بھارت؛ سوشل میڈیا پر دوستی اور نازیبا تصاویر؛ خاتون پر کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام
بھارتی خاتون پر سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے مبینہ بلیک میلنگ اور کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام ہے
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک خاتون کے خلاف سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے لوگوں سے دوستی کرکے انہیں مبینہ طور پر بلیک میل کرنے، کروڑوں روپے وصول کرنے اور سنگین مقدمات میں پھنسانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کی شناخت پلوی سنگھ راجپوت کے نام سے ہوئی ہے اور اس کے خلاف شکایت ایک ہائی کورٹ کے وکیل کی جانب سے درج کرائی گئی جس کے بعد پولیس نے مبینہ بھتہ خوری کے اس نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پلوی سنگھ مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپس اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں سے رابطہ کرتی، دوستی بڑھاتی اور ملاقات کے دوران ان کی نجی تصاویر یا ویڈیوز بنواتی تھی۔
الزام ہے کہ بعد میں انہی تصاویر اور ویڈیوز کو بنیاد بنا کر متاثرہ افراد سے رقم طلب کی جاتی اور ادائیگی سے انکار کی صورت میں انہیں جنسی زیادتی یا اقدامِ قتل جیسے سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
6 کروڑ روپے سے زائد وصولی کا دعویٰ
شکایت میں خاتون پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے مختلف افراد سے مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کی گئی۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ مقدمات درج ہونے اور قانونی کارروائی کے خوف کو مبینہ طور پر رقم حاصل کرنے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
شکایت کنندہ کے مطابق خاتون کی جانب سے درج کرائی گئی بعض شکایات کے نتیجے میں 5 افراد کو جیل بھی جانا پڑا تاہم ان تمام معاملات کی قانونی حیثیت اور الزامات کی حقیقت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔
مبینہ گروہ میں مزید افراد شامل
تحقیقات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق خاتون مبینہ طور پر مختلف ناموں سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرتی تھی۔
شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں دو خواتین اور دو مرد اس کے معاون تھے جو ممکنہ متاثرین سے رابطے، ملاقاتوں یا دیگر مراحل میں کردار ادا کرتے تھے۔
پولیس نے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے اور دستیاب شواہد، شکایات اور متعلقہ افراد کے بیانات کی بنیاد پر مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
معاملہ کیسے سامنے آیا؟
رپورٹس کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کا معاملہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب ایک ہائی کورٹ کے وکیل نے پولیس سے شکایت کی۔
شکایت میں مبینہ طور پر بلیک میلنگ، بھتہ خوری اور جھوٹے مقدمات کے ذریعے لوگوں پر دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی خاتون سے متعلق مختلف دعوے گردش کرنے لگے تاہم ان میں سے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
بھارتی میڈیا میں خاتون کا نام اس سے قبل بھی مختلف تنازعات کے حوالے سے سامنے آچکا ہے۔ 2026 میں اس کے ایک خاندانی تنازع کے دوران پانی کی ٹنکی پر چڑھنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا جس پر پولیس نے مداخلت کی تھی۔
پولیس کی تحقیقات جاری
حکام نے تاحال اس معاملے میں سامنے آنے والے تمام الزامات کو ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا۔ پولیس کی تحقیقات میں مبینہ متاثرین کے بیانات، مالی لین دین، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور درج مقدمات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔