نقشے بدلنے سے تاریخ نہیں بدلتی

دنیا میں ایسے بے شمار ممالک ہیں جہاں بڑے صوبے بھی کامیابی سے چل رہے ہیں

ہر دور اپنے ساتھ کچھ ایسے سوال لے کر آتا ہے جو دیکھنے میں بہت سادہ معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کے پیچھے پوری تاریخ، سیاست اور سماج کے الجھے ہوئے دھاگے بندھے ہوتے ہیں۔ آج کل ایک ایسا ہی سوال بار بار سنائی دیتا ہے کہ کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہییں۔

بعض لوگ اسے ملک کے تمام انتظامی مسائل کا حل قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بڑے صوبوں کو چھوٹا کر دیا جائے تو حکومت عوام کے قریب آ جائے گی، وسائل کی تقسیم بہتر ہو جائے گی اور محروم طبقوں کی محرومیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ بات سننے میں بہت دلکش لگتی ہے لیکن تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر خوبصورت نعرہ حقیقت نہیں ہوتا۔

ہم نے اپنی زندگی میں نہ جانے کتنے نعرے سنے ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ صرف آئین بدلنے سے سب کچھ بدل جائے گا۔ کبھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ صرف نظام بدلنے سے ملک ترقی کی شاہراہ پر دوڑنے لگے گا۔ کبھی نئے اضلاع، نئی ڈویژنز اور نئے انتظامی ڈھانچوں کو نجات کا راستہ بتایا گیا مگر ہر بار چند برس گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ عام آدمی کی زندگی ویسی ہی رہی جیسی پہلے تھی، اس کے چولہے کی آگ پہلے کی طرح مدھم تھی، اس کے بچوں کے اسکول پہلے کی طرح بے رونق تھے، اس کے اسپتالوں میں پہلے کی طرح دوائیں نہیں تھیں اور اس کی محنت کی قیمت پہلے کی طرح کم تھی۔

تب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مسئلہ صرف انتظامی تقسیم کا ہے۔ میں جب پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات کی تصویریں ذہن میں لاتی ہوں تو مجھے سندھ کے خشک ہوتے کھیت، بلوچستان کے پیاسے گاؤں، جنوبی پنجاب کے مزدور، خیبرپختونخوا کے پہاڑوں میں روزگار کی تلاش میں بھٹکتے نوجوان اور کراچی کی کچی آبادیوں میں پلتے ہوئے بچے ایک ہی کہانی سناتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان کی محرومیوں کا رنگ مختلف ہو سکتا ہے مگر اس کا سبب ایک ہی ہے۔ وہ سبب صرف یہ نہیں کہ ان کا صوبہ بڑا ہے یا چھوٹا بلکہ یہ ہے کہ اقتدار اور وسائل کی تقسیم میں ان کا حصہ ہمیشہ سب سے آخر میں رکھا گیا۔

دنیا میں ایسے بے شمار ممالک ہیں جہاں بڑے صوبے بھی کامیابی سے چل رہے ہیں اور ایسے بھی جہاں چھوٹی انتظامی اکائیاں ہونے کے باوجود غربت، بدعنوانی اور ناانصافی کا راج ہے۔ اس لیے سوال نقشے کا نہیں، ریاست کے کردار کا ہے۔

ریاست اس وقت تک عوامی نہیں ہو سکتی جب تک اس کی ترجیحات عوامی نہ ہوں، اگر بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، عوامی ٹرانسپورٹ، سائنسی تحقیق اور روزگار پیدا کرنے کے بجائے مراعات یافتہ طبقات کی آسائشوں پر خرچ ہوگا، اگر زرعی اصلاحات کا نام لینا جرم سمجھا جائے، اگر مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہ ملے، اگر کسان قرضوں اور بیوپاریوں کے رحم وکرم پر زندہ رہے، اگر نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دروازے دروازے روزگار تلاش کرتے پھریں تو نئے صوبے ان کے نصیب نہیں بدل سکتے۔

یہ محض انتظامی بحران نہیں، حکمرانی کا بحران ہے۔ ہمیں اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانا چاہئیں کہ پاکستان میں طاقت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے۔ زمین، سرمایہ، صنعت، تجارت، مالیاتی ادارے اور فیصلہ سازی کے مراکز محدود طبقوں کے قبضے میں ہیں۔ یہی وہ طبقے ہیں جو ہر سیاسی تبدیلی کے بعد بھی اپنی طاقت برقرار رکھتے ہیں۔ چہرے بدلتے ہیں، اقتدار کے ایوانوں کے پردے بدلتے ہیں لیکن اقتدار کی اصل ساخت تبدیل نہیں ہوتی۔

بائیں بازو کی سیاست ہمیشہ یہی کہتی رہی ہے کہ مسئلہ صرف حکومت کی شکل کا نہیں بلکہ معیشت کی ساخت کا بھی ہے۔ جب تک دولت اور وسائل کی غیرمساوی تقسیم ختم نہیں ہوگی، جب تک محنت کرنے والے انسان کو اس کے حصے کا انصاف نہیں ملے گا، جب تک عوام کی منتخب مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیار نہیں دیا جائے گا، تب تک نئے صوبے بھی اسی پرانے نظام کی نئی شاخیں ثابت ہوں گے۔

مجھے کبھی کبھی برصغیر کی تاریخ یاد آتی ہے۔ انگریز بھی انتظامی اصلاحات کی بڑی باتیں کرتے تھے۔ وہ نئے صوبے بناتے تھے، نئی حدبندیاں کرتے تھے، نئی مردم شماری کراتے تھے لیکن ان سب اقدامات کا مقصد عوام کی فلاح نہیں بلکہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنا تھا۔ آزادی کے بعد ہم نے وہی نوآبادیاتی ڈھانچہ بڑی حد تک برقرار رکھا۔ صرف حاکم بدل گئے، حکمرانی کا انداز کم ہی بدلا۔

آج بھی اگر کسی دورافتادہ گاؤں کی عورت کو زچگی کے لیے میلوں میل سفر کرنا پڑتا ہے، اگر کسی بچے کو تعلیم کے لیے اسکول میسر نہیں، اگر کسی مزدور کو اپنی اجرت کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کا صوبہ بہت بڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے انسان کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔

یہ بھی درست ہے کہ بعض علاقوں میں احساس محرومی حقیقی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہندکوہزارہ، قبائلی علاقے، بلوچستان کے مختلف خطے اور سندھ کے کئی اضلاع برسوں سے شکایت کرتے آئے ہیں کہ ترقی کے ثمرات ان تک نہیں پہنچے۔

ان شکایات کو نظرانداز کرنا انصاف نہیں ہوگا، اگر وسیع عوامی مشاورت، جمہوری اتفاق رائے اور انتظامی ضرورت کے تحت کہیں نئی اکائیاں بنانا مفید ہو تو اس پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے لیکن یہ فیصلہ عوامی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، سیاسی سودے بازی یا انتخابی فائدے کی بنیاد پر نہیں۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اصل سوالات پر کم اور علامتوں پر زیادہ بحث ہوتی ہے۔ غربت پر گفتگو کم ہوتی ہے، صوبوں پر زیادہ۔ بے روزگاری پر خاموشی رہتی ہے، سرحدوں کی نئی لکیروں پر شور مچتا ہے، مزدور کے حقوق خبروں میں جگہ نہیں پاتے لیکن اقتدار کی نئی تقسیم پر ٹیلی وژن کے مباحث رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی وفاق کی طاقت اس کے اندر انصاف سے پیدا ہوتی ہے، جغرافیہ اس کی ضمانت نہیں دیتا، اگر وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو، آئین پر عمل ہو، چھوٹے بڑے سب علاقوں کو برابر کا احترام ملے اور عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے تو وفاق مضبوط ہوتا ہے لیکن اگر ناانصافی برقرار رہے تو نئے نقشے بھی دلوں کے فاصلے کم نہیں کر سکتے۔

پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زراعت کا بحران، صنعت کی زبوں حالی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، تعلیم کا زوال اور نوجوانوں کی بے روزگاری سب سے نمایاں ہیں۔

ان میں سے کوئی ایک مسئلہ بھی صرف نئے صوبے بنا دینے سے حل نہیں ہوگا۔ ان کے لیے ایسی سیاسی بصیرت درکار ہے جو انسان کو منافع پر ترجیح دے، محنت کو سرمائے پر فوقیت دے اور ریاست کو عوام کے سامنے جواب دہ بنائے۔

یہ ملک صرف دریاؤں، پہاڑوں اور سرحدوں کا نام نہیں، یہ کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا نام ہے، اگر ان امیدوں کو انصاف نہ ملے تو نقشے کی ہر نئی لکیر محض ایک انتظامی تبدیلی رہ جاتی ہے لیکن اگر انصاف میسر آ جائے تو پرانے نقشے بھی نئی تاریخ لکھ سکتے ہیں۔

شاید اس لیے آج ہمیں نئے صوبوں سے زیادہ نئے سیاسی شعور کی ضرورت ہے۔ ایسے شعور کی جو یہ سمجھ سکے کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے محلوں، گلیوں، کھیتوں، کارخانوں، اسکولوں اور اسپتالوں میں بسنے والے انسان ہیں۔ جب ان کی زندگی بہتر ہوگی تو وفاق بھی مضبوط ہوگا، جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور پاکستان بھی زیادہ مستحکم ہوگا۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتنے صوبے ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس ملک میں انصاف کتنے لوگوں تک پہنچے گا۔

Load Next Story