پیدل چلنے والے کہاں جائیں؟
فٹ پاتھ یعنی پیدل چلنے کا راستہ۔ قانونی اور اخلاقی لحاظ سے رہائشی ہو یا کہ کاروباری ہر عمارت کے آگے کم سے کم تین سے چھ فٹ جگہ چھوڑنی لازم ہے، جس پر چلنے والوں کا حق ہے۔ ٹریفک حادثات سے بچنے کے لیے فٹ پاتھ بنانا ضروری عمل ہوتا ہے۔
فٹ پاتھ نہ بنانا اور اس پر قبضہ کرنا قانونی و اخلاقی جرم ہے جس کی سزا قید و مالی جرمانہ ہے۔ فٹ پاتھ بنانے کا قانون بین الاقوامی ہے جو ہر ملک پر لاگو ہے جہاں سڑک کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ بھی لازمی بنایا جائے اور یہ فٹ پاتھ ڈبل روڈ بناتے وقت سڑک کے درمیان ہونا لازم ہے تاکہ سڑک پار کرتے وقت پیدل چلنے والے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر با آسانی ادھر ادھر دیکھ کر سڑک پار کرسکیں۔
ماضی قریب میں ہر چھوٹی بڑی سڑک کے کنارے اور درمیان میں فٹ پاتھ بنائے گئے تھے، جس پر پیدل چلنے والے بلا خوف و خطر چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ جس پر کھڑے ہوکر دائیں بائیں دیکھ کر سڑک پار کرلیا کرتے تھے۔
فٹ پاتھ کو شہریوں کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا، جس پر چل کر حادثات سے بچا جاسکتا تھا۔ شہر کراچی ماضی میں ایک بہترین شہر رہا ہے، جہاں کی سڑکیں کشادہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر دوڑتی ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کے باوجود فٹ پاتھ ہوا کرتے تھے۔
پھر کراچی بڑھتی ہوئی آبادی کا دبائو برداشت نہ کرسکا اور بے ہنگم شہر ہوگیا۔ سڑکیں سکڑنے لگی، فٹ پاتھ غائب ہونے لگے۔ حادثات بڑھتے گئے اور لوگ زخمی ہوتے اور مرتے رہے۔ بڑی بڑی رہائشی و کاروباری عمارات اور چھوٹی بڑی دکانیں بنتی رہی مگر فٹ پاتھ نہ بنائے جا سکے۔ جو فٹ پاتھ پہلے اپنا وجود رکھتے تھے ان پر کاروباری حضرات نے اپنا سامان رکھنا شروع کردیا اور کسی نے چھوٹا بڑا ٹھیہ لگا دیا۔
فٹ پاتھ قبضہ گیروں کے نرغے میں ہونے کی وجہ سے بیچارے پیدل چلنے والوں کی حالت غیر ہے۔ایک طرف عین سڑک کے درمیان پارکنگ مافیاز نے بری طرح سے قبضہ کیا ہوا ہے تو دوسری طرف بے ہنگم رش سے بھر پور ٹریفک جام تو کہیں تیز رفتار ٹریفک نے شہریوں کا چلنا محال کیا ہوا ہے۔ باقی تھوڑی جگہ جو بچتی ہے ان پر ریڑھی والوں کا قبضہ نظر آتا ہے، یعنی پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی جگہ بچی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔
ایسی حالت میں پیدل چلنے والے جائیں تو کہاں جائیں؟ پیدل چلنے والوں کے لیے پورا شہر کراچی نو گو ایریا بن چکا ہے،اسی وجہ سے بھی حادثات ہوتے رہتے ہیں۔سڑک پار کرنے والے پل بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اونچائی کی وجہ سے ضعیف شہری ان کی سیڑھیوں پر چڑھ نہیں سکتے۔ بعض سڑکوں کے درمیان درخت لگا دیے گئے ہیں جس وجہ سے رواں دواں ٹریفک کو دیکھنے میں دشواری رہتی ہے اور حادثات رونما ہوتے ہیں۔
کراچی کے کسی بھی علاقے میں جاکر دیکھیں ہر قدم پر قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور سر عام بے دردی سے شہریوں کے لیے مشکلات میں دن بہ دن اضافہ کیا جارہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نظر نہیں آتا۔کبھی کبھی میونسپل کے اہلکار تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے نظر آتے ہیں تو شہر کشادہ نظر آنے لگتا ہے،مگر یہ کارروائی ایک دو تین دن تک کی ہوتی ہے، اس کے بعد پھر وہی درد ناک مناظر نظر آنے لگتے ہیں۔
بعض اوقات تجاوزات مافیا کے بدمعاش میونسپل کارپوریشن اور پولیس کے اہلکاروں پر فائرنگ کرتے ہیں، بوتل بم ان پر گراتے ہیں ،ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ تجاوزات مافیاز دہشت گرد ہیں ، جنھوں نے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ ان تجاوزات مافیاز کی سر پرستی کی جاتی ہے جس کے عوض بھتہ ملتا ہے۔ سرپرستی کرنے والوں میں میونسپل کارپوریشن اور پولیس کے اہلکار ملوث ہیں،جو دو تین مہینے معطل ہونے کے بعد واپس بحال ہوکر یہی دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔
بھتہ کی یہ رقم کہاں کہاں تقسیم ہوتی ہیں؟ یہ کھلا راز ہے۔
بات صرف فٹ پاتھ کی عدم دستیابی تک محدود نہیں ہے۔ ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ پورے شہرمیں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے کھدائی ہوئی ہے۔ یہ الگ داستان ہے کہ برسوں بیت گئے ہیں، یہ ترقیاتی کام مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ گٹر کے ڈھکن تک غائب ہیں جہاں پیدل چلنے والے شہری روز گرتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔
اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ شہر کراچی نہیں بلکہ موت کا کنواں ہے۔ مرگیا تو شہید،زندہ بچ گیا تو غازی۔