کامریڈ نذیر عباسی اور جین زی
کامریڈ نذیر عباسی کی شہادت کے بعد پورے ملک میں سخت مارشل لا نافذ تھا، اخبارات پر سخت سنسر شپ تھی لیکن کسی طرح سے یہ خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ کامریڈ نذیر عباسی کو ظالموں نے شہید کردیا ہے۔
آج کی ینگ جنریشن کی طرح خاص طور پر 14 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ نعرہ گونجنے لگا اور عام ہوا کہ نذیر عباسی کا راستہ ہمارا راستہ۔ یعنی اس مزاحمت اور اس سوشلسٹ نطریے جس کی وجہ سے کامریڈ نزیر عباسی کو شہید کیا گیا ہے، وہ میرا بھی نظریہ ہے، میں بھی مزاحمت کار ہوں اور ہمیں بھی کامریڈ نذیر عباسی کی طرح شہادت قبول ہے۔
جین زی اس نسل کو کہا جاتا ہے جس نے سوشل میڈیا کے دور میں بلوغت یعنی شعور حاصل کیا ہے۔ یعنی آج کے دور میں جس کی عمر 14 سے 29 سال کے اندر ہے، اسے جین زی کہا جاتا ہے۔ کامریڈ نذیر عباسی کی شہادت 27 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ گوکہ وہ سوشل میڈیا کے دور کی پیداوار نہیں تھے لیکن عمر کا دورانیہ اسی جنریشن کے اندر آتا ہے۔
جنریشن زی کو کہا جاتا ہے کہ بڑی ووکل اور دنوں میں رجیمز کو ہلا دینے والی قوت ہے لیکن وہ بنیادی طور پر اینگری بوائے کے کردار کی طرح ہے، جو جلد غصے میں آکر سوشل میڈیا کو استعمال کر کے الٹ پلٹ کر دیتی ہے۔
اس کی مثالیں سری لنکا، نیپال، بنگلادیش اور تازہ انڈیا میں ایک مضبوط اور انتہاپسند جماعت بی جے پی کے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینے والی تحریک ہے۔ جین زی کے پاس اپنے مطالبات منوانے کی سوچ اور طاقت تو ہے لیکن نظام تبدیل کرنا ان کی سوچ کا حصہ نہیں ہے۔
انڈیا میں اسی عمر کے پیٹے میں جن نوجوانوں نے کاکروچ جنتا پارتی کی پہل کاری والی تحریک میں داخل ہوکر وزیرتعلیم سے استعفیٰ لے کر اب اس کا رخ تبدیل کر کے اور اسے ایک مسلسل مزاحمت اور رجعتی نظام کے خلاف عوامیجدوجہد کی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے، وہ کمیونسٹ پارٹیوں کی طلبہ تنظیمیں ہیں۔
ان میں AISF, SFI, AISA جیسی تنظیمیں ہیں۔ اس وقت جس لڑکی نے مسلسل اور منظم مزاحمت کی علامتی شکل اختیار کر لی ہے وہ نیہا بوہا ہے۔ اس کا تعلق AISA یعنی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سے ہے جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ لیننسٹ لبریشن کا طلبہ محاذ ہے۔
اس پارٹی پر الزام ہے کہ یہ نکسلائیٹس کے قریب ہے۔ بہرحال اب بھارت میں امتحانات کے پیپر لیک ہونے اور اس کے معاملے میں وزیرتعلیم کی غفلت کے خلاف تحریک سے آگے بڑھ کر اب یہ نظام کی تبدیلی کی تحریک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دیکھیں انھیں کتنی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
کامریڈ نذیر عباسی کے دور میں سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کتاب کی دنیا بھرپور تھی، اسٹڈی سرکل بھی فزیکل ہوتے تھے۔ اس سے کامریڈ نے کمیونسٹ شعور حاصل کیا۔ انھیں معلوم ہوا کہ مزدور کے مسائل اور انسان کی زندگی کی مجبوریاں، بے گھرے، علاج سے محرومی اور بے روزگاری اس نظام کی وجہ سے ہے۔
اس نظام کی وجہ سے ایک طبقہ بے انتہا دولت کا مالک، اسی دولت کے سہارے طاقتور ہے اور وہی سیاست کے ذریعے عوامی دولت پر قبضہ کرکے اپنے اثاثے اور اپنی عیاشیوں کو بڑھا رہا ہے۔ اس لیے انھوں نے سوچا کہ اس کے خلاف انفرادی جدوجہد یا صرف مزاحمت کافی نہیں ہے، اس نظام کو بدلنے کے لیے متبادل نظام لانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
ان کو یہ بھی سمجھ میں آیا کہ کوئی فرد یا افراد کا غیرمنظم اور غیرنظریاتی گروہ یہ کام نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے ایک منظم انقلابی پارٹی چاہئے جو نظریاتی لوگوں پر مشتمل ہو اور وہ ایک فولادی ڈسپلن رکھتی ہو، تب ہی اس نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ صرف اس طرح ہی کوئی عوام دوست نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
کامریڈ نذیر عباسی پہلے صرف مزاحمت کار تھے، اب آگے بڑھ کر اس نظام کو پلٹنے اور ایک نئے نظام یعنی سوشلسٹ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والے انقلابی بن گئے۔ اس طرح کی پارٹی جو پہلے سے موجود تھی، کامریڈ نذیر عباسی اس کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا حصہ بن گئے۔
پارٹی میں شامل ہونے کے بعد پارٹی نے اسے طلبہ محاذ سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جو بعد میں ان کی ہی کوششوں سے لیکن ان کی شہادت کے بعد ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنی) میں کام دیا لیکن ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر پارٹی نے اسے طلبہ مزدور کسان رابطہ کمیٹی بنانے کا ٹاسک بھی دے دیا جو انھوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں سے منظم کر کے دکھایا۔ وہ باکردار اور تمام قسم کی منشیات اور بری عادتوں سے دور، اخلاق کا پیکر تھے۔ بہت سادہ زندگی، نظریے اور پارٹی کے ساتھ وفاداری کے مثالی انسان تھے۔
کامریڈ نذیر عباسی شہید کی زندگی سے ہمیں یا آج کی زی جنریشن کو کیا سبق حاصل کرنا چاہیے:
1) کردار و اخلاق کے پیکر بنیں۔
2) زندگی میں خوراک اور پانی کے علاوہ کوئی مجبوری یا کمزوری نہ ہو۔
3) مستقل مزاجی سے سیاسی مزاحمت کار بنیں۔
4) کمیونسٹ نظریے کے بغیر جدوجہد انسانیت کو ظلم، جبر اور استحصال سے نجات نہیں مل سکتی ، لہٰذا اس نظریاتی ہتھیار سے مسلح ہوں۔
5) بغیر منظم اور انقلابی پارٹی کے نظام تبدیل نہیں ہوگا اور عام انسان کی زندگی میں بدلاؤ نہیں آئے گا۔
6) سماج کے مختلف مظلوم حصوں کو منظم کرو۔