اپنا کچرا ساتھ لے کر جائیں!
اسکاٹ لینڈ کی جنت جیسی سر زمین کی سیر کے دوران سب سے زیادہ لطف اسی صورت آ سکتا ہے کہ آپ بسوں پر سفر کریں اور اس حسین ترین جگہ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔ میں نے بہت سے لوگوں کو بیرون ممالک کی سیر کے دوران بار ہا کہتے سنا ہے کہ اس ملک کی خوبصورتی ہمارے ملک کی خوبصورتی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔
پورے یورپ میں، کسی بھی بس پرآپ سفر کرتے ہیں یا ٹرین پر، ڈرائیور سے گارڈ آپ کو سفر کے لگ بھگ اختتام پر الوداعی کلمات ادا کرتا ہے اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ آپ سے درخواست کرتا ہے کہ اپنے سفر کے بارے میں فلاں لنک پر رائے ضرور دیں اور اگر آپ کا سفر اس کمپنی کے ساتھ خوشگوار رہا ہے تو آپ اپنے دوستوں کو بھی اس کمپنی کے بارے میں ضرور بتائیں۔ آخری فقرہ وہ یہ کہتے ہیں، ’’ براہ مہربانی اپنا کچرا ضرور ساتھ لے جائیں اور جونہی آپ کو پہلا کچرا دان نظر آئے تو اس میں ڈال دیں۔‘‘
وہاں ہم بھی ہر جگہ اس بات پر عمل کرتے تھے اور دل میں سوچتے تھے کہ اس ملک میں ہیں تو ایسا کرنا پڑ رہا ہے ورنہ اپنے ملک میں ہوتے تو یہ بھی عیاشی ہوتی ہے کہ کچرا ہم پھینکتے ہیں اور اٹھانے کو کوئی اور آتا ہے۔ ہمیں کہیں کچرا پڑا نظر آجائے تو ہم کسی کچرا اٹھانے والے کو ڈھونڈتے ہیں، خود کبھی زحمت نہیں کرتے کہ اٹھا دیں، چاہے وہ صاف ستھرا کاغذ ہی کیوں نہ ہو۔
ہم لاکھ لکھے پڑھے کہلوائیں مگر ہمارے ذہنو ں میں یہ بات بچپن سے ڈال دی جاتی ہے کہ ہم صرف کچرا پھینکنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور اٹھانے کے لیے کوئی اور لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ اسی ذہنیت کے ساتھ جب ہم دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں توہماری ساری فوں فاں نکل جاتی ہے، جب ہم اس نوعیت کی اناؤنسمنٹ سنتے ہیں تو خود بخود مکینکی انداز میں بس کی اگلی سیٹ کی جیبوں میں ٹھونسا ہوا کچرا اٹھاتے ہیں اور باہر نکل کر نزدیکی کوڑا دان میں ڈال دیتے ہیں، نزدیک کوڑا دان نہ ملے تو ہم دو رتک بھی اپنے اس ’’بوجھ‘‘ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
اپنے ملک میں ہم ایسا کریں تو ہمارا ملک بھی جنت نظیر بن جائے، وہاں تو ہم اپنے گھروں کا کچرا بھی گھر سے نکال کر دوسرے کے گھر کے سامنے یا بیچ سڑک کے ڈال دیتے ہیں اور اپنے اس عمل پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ جب دوسروں کی یا دوسرے ملکوں کی بات ہوتی ہے تو ہم اپنے ملک میں سو سو کیڑے نکالتے ہیں اور دوسرے ملکوں کی صفائی کی تعریف کرتے ہیں۔
کبھی سوچا کہ اس کا ذمے دار کون ہے، ہمارے حکمران یا ہم خود؟ یا اس کا مدعا بھی ہم باقی مسائل کی طرح حکومت پر ڈال سکتے ہیں؟ مانا کہ حکومتوں کے ہر دور میں مسائل رہے ہیں اور عوام کے مسائل اور ان کا حل کبھی بھی ان کی ترجیح نہیں رہی ہے مگر ہم نے خود بھی تو کبھی نہیں سوچا کہ جو مسائل ہم خود حل کر سکتے ہیں، تنہا یا امداد باہمی سے، انھی کا کوئی حل کرلیں۔
ملک کے بہت سے حصوں میں اپنی مدد آپ کے تحت محلہ کمیٹیاں، ٹاؤن کمیٹیاں، مساجد کی کمیٹیاں، دارالیتیم، لنگر خانے، لڑکیوں کی شادیوں کے لیے امدادی مراکز اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات وغیرہ کے لیے بھی بہت سے لوگ سرگرم عمل ہیں۔
زکوۃ کی مدد سے مریضوں کے علاج اور بیواؤں کی کفالت کے کام بھی چل رہے ہیں، ہمارا ملک چیریٹی کرنے والے ممالک میں فہرست میں چند اوپری ممالک میں شامل ہے مگر جہاں کام ذاتی اور اجتماعی فلاحی کاموں کا آتا ہے جن میں کچھ تصرف نہیں ہوتا بلکہ ذمے داری کا کام ہوتا ہے، وہاں کوئی بھی شامل ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔
چند سال قبل ہمارے گاؤں میں گاؤں کی فلاحی کمیٹی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اورگاؤں کے لوگوں کو سرکلر بھیجا گیا کہ گاؤں کی گلیوں کی صفائی کے لیے ہر گھر کے لوگ پچاس روپے ماہانہ دیں گے کیونکہ کئی دیہات کے بے روزگار نوجوانوں کو اس کام کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔
لوگوں نے اس کمیٹی کی اس تجویز کو بری طرح مسترد کردیا، یہ کہہ کر کہ پچا س روپے مہینہ دینا ا ن کے لیے آسان نہیں ہے۔ وہ لوگ جن کے بچے ماہانہ نہیں بلکہ ہر روز سو پچاس خرچ کردیتے ہیں، ان کے اسکول کے اخراجات ہزاروں میں ہوتے ہیں مگر گاؤں کی صفائی کے لیے چند ٹکے نہیں دے سکتے۔
حکومت لوگوں میں اور کس طرح صفائی کا شعور بیدار کرے۔ چونکہ ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی عادت نہیں ہے اس لیے ہمیں کوئی اس کا احساس دلائے تو ہمیں بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی باشعور شہری لوگوں میں اس بات کا احساس جگانے کی کوشش کرے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا اگلا ایجنڈا الیکشن لڑنے کا ہوگا۔
صرف اسی ایک کچرے پر موقوف نہیں ہے، ہم ہر طرح کا کچرا پھیلاتے اور اسے سمیٹے بغیر اٹھ جاتے ہیں… کاغذ اور چھلکے، سگریٹ کے ٹوٹے، خالی لفافے، ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہم وہ کچرا بھی پیچھے چھوڑ کر اٹھ کر چلے جاتے ہیں جو ہمارے جانے کے بعد جگہوں کو ہی نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں کو بھی آلودہ کردیتا ہے۔
ہم جہاں بیٹھتے ہیں وہاں گپ شپ کے نام پر غیبت کرتے ہیں، دوسروں پر تنقید کے نام پر ان کی شخصیت، لباس، انداز گفتگو پر گند اچھالتے ہیں، طنز کے نام پر ہم لوگوں کی ہتک کرتے ہیں، اصلاح کے نام پر ہم ان کی ذلت کرتے ہیں، ان کے گھروں کے حالات کے بارے میں غیر ضروری سوالات پوچھ کر ہم ان کی اور ان کے گھر والوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔
انھیں خود سے کمتر سمجھتے ہیں تو ان کے جانے کے بعد فوراً ان کے بارے میں فضول گفتگو شروع کردیتے ہیں، ان کے لہجے کی نقل اتارتے ہیں تو وہ ان کی نہیں بلکہ ہماری گھٹیا سوچ اور شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
بد قسمتی سے ہمیں اچھائی اور برائی میں فرق اسی طرح سکھایا جاتا ہے کہ آپ جو کچھ غلط کریں، وہ جائز ہے اور دوسرے درست بات یا کام بھی کریں تو وہ اچھانہیں۔ آپ فارغ پھرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں مل رہا ہے مگر یہی حالات کسی اور کے ہوں تو وہ ہڈ حرام ہے، کام کرنا ہی نہیں چاہتا۔
آپ کا نقصان ہو تو آپ قسمت کوبرا سمجھتے ہیں اور دوسروںکو الزام دیتے ہیں، ویسا ہی اگر کسی اور کے ساتھ ہو تو اس میں اسی کا قصور کہہ دیا جاتا ہے۔ آپ کے بچوں کو طلاق ہوجائے تو وہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے مگر کسی اور کے بچوں کے ساتھ ایسا ہو تو وہ آپ کے خیال میں عوامی مسئلہ ہوتا ہے جسے آپ کہیں بھی اور کسی بھی طرح زیر بحث لا سکتے ہیں۔
آپ کے حالات اور آپ کے گھر کی باتیں، آپ کا مسئلہ ہے اور آپ کسی کو اپنی پرائیویسی میں مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے مگر دوسروں کے گھروں کی انتہائی حساس باتیں ہم کسی بھی جگہ چھیڑ دیتے ہیں اور اس پر سب کو رائے کی دعوت دیتے ہیں۔
کسی اور کی ذاتیات کا ہم خیال نہیں کرتے لیکن ہمارے بارے میں کوئی بات کرے تو ہم اسے بیچ چوراہے کے ذلیل کردیتے ہیں۔ اپنی انا کے غبارے میں اتنی ہوا بھر کرر کھتے ہیں مگر کسی کی انا کا بلبلہ بھی ہو تو ہمیں خارش ہوتی ہے کہ جلدی سے اسے پھاڑدیں۔
کچرا صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا، خالی لفافہ، ریپر، چھلی کا بیچ کا حصہ، خالی ڈبہ، پلاسٹک کا ٹکڑا یا آپ کے ہاتھ سے دانستگی یا نادانستگی میں گر جانے والا ٹشو پیپر ہی نہیں ہوتا بلکہ آپ کے لہجے کے مغرور اتار چڑھاؤ، ماتھے پر پڑی شکنیں، زبان سے نکلنے والے منفی الفاظ، بے رخی، بے حیائی والی گفتگو، کسی کو نیچا دکھانے والی باتیں، فضول گوئی، ٹھٹھا اور تذلیل کرنے کا انداز… یہ سب وہ کچرا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ زبان، آنکھ اور ماتھے کے چتون سے بھی گرتا ہے۔
جب بھی کہیں جائیں تو کوشش کریں کہ اپنا کچرا وہاں نہ پھینکیں، اگر پھینک دیا ہے تو اسے اٹھتے وقت ساتھ لے کر جائیں، اگر ساتھ نہیں لے جاسکتے تو آپ کو علم ہے کہ وہ کچرا کس طرح سمیٹا جا سکتا ہے۔ معافی مانگ کر اٹھیں ، ان لوگوں سے جن کاآپ نے کسی بات پردل دکھایا اور اتنے ہی لوگوں کے سامنے معافی مانگیں جتنے لوگوں کے سامنے آپ نے ان کی تذلیل کی، ان کی ہتک کی اور ان کی آنکھوں میں آنسو لائے۔