گڈز ٹرانسپورٹ کی ملک گیر ہڑتال کا آغاز، مطالبات کی منظوری تک جاری رکھنے کا اعلان

ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں اور7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 2 فیصد کیا جائے

فوٹو: ایکسپریس

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی اعلان کردہ ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ہفتے کو پورے پاکستان میں شروع ہو گئی ہے اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ وزیر پیٹرولیم اور پنجاب کے وزیر بلال اکبرخان کے استعفے کامطالبہ کرتے ہیں، مریم اورنگزیب بھی مستعفی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ٹرالر سالانہ 24 لاکھ روپے ٹول ٹیکس ادا کرتا ہے، ای چالان کے نام پر ٹرانسپورٹرزکے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، دو دن میں مطالبات تسلیم نہیں کیے تو تمام صوبوں کے گورنر ہاؤسز کی طرف مارچ کریں گے، دسمبر میں دھوکا ہوا جنہوں نے وعدےکیے تھے ان سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال شروع کر دی ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں مال بردار گاڑیاں کھڑی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ اس وقت جو گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، ان میں بعض گاڑیاں پہلے سے لوڈ شدہ مال، ایکسپورٹ کے کنٹینرز اور ایم ٹی کنٹینرز اپنی منزل تک پہنچانے یا اتارنے کے عمل میں ہیں، یہ گاڑیاں اپنا موجودہ مال اتارنے کے بعد کل تک کھڑی ہو جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھیں گے اور حکومت کو چاہیے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز متحد ہیں اور مطالبات کی منظوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، دسمبر2025 کے پہیہ جام ہڑتال کے بعد مذاکرات کےدوران حکومت نےمطالبات کی منظوری کا وعدہ کیا تھا مگر اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کو وفاقی وزیر عبدالعلیم کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی حکومتی یقین دہانی کو نوٹیفیکشن کے بغیر کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ کے مطابق ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں اور ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے مذاکرات ہوئے، تاہم مذاکرات میں کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی اور اجلاس بے نتیجہ رہا تاہم مذاکرات کا اگلا دور پیر کو متوقع ہے جبکہ اس دوران پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مطالبات ہیں کہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کا فیصلہ واپس لے کر قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کیا جائے، یکم جون 2024 کے ٹول ٹیکس نرخ بحال کیے جائیں اور ٹول ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کیا جائے اور آئندہ ایک سال کے لیے نئے ٹول پلازے قائم نہ کیے جائیں۔

گڈز ٹرانسپورٹرز پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 2 فیصد کیا جائے، ملک بھر میں ایکسل لوڈ قوانین کا یکساں اور مؤثر نفاذ یقینی بنایا جائے اور اوورلوڈنگ کو سورس پوائنٹس سے کنٹرول کیا جائے، ٹرانسپورٹرز پر عائد ظالمانہ اور کاروبار دشمن کسٹمز قانون واپس لیا جائے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہے اور ٹرانسپورٹرز اپنے جائز اور آئینی مطالبات کی منظوری کے لیے متحد ہیں اور اتحاد کا دوٹوک مؤقف ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن مطالبات کی منظوری تک پہیہ جام ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔

اتحاد نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں سنجیدہ اور عملی پیش رفت کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کا نظام بحال ہوسکے۔

Load Next Story