روزانہ ایک ہی طرح کی ڈش سے اکتاہٹ بھی پیدا ہوجاتی ہے اور گھر کے افراد ہر روز کچھ نیا اور مزیدار کھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دلچسپ صورتحال اس وقت بنتی ہے جب خاتونِ خانہ گھر کے مردوں سے پوچھتی ہیں کہ ’آج کیا بنائیں؟‘ اور جواب ملتا ہے ’کچھ بھی بنا لو‘، لیکن کھانا سامنے آنے کے بعد پسند نہ آنے پر وہی لوگ منہ بھی بنا لیتے ہیں۔

اس روزمرہ کی پریشانی سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پورے ہفتے کا مینیو پہلے سے طے کرلیا جائے۔ سات دنوں کے لیے کھانے کا ایک سادہ شیڈول بنا کر روزانہ کی سوچ بچار سے جان چھڑائی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی گھر کے بجٹ کو بھی بہتر انداز میں قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

ہفتہ وار مینیو میں مختلف اقسام کے کھانے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک دن سبزی، دوسرے دن چکن، تیسرے دن دال، چوتھے روز چاول کی کوئی ڈش، پانچویں دن مچھلی، چھٹے دن گوشت جبکہ ویک اینڈ پر گھر کے افراد کی پسند کی کوئی خصوصی ڈش رکھی جاسکتی ہے۔ اس طرح کھانے میں تنوع بھی برقرار رہے گا اور ہر روز ’آج کیا پکائیں؟‘ سوچنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

بچوں کے لیے کھانے کا انتخاب کرتے وقت ان کی پسند کے ساتھ غذائیت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر بچے سبزیاں کھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تو انہیں چکن کے ساتھ ملا کر تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح بچے اپنی پسندیدہ چکن ڈش کے ساتھ سبزی بھی آسانی سے کھا سکتے ہیں اور انہیں ضروری غذائی اجزا بھی مل جاتے ہیں۔

گھر کے مردوں کی پسند کو بھی ہفتہ وار مینیو میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ ایک ہی قسم کے کھانے سے جلد اکتا جاتے ہیں تو گوشت کو کبھی دال کے ساتھ، کبھی سبزی کے ساتھ یا مختلف انداز میں تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس معمولی سی تبدیلی سے ایک ہی بنیادی اجزا سے مختلف ذائقے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

موجودہ کمر توڑ مہنگائی میں پہلے سے مینیو ترتیب دینا نہ صرف روزمرہ کی مصروفیت کم کرسکتا ہے بلکہ خریداری کو بھی بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح ضرورت کے مطابق اشیا خریدی جاسکتی ہیں، غیر ضروری اخراجات سے بچا جاسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر روزانہ ’آج کیا پکائیں؟‘ کا سوال بھی ذہنی کوفت کا باعث نہیں بنے گا۔

Load Next Story