مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

بلاشبہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پاگیا، اسے ’’مکہ معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے۔

سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اگلے روز سعودی عرب کا دورہ کیا اور مکہ المکرمہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے قصر الصفا میں ترک صدر اور وزیرِ اعظم پاکستان کا استقبال کیا۔

معاہدے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور طویل المدتی دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے، مشترکہ حکمت عملی، امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

معاہدے میں دفاعی تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور سیکیورٹی روابط کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ معاہدے میں دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دینے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ مشرق وسطیٰ، وسط ایشیا، جنوبی ایشیا اور بحیرۂ روم کے خطے تک اپنے اثرات مرتب کرے گا۔ گو ایران کی رجیم اس معاہدے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے تاہم پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تاریخی باہمی رشتوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس معاہدے کی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی قوت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اس حوالے سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیے اور سعودیہ کا دفاعی معاہدہ علاقائی امن کے لیے مددگار ثابت ہوگا جس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ دفاعی معاہدے پر دستخط خانہ کعبہ کی حدود میں کیے گئے۔ انھوں نے واضح کیا کہپوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اتحاد کا پیغام دیا، معاہدہ ہر پاکستانی کی کامیابی ہے ۔

ادھرقصر الصفا میں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقا ت بھی ہوئی، اس انتہائی اہم ملاقات میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

اس طرح اس معاہدے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس معاہدے پر تینوں ملکوں کی ٹاپ قیادت نے دستخط کیے۔ عالمی ذرائع ابلاغ پر بھی اس حوالے سے آراء سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کے اخبارات میں بی بی سی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے مابین ہونے والا یہ معاہدہ اہم ضرور ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے بعد سب کچھ بدل جائے گا۔

بلاشبہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور اسرائیل کے عزائم کے تناظر میں یہ معاہدہ بہت اہم ہے، فی الحال تو نہیں لیکن مستقبل میں امریکا بتدریج مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے پر غور کر رہا ہے، بظاہر یہ تینوں ممالک ایک مضبوط اتحاد بنا کر اس کے متبادل کے طور پر یہاں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ اتحاد اس حوالے سے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بعض حلقوں کی یہ رائے بھی ہے کہ آگے چل کر اس معاہدے میں مصر اور قطر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ برسوں بعد ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔

مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کے ذریعے بظاہر یہ پیغام دینا مقصود ہو گا کہ کسی کو بھی خطے میں جارحیت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف آنکھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عالمی سطح پر ہونے والی نئی صف بندیوں کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر ایشیا، افریقہ اور بحیرۂ روم کے خطے میں اہم کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں مکہ مشترکہ معاہدے کو ترقی و خوش حالی کا باعث قرار دیا۔ تینوں برادر ممالک ایمان، دوستی اور امن و سلامتی کے مشترکہ عزم کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

ترکیہ کے صدررجب طیب اردوان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اوراستحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے، اجتماعی دفاعی صلاحیت پرمبنی یہ معاہدہ ہماری سیکیورٹی اوردفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون میں اہم کردار ادا کرے گا ،معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51 میں بیان کردہ دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے۔

اس تاریخی معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی اور ترکیہ ایک دوسرے کے قریب آئے، یوں پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کو دوستی کے بندھن میں باندھ دیا ۔

اس معاہدے کے پیش منظر اور پس منظر کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ اچانک نہیں ہوا، پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں۔ یقینا اس میں توسیع کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہو گا۔

ترکیہ کے پالیسی سازوں کو اس میں شامل کرنا یقینا پاکستان اور سعودی قیادت کی اولین ترجیح ہو سکتی ہے۔ ایران امریکی محاذ آرائی، بحری سلامتی کو درپیش خطرات، مشرق وسطیٰ میں ڈرونز اور میزائل کو بڑھتا استعمال، علاقائی نظام کے مستقبل کی غیریقینی نے تینوں ملکوں قائل کیا کہ دفاعی تعاونضروری ہو چکا ہے۔

روایتی فوجی اتحاد کے برعکس مکہ معاہدہ کا مقصد جارحیت کی روک تھام، علاقائی استحکام اور اسٹریٹجک لچک محفوظ بنانا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ معاہدہ شمولیت پر مبنی فریم ورک ہے، مقصد محاذ آرائی یا موجودہ پارٹنرشپس کو متاثر کرنا نہیں۔

معاہدہ میں شامل تینوں ملکوں کو منفرد اسٹریٹجک فوقیت حاصل ہے، مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کے پاس وسیع آپریشنل مہارت کی حامل فوج ہے،ترکیہ کے پاس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی صنعت ہے، سعودی عرب کے پاس مالی وسائل، سرمایہ کاری کی استعداد اور سفارتی اثرورسوخ ہے، جو اس دفاعی اتحاد کو مضبوط بناتی ہیں۔

خلیج کے حالیہ بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے کردار کے نتیجے میں پاکستان کا اسٹریٹجک کردار کھل کر سامنے آیا ہے اور اقوام عالم کو بھی پتہ چلا ہے کہ خلیج کے معاملات کو بہتر رکھنے کے لیے پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس معاہدے میں چونکہ تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کا بھی ذکر ہے اس لیے اس کے معاشی فوائد بھی ظاہر ہوں گے۔ ترکیہ کے لیے جنوبی ایشیا میں تجارت کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ فوجی تعاون کے علاوہ یہ معاہدہ دفاعی آلات کی مشترکہ پیداوار بڑھانے، انٹیلی جنس شیئرنگ، مربوط فوجی مشقوں، سائبر سیکیورٹی میں تعاون اور مربوط فضائی دفاع کے فروغ میں معاون ہو سکتا ہے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ معاہدہ میں مزید ہم خیال ریاستوں کی شمولیت کی دانستہ گنجائش رکھی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق مکہ معاہدہ دفاعی تعاون کی انتہا کے بجائے نئے علاقائی نظام کے آغاز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے ترکیہ اور سعودی عرب انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دے کر اپنی معیشت کو بہتر کر سکتا ہے۔ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قیام پاکستان سے ہی بہت اچھے چلے آ رہے ہیں۔

ادھر پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی قریبی اسٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی اور عوامی تعلقات رکھتے ہیں۔ یوں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کثیرالجہتی مشترکہ اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔

اس سے تینوں ملکوں کو صرف دفاع کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اقتصادی اور تجارتی حوالے سے بھی بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ پاکستان آنے والے دنوں میں ترقی کی نئی شاہراہ پر تیزی سے سفر کرنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

Load Next Story