کولمبیا کے دائیں بازو کے نئے صدر کا پہلا دن؛ ٹرمپ نے اپنے دوست پر ڈالرز کی بارش کردی

کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا نے منظم جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا

کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا حلف برداری کے بعد خطاب کر رہے ہیں

کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا نے عہدہ سنبھالتے ہی جرائم اور منشیات کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کردیا جس پر امریکا نے ایک ارب ڈالر کے سیکیورٹی امدادی پیکیج کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مالی معاونت کولمبیا کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا حصہ ہے جس کا مقصد منظم جرائم، منشیات سے جڑے مسلح گروہوں اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات کو تقویت دینا ہے۔

نئے صدر نے جمعے کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور افتتاحی خطاب میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں مجرموں کو خود کو محفوظ سمجھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ نئے صدر دائیں بازو کے رہنما ابیلاردو دے لا ایسپریئیا نے بائیں بازو کے سابق صدر گستاوو پیٹرو کی جگہ لی ہے جن کے دور میں امریکا سے تعلقات میں متعدد بار کشیدہ ہوگئے تھے۔

تاہم نئے صدر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ جنھوں نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ابیلاردو دے لا ایسپریئیا کی حمایت کی تھی اور کامیابی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی تھی۔

دے لا ایسپریئیا نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ قریبی دفاعی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

صدر بننے کے بعد اپنے ابتدائی اقدامات میں دے لا ایسپریئیا نے اعلان کیا کہ کولمبیا ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے سکیورٹی اتحاد شیلڈ آف دی امیریکنز میں شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کولمبیا کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت کے ساتھ منشیات سے منسلک مسلح اور جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائی میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

امریکا نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملک سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے رابطہ مزید بڑھائیں گے جبکہ امریکا نے کولمبیا کی نئی حکومت کے معاشی ترقی کے منصوبوں کو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کا موقع قرار دیا۔

دارالحکومت کے بجائے کیلی میں حلف

دے لا ایسپریئیا نے روایتی طور پر دارالحکومت بوگوٹا میں حلف اٹھانے کے بجائے مغربی شہر کیلی کا انتخاب کیا جہاں مسلح گروہوں اور جرائم کے مسائل نمایاں رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقام کا انتخاب ملک میں مسلح گروہوں کے خلاف سخت پالیسی کا پیغام دینے کے لیے کیا گیا۔

فوجی اڈے کے قریب اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے مسلح باغی گروہوں کے خلاف کارروائی، ملک کی تعمیر نو اور جمہوریت کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔

انھوں نے اپنے لیے استعمال ہونے والے لقب ’ٹائیگر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ریاست جرائم کے خلاف فیصلہ کن اور طاقتور انداز اختیار کرے گی۔

کولمبیا کے نئے صدر کون ہیں؟

ابیلاردو دے لا ایسپریئیا روایتی سیاسی نظام سے باہر سے آنے والے رہنما ہیں اور اس سے قبل کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے۔

وہ کئی برس امریکا میں رہے اور 2023 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ وکیل کے طور پر کام کرتے رہے اور ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں ایسے افراد کی قانونی نمائندگی بھی شامل رہی جنہیں منشیات اور مسلح جرائم سے جوڑا جاتا تھا۔

ان کا سیاسی انداز انتہائی جارحانہ اور ڈرامائی قرار دیا جاتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران وہ فوجی انداز میں سلام کرتے اور کولمبیا کی قومی فٹبال ٹیم کی شرٹ پہن کر عوامی اجتماعات میں نظر آتے رہے۔

Load Next Story