سمندری تابوتوں کا سفر
وہ اپنے ہاتھ جوڑے، سر جھکائے دعا میں مصروف تھا، گویا اپنے خدا سے اپنے فیصلے پر مہر تصدیق چاہ رہا ہو۔ کافی دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھا اور دروازہ کھولا۔ باہر شدید سرد ہوائیں چل رہی تھیں، وہ آج ایک عزم کر کے اُٹھا تھا۔یہ ایک آزمائش تھی جس سے وہ دوچار تھا اور اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔
نو افراد کے خاندان کو بھوک، بیماری اور افلاس سے نکالنے کے لیے اسے ایک سخت قدم اٹھانا تھا، اس کا فیصلہ تھا کہ اس ملک سے ہجرت ناگزیر ہے۔ ایک بحری جہاز جلد ہی آئرلینڈ کی بندر گاہ کارک سے نیویارک روانہ ہونے والا تھا،اس نے اپنے بچوں کو اسی جہاز پر روانہ کرنے کا عزم کیا۔
یہ ایک انتہائی تکلیف دہ فیصلہ تھا، مگر اب سامنے کوئی اور راستہ نہ تھا۔یہ اٹھارہ سو پینتالیس (1845) کا آئرلینڈ تھا۔ پورے جزیرے میں آلو کی فصل تباہ ہو چکی تھی جس نے کسانوں کی کمر توڑ دی تھی۔ جہاں کی سب سے بڑی اور واحد فصل ایک وائرس کی نذر ہو گئی تھی۔
یہ صرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ آئرلینڈ کے ہر گھر میں معاشی بدحالی تھی، جہاں بھوک اور افلاس نے ڈیرا ڈال لیا تھا۔ آئرلینڈ برطانیہ کی نوآبادیات میں سے تھا، جہاں انگریزوں نے غریب کیتھولک آئرش باشندوں کو آلو اُگانے پر مجبور کر رکھا تھا۔
مقامی افراد کو زمین کے مالکانہ حقوق نہیں دیے جاتے تھے؛ وہ صرف مزدوروں، کرایہ داروں اور دہقانوں کے طور پر کام کرتے تھے۔ فصل اچھی ہوتی تو اس میں سے اُنہیں اجرت ملتی اور فصل تباہ ہو جاتی تو کوئی دوسرا آمدنی کا ذریعہ نہ ہوتا۔ نہ اُن کے پاس اپنی ذاتی زمین تھی جہاں وہ اپنی مرضی کی فصل اُگا سکیں۔ یہ تھا انگریز کا قانون، اور یہ تھی انیسویں صدی کا آئرلینڈ۔
اس مشکل گھڑی میں لاکھوں آئرش باشندوں نے سمندر پار ممالک کی طرف ہجرت کرنا شروع کی اور خصوصاً امریکا، مگر سمندری سفر بھی آسان نہ تھا۔امریکا جانے والے جہازوں کے سفری حالات انتہائی ناسازگار تھے۔
گویا یہ سفر نہ تھا، موت کا پروانہ تھا۔ آٹھ ہفتوں کے اس مشکل سمندری سفر میں اوسطاً بیس فیصد مسافر سفر کی صعوبتیں برداشت نہ کر پاتے اور موت کی وادی میں گم ہو جاتے۔ اسی لیے ان بحری جہازوں کو ’’سمندری تابوت‘‘ (Coffin Ships) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
یہ سفر کسی کے لیے بھی خوشی کا باعث نہ تھا، مسافروں کے گرد موت رقص کرتی نظر آتی تھی۔ گھر والوں سے بچھڑنے کے بعد صرف خدا ہی جانتا تھا کہ دوبارہ اُن کی شکلیں دیکھنا نصیب ہوں گی بھی یا نہیں۔
دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی حالات بہت موافق نہ تھے، معاشی مجبوریاں ہر جگہ تھیں۔ اٹھارہ سو نوے (1890) میں جنوبی ہندوستان کا ایک دھان کا کسان، ایک تامل باشندہ، ملیشیا میں پانچ سالہ ملازمت کے معاہدے پر دستخط کرتا ہے۔
اسے اپنے گھر اور خاندان سے بچھڑنے کا کوئی شوق نہ تھا اور نہ ہی اسے ربڑ کے کھیتوں اور ٹین کی کانوں میں کام کرنے میں دلچسپی تھی، مگر غربت و افلاس کے آگے وہ بے بس تھا۔ فصل خراب ہوئی، لہٰذا سالانہ ٹیکس ادائیگی نہ کرنے کے جرم میں انگریزوں نے اس کے بیل اور زمین ہتھیا لیے تھے۔
آمدنی اور معاش کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ بارہ افراد کا خاندان اور وہ اکیلا کمانے والا۔ قربانی تو دینی تھی اور ان مشکل حالات میں اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنی تھی۔ اٹھارویں صدی میں یورپی اقوام نے غلامی کو غیر قانونی قرار دینا شروع کر دیا تھا۔
کسی نے جلدی اور کسی قوم نے بہت مجبوری میں بعد میں۔ برطانوی سلطنت میں اٹھارہ سو تینتیس (1833) میں غلامی پر پابندی کے بعد، برطانوی نوآبادیاتی علاقوں میں سستے مزدوروں کا ملنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔
جس کا حل یہ نکالا گیا کہ افریقہ اور ایشیا کے غریب اور مجبور لوگوں کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر دور دراز سمندر پار علاقوں میں کام کے لیے بھیج دیا جاتا، جہاں کے لیے واپسی ناممکن ہو جاتی۔ وہ قانونی طور پر غلام تو نہیں تھے کیونکہ غلامی دنیا بھر میں بتدریج غیر قانونی قرار دی جا چکی تھی، مگر ان مزدوروں کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر تھی۔
انتہائی معمولی اجرت دی جاتی، سخت موسم میں تکلیف دہ حالات میں زندگی گزرتی۔ ایسے مظلوم لوگوں کے پاس تین ہی راستے تھے یا تو وہ وہاں سے فرار کا راستہ اپنائیں یا موت کو گلے لگا لیں، یا پھر جہاں قسمت لے آئے، ان حالات سے سمجھوتہ کر کے محنت مزدوری کریں، اپنا پیٹ پالیں اور ایک نئی دنیا آباد کریں۔
آئرلینڈ کے وہ مجبور مسافر جو بحری تابوتوں میں موت کے شکنجے کو شکست دے کر امریکا پہنچے، بے روز گاری، بیماری، سخت ترین موسم اور بھوک کے باوجود جس بے مثال جواں مردی اور بہادری سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور نئی دنیا میں ایک مقام حاصل کیا، وہ انسانیت کی ایک روشن مثال ہے۔
ایسا ہی ایک آئرش خاندان، جو انیسویں صدی میں امریکا آیا، اس کا ایک فرد امریکا کا پینتیسواں صدر منتخب ہوا، جسے دنیا جان ایف کینیڈی کے نام سے جانتی ہے۔اگر ہم ذرا مشرق بعید کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں بھی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں کیرالہ کا ایک انگریزی کا استاد کیداہ کے شاہی خاندان کا استاد مقرر ہوتا ہے۔
کسی کو نہیں معلوم تھا کہ ایک دن ان کے خاندان کا ایک بیٹا ملیشیا کا وزیراعظم مہاتیر محمد ہوگا، جو ملک کا نقشہ ہی بدل دے گا، اور جسے نہ صرف ملائی قوم بلکہ دنیا بھر میں انتہائی عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان پر جب نظر ڈالتے ہیں تو دنیا نے لاکھوں انسانوں کی ہجرت ملک کے قیام کے وقت دیکھی، جسے بلاشبہ دنیا کی عظیم ترین ہجرت کہا جاتا ہے، جو دراصل ہندوستان کے عوام نے ایک نئے وطن کی طرف بخوشی کی تھی، البتہ ایک اور طرح کی معاشی ہجرت انیس سو ستر (1970) کی دہائی میں بھی ہوئی، جو تیل کی دولت سے مالا مال مشرق وسطیٰ میں خلیجی عرب ممالک کی طرف تھی۔
انیس سو اکہتر (1971) میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ملکی معیشت انتہائی کمزور ہو گئی تھی اور نئے روزگار کے مواقع بھی وافر نہ تھے۔ ان ہی دنوں خلیجی ممالک میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، نئی سڑکوں، عمارتوں، کارخانوں، ہوائی اڈوں اور مکانوں کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت درکار تھی۔
اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان نے ان ممالک کو اپنی افرادی قوت کی خدمات پیش کیں۔ لہٰذا پہلی بار پاکستانیوں کی ایک غیر معمولی تعداد ان ممالک میں روز گار کے لیے روانہ ہو گئی، گو کہ یہ ایک علیحدہ قسم کی ہجرت تھی، مگر وہاں بھی آزمائشیں تھیں جہاں موسمی حالات اور کام کے حالات انتہائی کٹھن اور مشکل تھے، مگر پاکستان کے محنت کشوں نے اس چیلنج کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور تکلیفیں بھی اٹھائیں۔
ان میں سے ایک بڑی تعداد، خصوصاً جو مزدور طبقے سے تعلق رکھتے تھے، اپنے خاندان سے دوری کی صعوبت بھی جھیلی۔ کئی سال تک اپنے خاندانوں سے ملاقات کرنے سے محروم رہتے تھے، مگر اس کے صلے میں خود ان محنت کشوں کو، ان کے خاندانوں کو اور ملک کو بھی معاشی آسودگی نصیب ہوئی۔
وطن بھیجی گئی رقم سے طرز زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئی اور معاشرے پر بھی ایک مثبت رجحان پیدا ہوا اور لوگوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور مقابلے کی فضا پیدا ہوئی۔ قحط، بیماری، معاشی تنگی ،سیاسی انتشار اور ظلم انسانی تاریخ کا حصہ ہے اور یہ ہی وہ عوامل ہیں جو ہجرت کا باعث ہیں ، مگر اس میں دو پہلو ایسے ہیں جن پر ذرا غور کرتے ہیں۔
اول یہ کہ آج سے دو صدیاں قبل تقریباً پوری دنیا کسی نہ کسی شکل میں یورپی اقوام کی غلامی اور استحصال کا شکار تھیں، جس میں خود ہمارا اپنا وطن بھی برطانوی غلامی کا شکار رہا۔ وہ تمام اقوام جو آج یورپ میں اپنے آپ کو مہذب اور قانون پسند کہتی ہیں اور انسانی حقوق کی چیمپئن نظر آتی ہیں انکا ماضی انسانیت کے احترام سے خالی نظر آتا ہے۔
انسانیت کے مقابلے میں دولت کی چمک اور لالچ ہی نمایاں نظر آتی ہے ۔ کس طرح انسانیت پر ظلم کیا گیا، انسانی بنیادی حقوق سلب کیے گئے، انسانوں سے جانوروں سے بد تر برتاؤ کیا گیا، اُن کی زمینوں پر قبضہ کر کے اُنہیں غلام بنا لیا گیا۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا
مگر میری توجہ کا دوسرا پہلو بہت مثبت اور روشن ہے۔ انسانی جدوجہد کے سبق آموز واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مشکل سے مشکل ترین گھڑی میں اگر انسان ثابت قدم رہے اور کوشش و محنت سے نہ گھبرائے، تو قدرت اس کے حالات بدل سکتی ہے۔ بلکہ جو قومیں ان امتحانات سے نہیں گزرتیں، وہ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے، ظلم کا نظام کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گا جو غریب اور ناتواں لوگوں کا استحصال کرتا رہے گا، مگر اسی نظام کے خلاف جب غریب اور کمزور لوگ استقلال، ہمت اور محنت کو اپنا وطیرہ بنا لیں، تو انھیں کامیابی سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ یہی وہ سبق ہے جو تاریخ ہمیں سکھاتی ہے۔
دمادم خویشتن را بر فسان زن
ز تیغ پاک گوھر تیز تر زی
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است