شدید گرمی اور خشک سالی سے فصلوں کے قدرتی دفاع کا اہم راز دریافت

نئی تحقیق کے مطابق اناج کی فصلیں شدید گرمی اور خشک سالی جیسے سخت موسمی حالات کا قدرتی طور پر مقابلہ کیسے کرتی ہیں

روس کی ساؤتھ یورل اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ اناج کی فصلیں شدید گرمی اور خشک سالی جیسے سخت موسمی حالات کا قدرتی طور پر مقابلہ کیسے کرتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق پودوں میں پیدا ہونے والے ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز(آر او ایس) نہ صرف خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ یہ دفاعی نظام کو فعال کرنے والے اہم سگنل کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گندم، چاول، جو، باجرا اور جوار جیسی اہم فصلیں موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور طویل خشک سالی سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس لیے یہ دریافت مستقبل میں زیادہ مضبوط اور موسمیاتی تبدیلی برداشت کرنے والی فصلیں تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آر او ایس پودوں کے جینیاتی نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں جو انہیں مستقبل میں دوبارہ شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ تیزی سے ردعمل دینے میں مدد دیتی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ ’اسٹریس میموری‘ آئندہ نسلوں تک منتقل ہونے کا امکان بھی رکھتی ہے جس سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والی فصلوں کی افزائش کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

Load Next Story