نئے صوبے

نتیجہ یہ ہے کہ اقتدار کے ہر منصب کے امیدوار بھی آبادی کی رفتار سے بڑھتے چلے گئے ہیں

sohailyaqoob

مجھے یہ لکھتے ہوئے دلی مسرت ہو رہی ہے کہ حکومت اور عوام شاید پہلی مرتبہ کسی بنیادی مسئلے پر ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں۔ یہ اتفاق اس وقت سامنے آیا جب یہ بات کہی گئی کہ ’’ہمارا موجودہ نظامِ حکمرانی عملاً ناکام اور کولیپس کر چکا ہے۔‘‘ یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ طرز حکمرانی ملکی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، اس لیے نئے صوبے اور انتظامی یونٹ قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

یہ سن کر شاید عوام نے بھی دل ہی دل میں کہا ہوگا کہ جناب! یہ بات تو ہم برسوں سے کہتے آئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری آواز کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، اگر واقعی نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر یہ سوال اپنی پوری اہمیت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ نئے صوبے بنانا کس کی ضرورت ہے؟

یہی سوال میرے کالم کا محور ہے، اگر نظام کو چلانے والے ہی اسے ناکام اور زمیں بوس قرار دے دیں تو پھر عوام کس کے دروازے پر دستک دیں؟ عوام کا تو نہ اس نظام کی تشکیل میں کوئی کردار تھا اور نہ اس کی سمت متعین کرنے میں۔ انھوں نے تو ہر دور میں صرف تالیاں بجائیں، زندہ باد کے نعرے لگائے اور جب ضرورت پڑی تو کسی کے کہنے پر مردہ باد بھی کہہ دیا۔

1970 کی دہائی میں صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینا بھی ریاست کا فیصلہ تھا، اور آج یہی ریاست کہتی ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں۔ پالیسیاں بدلتی رہیں، حکومتیں بدلتی رہیں، نظریات بدلتے رہے، لیکن عوام کا کردار نہیں بدلا۔ وہ کل بھی تماشائی تھے اور آج بھی تماشائی ہیں۔

ہم ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ تقریباً ہر بااثر طبقہ کبھی نہ کبھی اقتدار اور نظام کا حصہ رہا ہے۔ کبھی جاگیردار، کبھی صنعتکار، کبھی وڈیرے، کبھی بیوروکریسی، کبھی آمر اور کبھی سیاست دان۔

ہم نے پارلیمانی نظام بھی آزمایا، صدارتی نظام بھی اور ایسے کئی غیر روایتی تجربات بھی کیے جن کا جمہوریت سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا، اگر کوئی مسلسل نظام سے باہر رہا تو وہ صرف پاکستان کا عام شہری تھا، جس کے نام پر اقتدار حاصل کیا جاتا رہا لیکن جسے اقتدار میں کبھی شریک نہیں کیا گیا۔

اب ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے صوبے بنائے جائیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی تقریباً سات سے آٹھ کروڑ تھی، جو آج بڑھ کر پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ صوبے آج بھی صرف چار ہیں، اس لیے بہتر انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

یہ دلیل بظاہر معقول معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی انتظامی دباؤ میں بھی اضافہ کرتی ہے، لیکن میں نے اس پر بہت غور کیا اور ایک مختلف نتیجے پر پہنچا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی طرح ہمارے سیاست دانوں نے بھی خاندانی منصوبہ بندی پر کبھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔

نتیجہ یہ ہے کہ اقتدار کے ہر منصب کے امیدوار بھی آبادی کی رفتار سے بڑھتے چلے گئے ہیں۔ اب ان سب کے لیے جگہ درکار ہے، لہٰذا شاید نئے صوبے بھی ناگزیر ہو گئے ہیں۔ آخر اقتدار کے مساوی مواقع بھی تو فراہم کرنے ہیں۔

یہ طنز اپنی جگہ، لیکن اصل سوال اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ دنیا کے مہذب ممالک میں مقننہ کا بنیادی کام گٹر کے ڈھکن لگوانا، نالیاں صاف کروانا یا سڑکیں بنوانا نہیں ہوتا۔ ان کی ذمے داری قانون سازی، پالیسی سازی، ریاست کے مستقبل کی منصوبہ بندی اور عوامی مفادات کا تحفظ ہوتی ہے۔

شہری سہولتیں، صفائی، پانی، ٹرانسپورٹ، پارک، سڑکیں اور مقامی ترقیاتی منصوبے مضبوط بلدیاتی ادارے چلاتے ہیں، جن کے پاس اختیارات بھی ہوتے ہیں، وسائل بھی اور جوابدہی بھی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہم نے سب سے کمزور کڑی ہی بلدیاتی نظام کو بنایا۔ اختیارات اوپر جمع ہوتے گئے اور نچلی سطح پر ادارے محض رسمی حیثیت اختیار کرتے گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے قانون سازی کے بجائے گلی، نالی، گٹر اور سڑکوں کے مطالبات کرنے لگے، جب کہ نمائندے بھی انھی کاموں میں دلچسپی لینے لگے کیونکہ سیاسی اور مالی فائدہ بھی اسی میں تھا۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں بہت دور جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ترکیہ اور جرمنی جیسے ممالک کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز صرف بڑے بجٹ، بلند و بالا عمارتیں یا جدید انفراسٹرکچر نہیں، بلکہ ایک ایسا نظامِ حکمرانی ہے جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے ہیں۔

وہاں مقامی حکومتیں محض نمائشی ادارے نہیں بلکہ مالی اور انتظامی طور پر بااختیار ہیں۔ شہری اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے قومی یا صوبائی اسمبلی کا رخ نہیں کرتے بلکہ اپنے مقامی اداروں سے رجوع کرتے ہیں، جو وسائل بھی رکھتے ہیں اور جوابدہ بھی ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں بلدیاتی انتخابات بھی باقاعدگی سے ہوتے ہیں اور مقامی حکومتیں آئینی و قانونی تحفظ کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرتی ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان میں ہر مسئلہ، خواہ وہ گلی کی صفائی ہو، پینے کے پانی کی فراہمی، ٹوٹی ہوئی سڑک ہو یا نکاسی آب کا نظام، بالآخر صوبائی یا وفاقی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جب ہر اختیار اوپر جمع ہو جائے تو نہ صرف فیصلہ سازی سست ہو جاتی ہے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسی لیے دنیا کے کامیاب ممالک ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ بہتر حکمرانی کا انحصار صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد پر نہیں، بلکہ اختیارات، وسائل اور جوابدہی کی منصفانہ تقسیم پر ہوتا ہے، اگر یہی اصول ہمارے ہاں نافذ ہو جائیں تو ممکن ہے چار صوبے بھی کافی ثابت ہوں اور اگر یہ اصول نافذ نہ ہوں تو چودہ صوبے بھی عوام کے مسائل حل نہیں کر سکیں گے۔

اگر کسی خطے کی آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت یا عوامی مفاد واقعی ایک نئے صوبے کا تقاضا کرے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، لیکن صرف نئے عہدے پیدا کرنے یا موجودہ نظام کی ناکامی چھپانے کے لیے نئے صوبے بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔قوموں کی ترقی نئے نقشے بنانے سے نہیں، بلکہ ایسے نظام بنانے سے ہوتی ہے جہاں اختیار عوام کے قریب اور جوابدہی اقتدار کے قریب ہو، اگر ہم یہ اصول اپنا لیں تو شاید نئے صوبوں کی بحث خود بخود اپنی اصل حیثیت اختیار کر جائے۔

Load Next Story