مکہ دفاعی معاہدہ: سکے کا دوسرا رخ بھی واضح رہے

پاکستان کا بنیادی دفاعی چیلنج مشرقی سرحد (بھارت) اور مغربی سرحد (افغانستان) سے جڑا ہوا ہے

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک عرصے سے پسِ پردہ جاری سیکیورٹی وسفارتی مشاورت کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کی جس بنیادی شق کا سب سے زیادہ شہرہ ہوا ہے، اس کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سہ ملکی مکہ معاہدے میں فی الحال سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں لیکن اس کے فریم ورک مذاکرات میں مصر کی شرکت، قبل ازیں کویت اور پاکستان کے سیکیورٹی تعاون پر اتفاق سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ عرب ممالک اپنے دفاع کے لیے امریکا پر روایتی انحصار کے علاوہ اب متبادل علاقائی راستے تلاش کر رہے ہیں۔

یہ معاہدہ ٹائمنگ اور ممبر ممالک کے متنوع سیکیورٹی اور علاقائی پس منظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے تاہم اس معاہدے کی گہرائی، عملداری اور پائیداری کا جائزہ لیا جائے تو کئی پیچیدہ زاویے ابھرتے ہیں جن پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔

اس نئی دفاعی پیش رفت کی بنیاد کا جواز جون 2025 میں ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد امریکا واسرائیل کے مشترکہ جارحانہ اقدام نے فراہم کیا۔ اس شدید تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا۔ خلیجی ریاستوں کے لیے یہ صورتِ حال دو تلخ حقائق لے کر آئی: اول یہ کہ اربوں ڈالر کے جدید ترین مغربی اسلحے کے باوجود وہ علاقائی جنگ کی زد میں محفوظ نہیں ہیں اور دوم یہ کہ کسی بھی علاقائی جنگی بحران میں امریکا کی اولین ترجیح اسرائیل کا تحفظ ہے۔

دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کی بلاتعطل بمباری اور فلسطین کے مغربی کنارے آبادکاروں کی توسیعی کارروائیوں، شام کے مزید علاقوں پر قبضے اور لبنان میں کھلی فوجی جارحیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تل ابیب خطے میں مسلسل توسیع پسندی کے عزائم پر عمل پیرا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انتہاپسند اسرائیلی قیادت کی طرف سے چند ہفتے قبل ببانگ دہل کہا گیا کہ ’’ترکیہ ان کے لیے اگلا ایران ہو سکتا ہے۔‘‘

ظاہر ہے اس پس منظر میں دونوں متحارب ممالک یعنی تہران اور تل ابیب کا اس معاہدے پر ردِعمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تہران نے اس معاہدے کو تحفظات کی نظر سے دیکھا ہے بلکہ ایرانی اسپیکر نے اسے طنزاً کاغذی معاہدے سے تعبیر کیا ہے۔ تہران کو خدشہ ہے کہ اس کی اصل غرض ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا (Containment) ہے۔

دوسری طرف اسرائیل اور امریکی تھنک ٹینکس اس پیش رفت کو ابراہیمی معاہدات (Abraham Accords) کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن خطے میں ایک ’’سعودی اسرائیلی‘‘ اتحاد قائم کرنا چاہتا تھا جب کہ سعودی عرب نے اس کے برعکس ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مل کر اپنا ایک الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔

اسرائیل بھی اس معاہدے کو اپنی علاقائی بالادستی کے لیے ایک غیرمتوقع چیلنج سمجھ رہا ہے کیونکہ نیٹو کا اہم رکن ترکیہ اور ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان اب خلیج کے سیکیورٹی دائرے میں باقاعدہ طور پر شریک ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا ردِعمل بھی دلچسپ ہے۔ مڈل ایسٹ کے نشریاتی ادارے نے اسے ایک ’’نیا سیکیورٹی آرکیٹیکچر‘‘ قرار دیا ہے جو ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی، پاکستان کی مضبوط فوج وایٹمی صلاحیت اور سعودی عرب کے بھاری بھرکم مالی وسائل کا اہم امتزاج ہے۔

’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ (SCMP) نے اسے خلیجی ممالک کی ’’حکمتِ عملی میں تنوع‘‘ یعنی سیکیورٹی diversification قرار دیا ہے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ ساتھ علاقائی طاقتوں کا ایک بھروسہ مند اور باضابطہ اتحاد کیا جا سکے۔

معاہدے کی بنیادی شق ’’ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا‘‘ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بیانیہ کہنے کی حد تک انتہائی جاندار مگر اس پر آسانی سے عملدرآمد مشکل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تینوں ممالک کی جغرافیائی پوزیشن، پڑوسی دشمن داریاں اور ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔

پاکستان کا بنیادی دفاعی چیلنج مشرقی سرحد (بھارت) اور مغربی سرحد (افغانستان) سے جڑا ہوا ہے۔ اگر بھارت یا افغانستان سے کوئی عسکری تصادم ہوتا ہے تو کیا ترکیہ یا سعودی عرب پاکستان کی خاطر عملی جنگ میں کودیں گے؟ اسی طرح ترکیہ کا بنیادی تنازعہ بحیرہ روم، کرد ملیشیا اور شام یا عراق کے سرحدی خطے سے ہے جب کہ اسرائیل کے ساتھ اس کی کشیدگی یورپ اور نیٹو کے پیچیدہ تناظر میں آتی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے خدشات کا محور بحیرہ احمر، حوثی اور ایران کے ساتھ کشیدگی ہے۔

خلیج اور جنوبی ایشیا کی تاریخ ایسے دفاعی معاہدوں سے بھری پڑی ہے جو کاغذی حد تک تو شاندار تھے مگر عملی میدان میں غیرمؤثر ثابت ہوئے۔ جب تک ممبر ممالک کے یکساں معاشی وسیاسی مفادات نہ ہوں، ایسیمعاہدے محض سفارتی زبانی جمع خرچ بن کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے میں شرکت اس کی علاقائی اہمیت کا بین ثبوت ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی ہے کہ اس معاہدے سے کچھ ٹھوس معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہیں پاکستان علاقائی تنازعات میں حد سے زیادہ الجھ کر اپنے داخلی مسائل سے توجہ نہ ہٹا لے۔ بلوچستان اور کے پی کے کی سیکیورٹی صورتِ حال، کشمیر، معاشی چیلنجز اور داخلی سیاسی عدم استحکام جیسے سنگین چیلنجز فوری یکسوئی اور مکمل توجہ کے طلبگار ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ یقیناً خلیجی ممالک کی بدلتی سوچ اور امریکا پر ان کے کم ہوتے دفاعی اعتماد کا مظہر ہے لیکن پاکستان کے لیے اس اتحاد کی پیچیدگیوں سے بچنا بھی ایک آزمائش ہو گا۔ خارجہ پالیسی میں توازن اور داخلی استحکام پر ہی ترجیحات استوار ہونی چاہیے۔

Load Next Story