امریکا جب تک ایران کی تمام شرائط نہیں مان لیتا، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی؛ پاسدارانِ انقلاب

ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ ہے

ایران کی نئی شرط، امریکا شرائط مانے تو آبنائے ہرمز کھلے گی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت مکمل طور پر کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بات پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے براہِ راست منسلک نہیں اور کسی بیرونی فریق کو ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

حسین محبی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ اگر دشمن ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے تو ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک عارضی انتظام پر اتفاق کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے بحری انتظام کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اس کے مکمل نفاذ کے لیے مزید معاملات طے ہونا باقی ہیں۔

قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران، امریکا اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گا تھا کہ یہ مجوزہ انتظام تقریباً 60 روز کے لیے ہو سکتا ہے جس میں بعد ازاں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے۔

ایگزیوس کے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور عمان محدود بحری انتظام کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کی مکمل اور معمول کے مطابق بحری آمدورفت کی بحالی ابھی حتمی معاہدے، ایرانی قیادت کی منظوری اور امریکا و ایران کے درمیان بنیادی اختلافات کے حل سے مشروط ہے۔

Load Next Story