تو ’’ایکس‘‘ میں ’’زی‘‘ وہ ’’بومر‘‘۔۔۔۔کیا ہے یہ گھن چکر؟
بڑی بہن کے گھر ہونے والی دعوت ختم ہوئی اور تصویر کشی کا دور شروع ہوا، کسی نے آواز لگائی’’پہلے جین زی کی تصویر ہوجائے پھر ایکس اور بومرز کی باری ہے۔‘‘ یہ محض مذاق تھا، لیکن اس سے ظاہر ہوا کہ زمانوں اور ادوار کے حساب سے ’’پیڑھیوں‘‘ کا تصور ہمارے ہاں کس قدر عام ہوچکا ہے، اور ’’جین زی‘‘ کا تو چرچا یوں ہورہا ہے جیسے ہمارے دیس میں پچھلی ساری نسلوں سے کٹی پھٹی اور ان کے اثرات سے پاک ایک نئی نسل گویا ’’بغیر سیاق وسباق‘‘ کے وجود میں آگئی ہو۔
ہمارے سندھ میں پہلی ملاقات کے موقع پر ایک سوال پوچھا جاتا ہے ’’پانڑکیر‘‘ (آپ کون؟)، جس کا جواب ’’پنھور‘‘،’’کیہر‘‘، ’’جوکھیو‘‘۔۔۔۔وغیرہ کی صورت اپنی اپنی ذات، برادری اور قبیلے کی نسبت بتاکردیا جاتا ہے۔ لیکن حالات بتارہے ہیںکہ جلد اس استفسار پر جواباً زی، ایلفا، بی ٹا۔۔۔ہوگا۔ مجھ پر کوئی دو سال پہلے منکشف ہوا کہ میں ’’ایکس‘‘ ہوں، میں سوچ میں پڑگیا کہ اگر ایکس نسل کا کوئی شخص ایکس سرونٹ اور ایک ہسبینڈ کی پہچان بھی رکھتا ہو تو ’’ٹریپل ایکس‘‘ ہوکر وہ خود کو کتنا بے ہودہ محسوس کرتا ہوگا!۔
سوال یہ ہے کہ کیا جنریشنز کے اس درآمدی تصور میں کوئی حقیقت ہے؟ کیا تاریخ کے کسی بڑے اور ہمہ گیر واقعے یا کسی نئی ٹیکنالوجی کے ظہور کے اثرات اس قدر گہرے اور وسیع ہوتے ہیں کہ ان کے زیراثر کئی سال تک دنیا بھر میں پیدا ہونے والے بچے زیادہ یا چند بنیادی یکساں خصوصیات کے حامل ہوجاتے ہیں، سو انھیں بومر، ایکس اور ایلفا، بیٹا کا نام دے کر بڑی سہولت سے جنریشن کے کسی خانے میں فٹ کیا اور اس پیمانے پر افراد کا کردار سمجھا اور شخصیت کا خاکہ بنایا جاسکتا ہے؟
چلیے پہلے ان ’’جنریشنز‘‘ کا تعارف اور ان کی وجہ تسمیہ سے شناسائی ہوجائے۔ تو صاحب شروع کرتے ہیں’’بے بی بومرز (Baby Boomers) سے، یہ وہ خواتین وحضرات ہیں جن کی پیدائش جنگ عظیم دوئم کے فوری بعد ہوئی۔ یہ نام رکھنے کا سبب یہ بنا کہ اس جنگ کے بعد 1946 میں شرح پیدائش میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا، گویا ولادت کی منڈی میں Boom (شدید تیزی) آگیا تھا، دھڑادھڑ نورِنظر اور لخت جگر پیدا ہونے کے اس دور کا خاتمہ 1964میں ہوا، سو اس دورانیے میں جو آئے بے بی بومرز کہلائے۔ پھر آمد ہوئی ’’ایکس‘‘ کی۔ یہ پیڑھی 1965 سے 1980 تک تولد ہوئی۔
انھیں ’’بے بی بسٹرز‘‘ ( busters baby) بھی کہا گیا، لیکن یہ نام چلا نہیں، اور ڈگلس کوپلینڈ کے ناول کا عنوان ’’جنریشن ایکس‘‘ ان کی پہچان بنا۔ نئی صدی شروع ہوئی تو اس کے قریب 1980سے 2000 کے اوائل تک، جنم لینے والے نئی صدی یا Millennium کی مناسبت سے ’’ملینیئلز‘‘ (Millennials) کہلائے۔ اس کے بعد مشہورزمانہ ’’جین زی‘‘ کا ظہور ہوا۔ اپنا لڑکپن آئی فونز کی سنگت میں گزارتی اس پیڑھی کی عصری حدود 1995سے 2012 تک متعین کی گئیں۔ گویا 1995سے 2000 تک دنیا میں آنے والے متنازع ہوگئے ہیں کہ انھیں ’’ملینیئلز‘‘ کے ڈبے میں بٹھایا جائے یا ’’زی‘‘ کے خانے میں جگہ دی جائے۔
زی کے بعد خیر سے ’’الفا‘‘ نسل بھی آچکی ہے۔ یہ 2010 سے شروع ہوئی اور 2020 کی دہائی تک جاری رہی۔ اس کی مدت پیدائش پر فی الوقت اتفاق نہیں، لیکن یہ نسل کسی اتفاق کا انتظار کیے بغیر پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس کے بعد آنا ہے ’’بی ٹا‘‘ (Beta) پیڑھی، جس کی آمد کی ابتدا 2025 سے ہوئی اور اختتام 2039 میں ہوگا۔ ان پیڑھیوں میں رہتے ہوئے آپ کو بڑے محتاط انداز میں زبان استعمال کرنا ہوگی، ایسا نہ ہو کہ آپ کسی نوجوان کو کہیں ’’بیٹا‘‘ اور وہ پلٹ کر جواب دے،’’میں بی ٹا نہیں الفا ہوں۔‘‘
یہاں بتانا ضروری ہے کہ ’’سماجی نسلوں‘‘ کا تصور اور ان کے لیے نام مختص کرنا سب مغرب کا چکر ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے براہ راست اور بالواسطہ طور پر سات کروڑ افراد کی جان لی، چناں چہ خاندان ہی نہیں ریاستیں بھی زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر مُصر ہوگئیں، نتیجہ بومرز کی صورت میں سامنے آیا۔ دیگر سماجی نسلیں بھی بنیادی طور پر مغرب میں پیدا شدہ حالات کے اثرات کے تحت ہی مختلف رجحانات کی حامل رہیں اور انھیں نسبتوں سے انھیں نام دیے گئے۔ رہے ہم پاکستانی تو ہمارے بس ’’اُداس نسلیں‘‘ ہی جنم لیتی رہی ہیں۔ مغرب میں بومرز سے پہلی والی کئی پیڑھیاں بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں، جیسے ’’گم شدہ نسل‘‘ (Generation Lost)، جسے ’’1914 کی نسل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس پیڑھی کے لوگ 1883سے 1900کے دوران پیدا ہوئے اور جن پر پہلی عالمی جنگ کے دور میں جوانی آئی۔ دوسری جنگ میں حصہ لینے والی نسل ’’گریٹسٹ جنریشن‘‘ کہلائی، اس نسل میں 1901 سے 1927 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد شامل ہیں۔ ایک ’’خاموش نسل‘‘ بھی گزری ہے۔ 1928 سے 1945کے دوران جنم لینے والی یہ نسل دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں جوان ہوئی۔
اب پلٹتے ہیں اپنے سوال کی طرف جو ان نسلوں کی طرح پیدا ہوگیا ہے۔ خود مغرب میں جہاں سے سماجی نسلوں کا تصور ان کے مجموعی کردار اور شخصیت کے خاکے کے ساتھ آیا، یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ کیا یہ تصور حقیقت میں کوئی معنی رکھتا ہے؟ جہاں تک ہمارے معاشرے کا تعلق ہے تو نسلوں کے ان عنوانات کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس نسلی تفریق کو، ہمارے ہاں جس کے نام بومرز، ایکس اور زی دھڑلے سے استعمال ہورہے ہیں، ویکیپیڈیا نے ’’مغربی دنیا‘‘ کے عنوان کے تحت درج کیا ہے۔
دنیا کے دیگر خطوں میں سماجی نسلوں کو مختلف ممالک میں تاریخی ومعاشرتی تبدیلیوں کی مناسبت سے الگ الگ نام دیے گئے ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں۔ چین میں ’’Post-80s سے مراد وہ افراد ہیں جو 1980 کی دہائی میں سرزمینِ چین کے شہری علاقوں میں پیدا ہوئے۔ جدید چین میں پروان چڑھنے والی اس نسل کو مستقبل کے بارے میں امید، صارفیت اور کاروباری رجحان کے لیے جوش، اور چین کو معاشی طاقت بنانے میں اپنے تاریخی کردار کے شعور کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح ’’Post-90s‘‘ ان افراد کو کہا جاتا ہے جو 1990کے بعد پیدا ہوئے۔ اس سے بھی وسیع اصطلاح ’’ایک بچے کی نسل‘‘ ہے، جس میں 1979 میں ایک بچے کی پالیسی کے نفاذ سے لے کر 2015 میں اسے دو بچوں کی پالیسی میں نرم کیے جانے تک پیدا ہونے والے افراد شامل ہیں۔
بہن بھائی نہ ہونے کی وجہ سے اس نسل پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے، مثلاً والدین کی تمام توجہ کا مرکز ہونے کے باعث خود مرکزی، اور والدین کی ریٹائرمنٹ کے بعد واحد کفیل بننے کا ذہنی دباؤ۔ روس میں نسلوں کی خصوصیات ان تاریخی واقعات سے متعین ہوتی ہیں، جنھوں نے ملک کی زندگی یا کسی دور کے سماجی اصولوں کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ روسی نسلوں کے ناموں میں ’’فاتحین کی نسل، سرد جنگ کی نسل، پیریستروئیکا کی نسل، اور ’’ڈیجیٹل نسل‘‘ شامل ہیں۔ سنگاپور میں 1949 سے پہلے پیدا ہونے والے افراد کو ملک کی ابتدائی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے باعث ’’پیش رو (Pioneer) نسل‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ 1950سے 1959 کے درمیان پیدا ہونے والی پود ’’آزاد نسل‘‘ کہلاتی ہے۔
جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ( 1994) کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو عموماً ’’پیدائشی آزاد نسل‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ 2000 کے بعد پیدا ہونے والوں کو ’’Ama 2000‘‘ کہا جاتا ہے، یہ اصطلاح موسیقی اور ایک اشتہار کے ذریعے مقبول ہوئی۔ جنوبی کوریا میں نسلوں کی تعریف اکثر ملک کی جمہوریت کی تحریکوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہاں ’’نسل 386 نسل‘‘، ’’اپریل کی نسل‘‘، ’’3 جون کی نسل‘‘،’’ 1969کی نسل‘‘ اور ’’شن سے دے (نئی نسل‘‘ کی اصطلاحات مروج ہیں۔ تائیوان میں ’’اسٹرابیری نسل‘‘ ان افراد کو کہا جاتا ہے جو 1981کے بعد پیدا ہوئے۔ اس اصطلاح سے مراد ایسے نوجوان ہیں جو اسٹرابیری کی طرح آسانی سے ’’زخمی‘‘ ہوجاتے ہیں، یعنی ہماری زبان میں ’’چھوئی موئی۔‘‘
قوموں نے سماجی پیڑھیوں کو تصور اپنایا بھی ہے تو اسے نام اپنی کہانی سے دیے ہیں، پرائے پھڈے میں ’’ہاتھ اڑ کر‘‘ نام نہیں اُڑائے۔
جن کا یہ ’’پھڈا‘‘ ہے وہ خود اس سے نالاں ہیں۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی دانش ور اور قلم کار شیلا کیلہم ( Callaham Sheila)، وہ مشہور رسالے forbes کی مضمون نگار ہیں۔ رسالے میں شایع ہونے والے ان کے ایک مضمون کا عنوان ہے ’’نسلی لیبلز: اب انہیں ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے کا وقت کیوں ہے؟‘‘ ان کا موقف ہے،’’عمر کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نشانہ بنانا اور نسلوں پر انگلیاں اٹھانا صحتِ عامہ سے لے کر روزگار تک، ہر معاملے میں معاشرتی رویوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
اور یہ سلسلہ دونوں طرف سے چلتا ہے۔ یہ صورت حال بلاشبہہ انتہائی ناخوش گوار ہے، لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ ثقافت نے ہمیں یہ یقین دلانے کے لیے دھوکا دیا ہے کہ ان لیبلز کی کوئی حقیقی یا سائنسی اہمیت ہے۔‘‘ ان سطور میں شیلا نے ان اثرات کی نشان دہی کی ہے جو ادوار کی بنیاد پر پیڑھیوں کی گروہ بندی کے باعث امریکا اور مغربی ممالک کے دفاتر اور کارگاہوں میں مرتب ہورہے ہیں۔
عمر کے مختلف گروہوں کو دیے گئے نسلی عنوانات یہ تاثر دیتے ہیں کہ ایک دور میں پیدا ہونے والے تمام لوگوں کے نظریات، رویے اور اقدار ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان عنوانات کو مارکیٹنگ اور اشتہارات کی حکمتِ عملیوں کے ساتھ مضامین اور تحقیقی سرگرمیوں میں بھی دھڑلے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں انھیں مقبولیت کی سند تو مل چکی ہے، لیکن ان سے منسوب خصوصیات سطحی اور گم راہ کن ہیں، جو بعض اوقات باہمی تعصب اور نفرت کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ عمر کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نشانہ بنانے اور ’’سماجی نسل‘‘ کی بنیاد پر حرف زنی کرنا مغربی ممالک میں جائے کار سے عوامی مقامات اور گھروں سے بازاروں تک ہر جگہ چلن بنتا جارہا ہے۔ یہ رجحان اب ہمارے معاشرے میں بھی نظر آنے لگا ہے۔
یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ ہمیں باور کرایا گیا ہے کہ ان لیبلز کی کوئی حقیقی یا سائنسی اہمیت ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بالکل بے معنی ہیں۔ مغربی میں کچھ لوگ تو ’’سماجی نسلوں‘‘ کے اس تصور سے اس قدر بے زار ہیں کہ وہ اس کے خلاف مہم چلارہے ہیں، جیسے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر آف سوشیالوجی، ڈاکٹر فلپ این کوہن، جو ان عنوانات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔ چند سال قبل ڈاکٹر کوہن نے ’’پیو ریسرچ سینٹر‘‘ ( Pew Research Center) کو ایک کھلا خط بھیجا، جس میں انھوں نے پیو ریسرچ سینٹر سے التجا کی کہ وہ ایسے نسلی لیبلز استعمال کرنے سے گریز کرے جو سماجی تحقیق کے سائنسی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔
ڈاکٹر کوہن اور اس خط پر دست خط کرنے والے 150 دیگر ماہرینِ آبادیات اور سماجی سائنس داں سماجی نسلوں کے حوالے سے پیو ریسرچ سینٹر کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے، اور اس طریقے سے تو بالکل نہیں جس کے تحت ان نسلوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ اپنے خط میں ڈاکٹر کوہن نے لکھا،’’ہم پیو کے سروے اور دیگر تحقیقات کی قدر کرتے ہیں، لیکن ہم ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے اس کام کو سماجی تحقیق کے سائنسی اصولوں کے مطابق بنائیں۔‘‘ اپنے موقف کے حق میں انھوں نے چھے دلائل پیش کیے:
پیدائش کا سال بہ مقابلہ حقیقی نسل: یہ گروہ محض پیدائش کے سال کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں اور ان کا حیاتیاتی یا خاندانی نسلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، والدین اور ان کی اولاد آسانی سے ’’سائلنٹ جنریشن‘‘ یا ’’بومر‘‘ کے ایک ہی خانے میں فٹ ہوسکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کیوںکہ ان گروہوں کے برسوں کی مدت بہت زیادہ اور غیرمستقل ہوتی ہے، جو کہ 16 سے 19 سال کے درمیان کہیں بھی ہوسکتی ہے۔
من مانی حدیں: ان ناموں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ ڈاکٹر کوہن پیو ہی کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر امریکی خود ان نسلوں کی شناخت نہیں کرسکتے جن سے پیو کے مطابق وہ تعلق رکھتے ہیں۔
بگاڑ اور دقیانوسی تصورات: نسلوں کو مخصوص نام دینا ایک منفرد کردار کا تاثر دیتا ہے، اور پھر بغیر کسی بنیاد کے ایک متنوع آبادی پر مخصوص خصوصیات تھوپ دی جاتی ہیں، جس کا نتیجہ اجڈ اور سطحی دقیانوسی تصورات کی شکل میں نکلتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ صرف ایک نام نہاد سائنس (pseudoscience) ہے۔
اہم تحقیق کو نقصان:کوہورٹ انالیسس ( cohort analysis، کسی خاص عمر کے گروہ کا تجزیہ) سماجی سائنس کے مطالعے اور ابلاغ کے لیے اہم اوزار ہے، لیکن نسلوں کے موضوع پر مقبول ہونے والے زیادہ تر سروے اور رپورٹس کے لیے ’’کراس سیکشنل ڈیٹا‘‘ (ایک ہی وقت کا عارضی ڈیٹا) استعمال کیا جاتا ہے، جو سرے سے کوہورٹ ریسرچ ہے ہی نہیں۔
غلط شناخت کا پھیلاؤ: نسلی لیبلز کو عام طور پر سرکاری کیٹیگریز اور شناختی علامتیں سمجھنے کی سنگین غلطی کی جاتی ہے۔ یہ الفاظ جتنے زیادہ استعمال ہوں گے، یہ مسئلہ اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا۔
بس ایک مذاق: ان نسلی لیبلز کی حیثیت اب ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔
کوہن نے اپنے اس کھلے خط کے بعد واشنگٹن پوسٹ میں ایک کالم بھی لکھا جس کا عنوان تھا،’’نسلوں کے لیبلز کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اب انھیں ریٹائر کر دینے کا وقت آچکا ہے۔‘‘ وہ لکھتے ہیں،’’کیا یہ ٹیگز لکھنے والوں کے لیے محض تھوڑی سی تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں؟ قارئین کے لیے ایک پرکشش سرخی اور نسلی تبدیلی کو بیان کرنے کا ایک طریقہ۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ہم سماجی سائنس میں معاشرتی تبدیلی کا مطالعہ کرتے اور پڑھاتے ہیں، لیکن ہم ان فرضی کیٹیگریز کو نہیں پڑھاتے کیوںکہ یہ حقیقی نہیں ہیں۔‘‘
12 جولائی 2021 کو پیو میں سوشل ٹرینڈز کی ڈائریکٹر کم پارکر نے ڈاکٹر کوہن کے اس خط کا جواب شائع کیا، جس میں
نسلی لیبلز کی حدود کا اعتراف کیا اور یہ بھی مانا کہ اس درجہ بندی سے عمر کے حوالے سے تعصب یا دقیانوسی تصورات جنم لے سکتے ہیں۔
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ادوار کی بنیاد پر پیڑھیوں کو دیے گئے یہ نام آئے کہاں سے اور عام ومقبول کیسے ہوئے؟ ڈاکٹر کوہن اپنے مضمون میں اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں،’’ان ناموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کبھی بھی کسی سائنسی تحقیق کا حصہ نہیں تھے۔ یہ اصطلاحات اشتہاری ایجنسیوں، میڈیا ہاؤسز اور پاپ کلچر کی پیداوار ہیں۔ مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنا سامان بیچنے کے لیے آبادی کو بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت تھی، اور انھوں نے یہ لیبل ایجاد کرلیے۔ میڈیا کو کلکس اور سنسنی خیزی چاہیے تھی، اس لیے اس نے نسلوں کی جنگ‘‘ کے فرضی قصے گڑھنا شروع کر دیے۔‘‘
تو کُل ملا کر بات یہ ہوئی کہ یہ سب نظر کا دھوکا ہے۔
افراد کو سَن پیدائش کی بنیاد پر بانٹ دینے کی سوچ کی مخالفت میں مغرب کے اور بھی اہل فکرودانش سرگرم ہیں۔ امریکی ناقد پروفیسر لوئس مینینڈ (Louis Menand) ’’دی نیویارکر‘‘ میں چھپنے والے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ اس دعوے کی کوئی تجرباتی (سائنسی) بنیاد موجود نہیںکہ ایک ہی نسل کے افراد کے درمیان اختلافات، مختلف نسلوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے کم ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، نسلی نظریات بظاہر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایک نسل کے بالکل آخری برس میں پیدا ہونے والے اور اگلی نسل کے بالکل پہلے برس میں پیدا ہونے والے افراد (مثلاً 1964 میں پیدا ہونے والا شخص، جو بے بی بومر نسل کا آخری سال تھا، اور 1965 میں پیدا ہونے والا شخص، جو جنریشن ایکس کا پہلا سال تھا) کی اقدار، پسند و ناپسند اور زندگی کے تجربات ایک دوسرے سے مختلف ہونے چاہییں۔ اسی طرح یہ نظریات یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ ایک ہی نسل کے پہلے اور آخری سال میں پیدا ہونے والے افراد ایک دوسرے سے زیادہ مشابہ ہوں گے، بجائے ان لوگوں کے جو ان سے صرف ایک یا دو سال پہلے یا بعد میں پیدا ہوئے ہوں۔ لوئس مینینڈ کا استدلال یہ ہے کہ نسلوں کی یہ سخت سرحدیں حقیقت میں واضح طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں، کیونکہ صرف ایک سال کے فرق سے لوگوں کی اقدار اور تجربات اچانک تبدیل نہیں ہوجاتے۔
صارفین کے رویوں کے ماہر ڈیوڈ ایلیسن کہتے ہیں، ’’نسلوں کی یہ لیبلنگ سراسر بکواس ہے۔ ہم نے 180 ممالک میں 152 زبانوں میں لگ بھگ 750,000 لوگوں کا سروے کیا ہے۔ ہم نے بنیادی انسانی اقدار کا پتا لگایا اور انہیں ناپا ہے، جو کہ وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی چلاتے ہیں۔ اور جو کچھ ہمیں معلوم ہوا وہ یہ ہے کہ عمر پر مبنی یہ گروہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔‘‘ایلیسن کا کہنا ہے،’’ایک ہی عمر کے گروہ کے لوگوں میں مماثلت صرف 10.5 فی صد ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمر کے گروپ کے اندر تقریباً 90 فی صد لوگ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔‘‘
انسانی شخصیت کی تعمیر اس کا خاندان، ذاتی حالات، اردگرد پیش آنے والا واقعات، ماحول اور دیگر عوامل کرتے ہیں، جن کی بنا پر کسی بھی عمر کے دو افراد یکساں رجحانات اور خیالات کے حامل ہوسکتے ہیں اور دو ہم عمر افراد فکروعمل میں ایک دوسرے سے کوسوں دور، چناں چہ کسی خاص سال میں پیدا ہونے کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا منطقی طور پر درست نہیں۔ یہ لیبلز، جنھیں ہم بلاوجہ اور بڑی آسانی سے استعمال کیے جارہے ہیں دراصل انسانی تجربات کی گہرائی اور تنوع کا انکار ہیں۔ یہ ایک طرح کی سستی دانش وری ہے جو معاشرے اور حقائق کو سمجھنے کے بجائے انھیں مزید الجھا دیتی ہے۔
ہنسی مذاق اور تفریح تک ٹھیک ہے، لیکن ان درآمد شدہ ناموں اور ادوار کی بنیاد پر پیڑھیوں کی تقسیم کے تصور کو حقیقت سمجھنے سے گریز کریں۔ انسان اتنی آسان مخلوق نہیں کہ اسے ’’ایکس‘‘ اور ’’زی‘‘ میں بانٹا اور خیالات اور رجحانات کا ایکسرے کرلیا۔