نیتن یاہو نے ٹرمپ کا 15 نکاتی غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا
فوٹو: بشکریہ بی بی سی
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی غزہ امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ سے فوجی واپس نہیں بلائی جائیں گی۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی منصوبہ مسترد کرتا ہے اور اسرائیلی فوجیں اس وقت تک دستبردار نہیں ہوں گی جب تک حماس مکمل طور پر غیرمسلح نہیں ہوتی اور جب تک ہماری افواج اور شہریوں کو ان کی جانب سے خطرہ برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم حماس کے جھوٹے انداز میں غیرمسلح کے بجائے حقیقی غیرمسلح ہونے کی بات کر رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے اسی طرح کا مؤقف رواں ہفتے سوشل میڈیا پیغام میں بھی اپنایا تھا۔
نیتن یاہو نے واضح کیے بغیر کہا کہ وہ اب امریکی عہدیداروں کے ساتھ بات کررہے ہیں کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، ان کے پاس منصوبہ ہے، جس میں سے کچھ ہمیں قبول ہیں اور کچھ ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہ معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر قائم ہے اور 15 نکاتی پؤمنصوبے پر ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یقینی بنائیں کہ طے پانے والے منصوبے پر تمام فریقین عمل درآمد کریں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں حماس کو غیرمسلح کرنے کی شرط رکھی گئی تھی اور حماس نے غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کی صورت میں غیرمسلح ہونے کی شرط مان لی تھی۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام غیرجانب سیٹ اپ کے ذریعے چلانا تھا اور معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پیس بورڈ کا قیام بھی شامل تھا تاکہ غزہ کی بحالی اور تعمیر نو مکمل ہو۔