خود نوشت اور افسانوں کا مجموعہ ’’ردّی‘‘
کئی ماہ بیتے جب ہم نے افسانہ نگار عفت نوید کی کتابوں ’’ دیپ جلتے رہے‘‘ اور افسانوں کے مجموعے ’’ردی‘‘ کا مطالعہ کیا تھا۔ ایک افسانے کے علاوہ باقی افسانے تو یاد نہیں رہے، البتہ عفت کی تحریرکردہ خود نوشت جس کا عنوان ’’ دیپ جلتے رہے‘‘ دل و ذہن پر نقش ہوگئی، ان کتابوں پر لکھنے کے لیے کافی تاخیر ہو گئی۔
اس کی وجہ معاشرتی و سیاسی ماحول کی تبدیلی اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والے خونی واقعات، ان سانحات نے دل دہلا کر رکھ دیا اور جب ماحول دکھ میں ڈوبا ہوا ہو، ہر طرف سوگ کا سماں اور آہ و فغاں کی صدائیں گونج رہی ہوں، تب قلم کارکا قلم ان حالات پر لکھنے کے لیے بے چین ہو جاتا ہے، پھر یوں ہوتا ہے ادبی و علمی اور دوسرے موضوعات پر لکھی ہوئی کتابوں پر خامہ فرسائی کرنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
تو ہم عرض یہ کر رہے تھے عفت نوید لکھنے کے علاوہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، گھر اور باہر کے ماحول، زمانے کے تلخ تجربات نے ان کی تحریروں میں حزن کی کیفیت پنہاں کردی ہے۔ خصوصاً ان کی خود نوشت پر اس کے اثرات زیادہ گہرے ہیں۔
کتاب کی یہ بھی خوبی ہے کہ زندگی اور وہ بھی اپنی زیست کے لمحات کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے اور بڑی بے باکی کے ساتھ جرأت رندانہ کا مظاہرہ ان کی خود نوشت میں نظر آتا ہے، ورنہ عموماً فنکار اور دوسرے شعبوں سے وابستہ حضرات اپنی ذاتیات کو دوسروں پر آشکار کرتے ہوئے خائف رہتے ہیں اور ان کی زندگی کی کہانی ان کے ساتھ ہی قبر میں اتر جاتی ہے۔
عفت نے بہت اچھا کیا جو دل پر بیتی اور جن آزمائشوں سے وہ نبرد آزما ہوئیں انھیں دل کے نہاں خانے میں چھپانے کی بجائے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا، اس سے یہ ہوا کہ ان کے دل پر جو بوجھ تھا وہ بھی اتر گیا اور قارئین کے لیے سبق آموز حقائق سامنے آئے کہ اسی دنیا میں ایسی ایسی بھی خواتین ہیں جو اپنے محبوب شوہر کے لیے سب کچھ برداشت کر لیتی ہیں اور وہ بھی خوشی خوشی۔ گویا وہ جلد باز اور بے صبری مستورات کے لیے مثال بن گئی ہیں۔
عفت کے شوہر نامدار اور مشہور و معروف شاعر میر احمد نوید اور ان کا مسلک بھی مختلف تھا لیکن جب اللہ کو منظور ہو اور جذبے بے لوث اور صادق ہوں تب کوئی رکاوٹ معنی نہیں رکھتی ہے۔ سو ایسا ہی ہوا، عفت کی خود نوشت محض دو انسانوں کا ساتھ نہیں ہے بلکہ یہ عورت کی قربانی و ایثار کی طلسماتی داستان ہے جو قاری کو ابتدا ہی سے اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔
اس کی وجہ عفت کا انداز بیان پڑھنے والے کے دل پر اثرانداز ہوتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ ایسی بھی بیویاں ہوتی ہیں جو نہ کہ غربت کے دکھ کو برداشت کرتی ہیں بلکہ شوہر کے نفسیاتی مسائل کو بھی بخوبی حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بھائی احمد نوید نروس بریک ڈاؤن کے شکار تھے اور ایسے مریض کے ساتھ زندگی بسرکرنا، گویا انگاروں پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے، لیکن عفت شادی کے ابتدائی ایام سے ہی انگاروں پر چلنے کا ہنر جان گئی تھیں، ویسے بھی ان کی تحریریں یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ ہر فن مولا ہیں۔
انھیں رشتے نبھانے کا ہنر بھی آتا ہے اور گھر داری کرنے کے فرائض سے بھی آشنا ہیں۔
اپنے شوہر کی اچھی صحت کے لیے انجکشن لگوانے کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ وہ نارمل حالت میں آجائیں۔ ڈاکٹر ایاز یعنی ان کے معالج کا ذکر اس طرح کرتی ہیں۔
’’بی بی! بہت تیزی آ رہی ہے، یا تو یہ کسی کو مار دیں گے یا خودکشی کر لیں گے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اسپتال میں داخل کرانے کا مشورہ دیا۔ سسرال کا ذکر اس طرح کرتی ہیں جیسے منہ میں کسی نے مصری کی ڈلی ڈال دی ہو، پتا ہی نہیں چلتا حقیقی باجی یا سگی ماں سے رابطے میں ہیں یا ساس اور نند سے، بے حد محبت اور بلا کسی تفریق کے مخاطب کرتی ہیں۔ سسرال والوں نے میاں کی طبیعت سن کر کہا کہ ان سے خلع لے لیں، ٹارگٹ کلنگ میں جو تخریب کار ملوث تھے، ان کی مدد مانگنے کے لیے بھی کہا گیا تاکہ ’’نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔‘‘
اپنے روز و شب کے دکھوں اور آزمائش کی گھڑیوں کو صبر کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ جس دن احمد نوید کی طبیعت زیادہ خراب تھی، اسی رات کو ڈری اور سہمی ہوئی بیگم کو تین بجے اٹھا دیا گیا یہ کہہ کر کہ چھ بج گئے ہیں۔ فرائض منصبی کو نبھانا بھی آسان نہیں اور وہ بھی اسکول کی ملازمت، لہٰذا گھبرا کر اٹھ گئیں اور میاں کی شکر گزار ہوئیں کہ بروقت انھیں جگا دیا گیا اور پھر ایک دو منٹ کی بجائے بے تکان گفتگو پندرہ بیس منٹ تک کی اور اپنے جھوٹ کا پردہ بھی فاش کر دیا۔
لیکن یہ غلطی دوبارہ پھر کر بیٹھے اور محض بیس روپے کے لیے جو اس گھر میں نہیں تھے ۔ وہ غصے میں آ کر بیگم کی گردن کو دباتے ہوئے پڑوسی خاتون کے دروازے پر لے آئے۔ لہٰذا اس ناگہانی افتاد نے بھی مصنفہ کے ہوش و حواس کو بحال رکھا اور انھوں نے دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ یہ فریدہ باجی کا گھر تھا، جو بے حد مخلص اور درویشانہ صفات کی مالک تھیں، انھوں نے قدم قدم پر ساتھ دیا۔
اسپتال کے داخلے کا مرحلہ بھی عفت کے لیے جان لیوا تھا، کس طرح انھوں نے منظر نگاری اور حقائق کو بیان کیا ہے، بے شک یہ ان کا ہی خاصا ہے اور وہ قابل تعریف ہے۔ خود نوشت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ ناول سے مماثلت رکھتی ہے۔
گھریلو حالات، بیماری ، اداسی ساتھ میں افلاس ان حالات میں جن لوگوں نے ساتھ دیا ان کا کردار بھی انسانیت پسند، مخلصانہ اور بے لوث تھا۔ انھی میں اوج کمال کا نام بھی شامل ہے جوکہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے سچی خوشیوں سے ہمکنار کیا، مشاعرے پڑھوائے، ان کا انٹرویو لیا۔ مشاعروں کی فضا اور اوج کمال کی محبت نے بھی ان کی صحت پر اچھے اثرات مرتب کیے۔
عفت کو میں مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ ان کے حوصلے اور عزم نے اپنی ڈوبتی کشتی کو کنارہ مہیا کیا۔
ان کی دوسری کتاب جوکہ افسانوں کا مجموعہ ’’ ردّی‘‘ ہے، اس کا عنوان مجھے ہر لحاظ سے اچھا لگا تھا کہ زندگی کی کتھا ایک دن اس ردّی کی ہی مانند ہو جاتی ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں، کتاب میں شامل کئی افسانے زندگی کی رعنائیوں اور خوشیوں سے محروم کرداروں پر مشتمل ہیں۔
میں نے کافی عرصہ پہلے افسانے پڑھے تھے لیکن ایک افسانہ مجھے یاد رہا، بعنوان ’’ کوکھ کا ادل بدل‘‘ یہ افسانہ اپنی بنت اور اسلوب بیان کے اعتبار سے خوبصورت افسانہ ہے، قاری کو سوچنے پر مجبورکرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی کردار موجود ہیں جو گناہ و ثواب کے احساس سے عاری اور بے ضمیر ہیں، مقدس رشتوں کی بے حرمتی اور اپنے گناہ کو چھپانے کی چال اور مکر و فریب میں خودکفیل ہیں۔ انھی لوگوں نے معاشرے کو بدنما اور ناسور زدہ کر دیا ہے۔ افسانے کا انجام قاری کو چونکا دیتا ہے اور اس کے بدن میں کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے جو اسے نیم مردہ حالت میں کردیتا ہے۔
عفت نوید کے دوسرے افسانے بھی سماج میں بسنے والے افراد کے دکھوں، محرومیوں، ناکامیوں اور تشنہ خواہشات کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ وہ یوں ہی لکھتی رہیں تاکہ گلستانِ ادب کہانیوں کی خوشبو سے مہکتا رہے۔