ضلع نوشہرہ
خیبرپختونخواہ کے پشاور ڈویژن میں واقع ضلع نوشہرہ نہ صرف اس صوبے کا اہم اور تاریخی شہر ہے بلکہ ماضی کا مصروف جنکشن بھی ہے۔
دو دریاؤں کے سنگم پہ واقع سرائے نوشہرہ کے نام سے مشہور یہ خطہ صدیوں سے مختلف تجارتی قافلوں اور فوجوں کی گزرگاہ رہا ہے۔ اکوڑہ خٹک اور اضاخیل کے گردونواح میں واقع قدیم آثارِقدیمہ اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ علاقہ ہزاروں برس سے آباد چلا آ رہا ہے۔
جغرافیہ و طبعی خدوخال
پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، اٹک اور کوہاٹ کے بیچ واقع نوشہرہ تین تحصیلوں پر مشتمل ہے جن میں نوشہرہ کے علاوہ پبی اور جہانگیرہ شامل ہیں۔ جہانگیرہ رقبے جبکہ نوشہرہ آبادی کے لحاظ سے بڑی تحصیل ہے۔
یہ ضلع پہلے پشاور کی ایک تحصیل تھی جسے یکم جولائی 1998 میں الگ ضلع بنایا گیا تھا جس کا کل رقبہ 1748 مربع کلومیٹر اور آبادی لگ بھگ اٹھارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ پشتو سب سے بڑی زبان ہے جبکہ ہندکو، پنجابی اور اردو بھی بولی جاتی ہے۔
تین دریاؤں کی سرزمین نوشہرہ کو دریائے کابل دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ شمالی ایک چوتھائی حصے میں (پیر سباق، رسلاپور، رشکئی) دریائے کابل کا زرخیز میدان اور ندی نالوں کی گزرگاہیں واقع ہیں جبکہ تین چوتھائی جنوبی حصہ (زیارت کاکا صاحب، نظام پور، جبی) زیادہ تر بڑے پہاڑوں پر مشتمل ہے جہاں سے کئی ندی نالے نکلتے ہیں۔ مشرقی سرحد پہ دریائے سندھ بہتا ہے جو خیرآباد کے قریب کابل کو خود میں سمو لیتا ہے۔ باڑہ نامی دریا تیراہ وادی سے نکل کے خیبر و پشاور سے ہو کر نوزہرہ کے شمال مغرب میں اکبرپورہ کے قریب دریائے کابل میں مل جاتا ہے۔
نوشہرہ شہر کے شمالی علاقے کو نوشہرہ کلاں جبکہ کابل سے جنوب میں واقع حصے کو نوشہرہ خورد کہا جاتا ہے۔
تاریخی اہمیت
نوشہرہ، یعنی نیا شہر تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ قدیم دور میں یہ علاقہ گندھارا تہذیب کے زیرِاثر رہا جس کے بعد سکندر اعظم ، موریہ سلطنت، کشان، غزنوی، غوری، مغل، درانی، سکھ اور نوآبادیاتی دور کے بہت سے اتار چڑھاؤ اس خطے نے دیکھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ شہر شہنشاہ جلال الدین اکبر نے 1581 سے 1586 کے درمیان میں آباد کیا تھا۔ جرنیلی سڑک کے بننے سے اس کے بھاگ مزید کھل گئے تھے۔ اس ضلع کے علاقے مغل فوجوں کے لیے اٹک پار قبائلی علاقوں کو فتح کرنے کے لیے گیٹ وے کا کام کرتے تھے۔ دریائے سندھ پار کرتے ہی خیرآباد و جہانگیرہ اہم علاقے تھے جہاں اکبر نے ایک قلعہ بھی تعمیر کروایا تھا۔
نوشہرہ کے خوشحال خان خٹک نے شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں مغلوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا، لیکن یوسف زئی خیبر پختونخوا میں مغل حکمرانی کے مخالف تھے۔ شاہ جہاں نے خوشحال خان خٹک کو پشاور جانے والی شاہراہ کا محافظ مقرر کیا اور قبائلی سردار کی حیثیت سے ان کے عہدے کی توثیق کی۔ اورنگزیب کے دورِحکومت میں، محصول کی وصولی پر ایک مغل گورنر کے ساتھ تنازعے کے باعث خٹک قبائل نے مغل سلطنت سے تعلقات ختم کرلیے۔
اورنگزیب کی وفات کے بعد نادر شاہ نے پٹھانوں کی مدد سے اس خطے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اس کے نامور جانشینوں میں سے ایک، احمد شاہ ابدالی نے پشاور کی وادی سے ہندوستان کے مختلف علاقوں کی جانب کئی فوجی مہمات کا آغاز کیا۔ 1750 کی دہائی کے اوائل میں مرہٹوں کے حملے کے باعث ابدالی کے دورِ حکومت (1747–1772) میں عارضی تعطل پیدا ہوا، تاہم وہ 1761 میں پختون علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔
سکھوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کی قیادت میں 1818 میں خیبر پختونخوا پر حملہ کیا۔ انہوں نے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کو اپنی عملداری میں لیا اور پھر پورے صوبے پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے ایک عرصے تک ان علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا جسے برطانوی سامراج نے 1849 میں ختم کیا۔
چھاؤنیوں کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے یہاں ریلوے لائن بچھائی۔ نوشہرہ کو پشاور کے علاوہ شمال میں مردان اور درگئی تک سے ملا دیا گیا۔
دفاعی اہمیت
قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے نے مزید ترقی کی اور اس کے بہترین جغرافیہ کی بدولت یہاں نئی فوجی تنصیبات قائم کی گئیں۔ نوشہرہ اور رسالپور چھاؤنی کے علاوہ چراٹ کے مقام پر سپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) کی چھاؤنی قائم کی گئی۔ تبھی اس شہر کو چھاؤنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
رسالپور میں ائیر فورس اکیڈمی، ملٹری کالج آف انجینئرنگ، کالج آک ائیروناٹیکل انجینئرنگ سمیت کئی اہم اداروں نے اس ضلع کو حساس اور اہم ترین بنادیا۔
نوشہرہ بزرگان دین کا علاقہ بھی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، نوشہرہ میں ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے صوفیاء کرام اور اولیائے کرام بھی مدفون ہیں جن میں شیخ رحمکاریہ عرف کاکا صاحب، بھادر بابا، شیر گوہرعرف بابر بابا جیسے ہستیوں کا مزار ہے۔ خوشحال خان خٹک، اجمل خٹک اور سعداللّہ جان برق جیسے ادیبوں کا علاقہ بھی یہی ہے۔
آئیے اس ضلع کے مشہور و تاریخی مقامات کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔
تاج بلڈنگ اور اس کا تاریخی پسِ منظر
جی ٹی روڈ پر واقع نوشہرہ کی تاریخی ایک سو چھبیس سال پرانی یہ عمارت تاج بلڈنگ،1920 میں بنائی گئی تھی۔ یہ تین منزلہ عمارت ہے جو ایک منفرد شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں دل فریب ہندوستانی، رومن اور گوتھک آرکیٹیکچر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ ہے۔
تاج بلڈنگ جیسی تاریخی عمارت بنانے والی شخصیت کا نام جناب تاج خان (خان بہادر) ولد عبدالحمید خان سکنہ بدرشی ویلج نوشہرہ تھا۔ ااپ کا پیشہ تجارت تھا اور آپ کا شمار برٹش آرمی کے چند نامی گرامی کنٹریکٹرز یعنی ٹھیکے داروں میں ہوتا تھا۔ موصوف بڑے پیمانے پہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں برٹش آرمی کو پانی، خوراک، یونیفارم اور مختلف سہولیات فراہم کرتے تھے۔
ان کی عمدہ کارکردگی اور خدمات کے طفیل انہیں خان بہادر کے خطاب سے نوازا گیا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے امیر ترین معززین میں ہوتا اور جس کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند میں بہت عزت وقار حاصل تھا۔
کہتے ہیں کہ ان کا تاج بلڈنگ بنانے کا مقصد برٹش آرمی کے افسران اور ان کی فیملیز کے ساتھ دیرینہ تعلقات قائم رکھنا اور معزز مہمانوں کی نوشہرہ آمد پر ان کے معیار و مزاج کے مطابق رہائش، اور تفریحی سہولتیں مہیا کرنا تھا۔
ابتدائی طور پر تاج بلڈنگ میں دوسری منزل پر رہائشی سہولتوں کے ساتھ تفریح کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارت کی پچھلی طرف ایک بڑا سرسبز لان بھی بنایا گیا تھا جو دریاے کابل تک پھیلا ہوا تھا اور ایک پر لطف نظارہ پیش کرتا تھا۔ برٹش دور میں جو وی آئی پی مہمان نوشہرہ آتے(برٹش آرمی افسران اور ان کی فیملیز) انہیں تاج بلڈنگ جیسی خوب صورت و دل فریب رہائش میں ٹھہرایا جاتا۔
معزز مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے رات گئے تک اوپن ایریا میں فنکشنز اور پارٹیز منعقد کی جاتیں۔ تفریح کے لیے بلڈنگ کے اندر موجود بڑے ہال میں بھی تقاریب رکھی جاتیں جن میں رنگ ترنگ کی محفلیں عروج پر ہوا کرتیں تھیں۔ بڑے ہال میں معزز مہمانوں کا دل لبھانے کے لیے مووی سنیما کا انتظام بھی کیا جاتا تھا۔
ولئی باغ سرائے/رنگ محل
ہماری تاریخ کی طرح یہ عمارت بھی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ نوشہرہ کے جنوب مشرق میں ہائی وے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں ولئی میں یہ تاریخی سرائے واقع ہے جسے رنگ محل اور ولئی باغ سرائے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ولئی چشمے کو کہا جاتا ہے اور گاؤں کے اس نام کی وجہ تسمیہ یہاں بہنے والے لاتعداد چشمے اور ندیاں تھیں، شاید اسی لیے یہ عمارت اس جگہ تعمیر کی گئی ہو۔
تاریخی اہمیت
رنگ محل یا ولئی باغ سرائے کے بارے میں تاریخ دان دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔
ایک روایت ہے کہ یہ مغلیہ دور کی سرائے ہے جسے سترہویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالم گیر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ اس دور کی ایک کاروں سرائے تھی جو مسافروں اور رئیسوں کے لیے آرام گاہ کے طور پر کام کرتی تھی۔
دوسری روایات میں ہے کہ یہ خوشحال خان خٹک (1613-89) کی اولاد میں سے کسی کی بنائی گئی سرائے یا شکارگاہ تھی۔
رضوان خٹک کے مطابق؛’’خوشحال خان خٹک کے بیٹے اشرف خان (بلند پایہ شاعر اور صاحبِ کلیات، اپنے اشعار میں نام کی بجائے تخلص استعمال کرنے والا پہلا پشتون)، اشرف کے بیٹے افضل خان (اورنگزیب کے بیٹے شاہ عالم کا شکاری دوست) اور افضل کے بیٹے سعد اللہ عرف شہید خان ( پ 1707، جو باپ کی زندگی میں ناراض ہو کے ان کے دشمن غیاث الدین کے ساتھ ٹیری میں رہتا تھا) پھر ان کے بیٹے سرفراز خان عرف سعادت مند خان تھے جن سے یہ عمارت منسوب ہے۔ یہ وہی سرفراز خان ہیں جب احمد شاہ ابدالی نے 1747 میں افغانستان سے آکر ہندوستان پر حملہ کیا تو سرفراز خان جو کہ اس وقت خٹک قبیلے کے سردار تھے، نے احمد شاہ ابدالی کا ساتھ دیا۔ یہاں نوشہرہ کے مقام سے ان کی پہلی لڑائی مرہٹوں کے خلاف ہوئی۔ مرہٹوں کو شکست دینے کے بعد دوسری بڑی لڑائی حسن ابدال کے مقام پر ہوئی جو اتنا خوںریز معرکہ تھا کہ اس میں سرفراز خان خٹک کے چھوٹے بھائی بھی شہید ہوئے۔
سرفراز خان خٹک نے احمد شاہ ابدالی کا ساتھ جہلم تک دیا۔ جہلم تک راستے میں آنے والے ہر دشمن کو شکست دی اور اسی جنگ کے دوران احمد شاہ ابدالی نے سرفراز خان کو ’’سعادت مند خان‘‘ کا خطاب دیا۔ سرفراز خان کا علاقہ اکوڑہ خٹک سے لے کر دریائے کْرم ضلع کوہاٹ تک تھا۔ یہ عمارت سرفراز خان عرف سعادت مند خان کی شکارگاہ تھی اور اسی طرح کی ایک اور عمارت ٹیری ضلع کوہاٹ میں بھی موجود ہے کیوںکہ سعادت مند خان اپنا علاقہ سنبھالنے کی غرض سے کچھ عرصہ اکوڑہ خٹک میں مقیم ہوتے تھے اور کچھ عرصہ ٹیری ضلع کوہاٹ میں گزارتے تھے۔‘‘
عمارت کے طرزتعمیر کو دیکھ کے یہی لگتا ہے کہ اس کا تعلق مغل دور سے ہے لیکن تعمیر کرنے والے کا نام تاریخ کے پنوں میں کہیں گم ہے۔
طرزِ تعمیر
چھوٹی اینٹ اور دیسی مسالے سے بنی اس عمارت میں کوئی لوہا یا سیمنٹ نہیں استعمال کیا گیا بلکہ اسے اْس دور کے مطابق مقامی پتھر، چونے اور مٹی سے تعمیر کیا گیا ہے۔
اس دو منزلہ عمارت کے سامنے شمالی سمت میں پانچ بڑے محرابی دروازے ہیں جب کہ پانچ محرابی دروازے جنوبی سمت میں اور دو پہلو میں واقع ہیں۔ یوں بارہ دروں والی اس عمارت کو بارہ دری بھی کہا جاسکتا ہے۔ محرابی کمروں کی گنبد نما چھت چھوٹی اینٹ سے بنائی گئی ہے جس پہ پرانا مصالحہ لگا نظر آتا ہے۔
اس کے اندرونی حصوں پر اب بھی مختلف رنگوں کا خوب صورت فریسکو کا کام نظر آتا ہے شاید اسی لیے مقامی اسے رنگ محل کہتے ہیں۔ عمارت کی نچلی منزل زمین دوز یعنی تہہ خانے کی طرح ہے جس تک پہنچنے کے لیے اطراف میں دو زینے بھی موجود ہیں۔ نچلی منزل کی دیواریں لگ بھگ پانچ فٹ سے کچھ زیادہ موٹی ہیں جس کی وجہ سے رنگ محل کا یہ حصہ کافی ٹھنڈا ہے۔ دیواروں میں چراغ رکھنے کے طاقچے اور سامان کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہے۔
جب ہم نیچے پہنچے تو لٹکے ہوئے چمگادڑوں نے ہمارا استقبال کیا۔ نیچے کا حصہ کافی عرصے سے صاف نہیں کیا گیا تھا۔
موجودہ حالت
اس کی موجودہ حالت بھی پاکستان کی طرح ہے۔ بوسیدہ عمارت جس کی بوسیدگی چھپانے کے لیے ماضی قریب میں مرمت و آرائش کے نام پر اس پہ سفیدی کی گئی ہے۔ یہ سفیدی یا چونا بھی اس کی شکنیں نہیں چھپا سکا۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ سمیت خیبرپختونکواہ کی صوبائی حکومت نے اسے بری طرح نظر انداز کر رکھا ہے۔ اندر وال چاکنگ اور باہر گندگی کے ڈھیر ہیں۔ سامنے کے چھوٹے حوض میں پانی کے علاوہ سب کچھ ہے۔ آس پاس کی خودرو جھاڑیاں کافی بڑھ چکی ہیں۔
ایک مقامی گلشن اقبال کے مطابق
’’سن 03-2000 تک یہاں پانی کے چشمے سالہا سال بہتے تھے۔ تہہ خانہ سارا سال پانی سے بھرا رہتا تھا ، جنوب کی جانب بڑا تالاب تھا۔ مغلیہ دور میں یہ ایک آرام گاہ اور شکار گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ شمال کی جانب تقریبا آدھ کلومیٹر دور جنگلی جانوروں کے پانی پینے کا تالاب بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے۔‘‘
حکومت اگر اس پر کچھ توجہ دے اور اسے بہتر طریقے سے بحال کرے تو یہ ایک اچھا سیاحتی و تاریخی مقام بن سکتا ہے۔ ہماری وال چاکنگ لور عوام کو اس سے دور رکھنے کے لیے عمارت کے گرد باڑ لگا کے اس پہ ٹکٹ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اکالی پھولا سنگھ کی سمادھی
نوشہرہ کے شمال مشرقی علاقے پیر سباق میں دریائے کابل کے کنارے ایک پرانی یادگار موجود ہے جو ایک ایسے سکھ سردار کی ہے کہ امرتسر میں جس کا ڈنکا بجتا تھا۔ یہ اکالی پھولا سنگھ کی سمادھی یا یادگار ہے۔
گوردوارہ نہنگ سنگھ کمپلیکس
دریائے کابل کے کنارے واقع گردوارہ نہنگ سنگھ نوشہرہ کینٹ کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ تاریخی مقام سکھ سلطنت اور خالصہ فوج کے مشہور جرنیل اکالی پھولا سنگھ سے منسوب ہے، جس نے 1823 کی نوشہرہ جنگ میں اپنی جان دی اور یہیں دفن ہوئے۔
یہ گردوارہ اور اس سے ملحقہ سمادھ ان سکھ جنگجوؤں کی یادگار ہیں جو مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں دریائے کابل کے قریب ہونے والی لڑائیوں میں شریک تھے۔ سمادھی کے قریب پہلی عمارت نہنگ سنگھ کی رہائش گاہ ہے، درمیانی عمارت گوردوارہ نہنگ سنگھ ہے جب کہ دائیں جانب تیسری عمارت جنگی گھوڑوں کا اصطبل ہے۔ اسی وجہ سے اسے خیبر پختواہ میں نہنگ سنگھوں کی پہلی منظم اور سب سے بڑی چھاؤنی کہا جاتا ہے۔ یہ چھاؤنی خالصہ راج سے قبل اکالی پھولا سنگھ نہنگ نے قائم کی تھی۔
رنگ محل سے واپسی پر ہمارے میزبان احسان بھائی نے پوچھا کہ زیارت کاکا صاحب چلیں گے؟ تو ہم نے فورا کہا نیکی اور پوچھ پوچھ، ضرور چلیں گے۔ اس بہانے ایک اور جگہ ایکسپلور ہوجائے گی۔ زیارت کاکا صاحب نامی یہ علاقہ نوشہرہ کے جنوب میں ایک پہاڑی پر واقع خوب صورت اور پرفضا مقام ہے جو اسی نام کی ایک بزرگ شخصیت کے نام پر ہے جن کا مزار دیکھنے ہم خاص یہاں آئے تھے۔
سید کستیر گْل عرف کاکا صاحب کی ولادت یکم رمضان 981 ہجری مطابق 25 دسمبر 1573، کنڑہ خیل کوہسار نوشہرہ میں ہوئی۔
آپ کا اسم گرامی سید کستیر گْل (پشتو میں سیاہی مائل زرد رنگ کے عنبر فشاں پھول کو کہتے ہیں) اور لقب رحمکار (حد درجہ شفیق) ہے لیکن آپ کاکا صاحب (پشتون معمر اور بزرگ کو کاکا کہتے ہیں) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
آپ کے والد کا نام شیخ بہادر المعروف ابک بابا ، دادا کا نام مست بابا (جن کا مزار شیخ رحمکار کے مزار سے سات میل دور ہے)اور پردادا کا نام غالب بابا (انکا مزار چراٹ کے پہاڑ کے نیچے واقع ہے بڑا دشوار گزار علاقہ ہے مگر لوگ زیارت کرتے ہیں) تھا۔
آپ حسینی سید ہیں اور آپ کا شجرہ 23 واسطوں سے حضرت امام حسینؓ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی اولاد عرفی نام کی نسبت سے کاکا خیل کہلاتی ہے۔آپ کے فرزند جناب میاں عبد الحلیم فرماتے ہیں،’’میرے خیال میں آپ اپنے والد شیخ بہادر سے سلسلہ سہروردی کی نسبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی عبادت کا مقام اپنے والد گرامی کی قبر مبارک پر مقرر کیا اور جتنا بھی آپ کو فیض حاصل ہوا اور فتوحات و برکات ملے یہ سب اپنے والد عالی مرتبت کی قبرمبارک سے حاصل ہوئے۔‘‘ آپ کے پانچ فرزند تھے۔ آزاد گل، محمد گل، خلیل گل، عبدالحلیم اور نجم الدین۔ آپ کی اولاد میں علماء، فضلاء اور صاحبان دولت شامل ہیں جنہیں عوام میں اور خصوصاً علاقہ خٹک میں بڑی قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ آپ کی وفات 24 رجب 1063ھ جمعہ کے دن اسی برس کی عمر میں ہوئی۔
نوشہرہ جنکشن
اگرچہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں کوئی ایکٹو جنکشن نہیں ہے لیکن جو دو تین تھے ان میں سے ایک نوشہرہ جنکشن بھی ہے جو مردان درگئی برانچ لائن بند ہونے کے بعد اب جنکشن کی بجائے ایک عام سا اسٹیشن ہے۔ نوشہرہ کا مشہور اسٹیشن کراچی - پشاور و نوشہرہ - درگئی لائن پر واقع ہے جس کے ایک جانب حیات شیر پاؤ اور دوسری جانب خوشحال کوٹ واقع ہے۔
کابل ریور ریلوے اسٹیشن
ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کا آہنی پل پار کرنے کے بعد نوشہرہ تا درگئی برانچ لائن پر چلنے والی ٹرین جس پہلے اسٹیشن پہ رکتی تھی وہ دریائے کابل کے شمالی کنارے پہ واقع کابل ریور ریلوے اسٹیشن تھا یعنی دریائے کابل کا اسٹیشن جو کسی دور میں نوشہرہ کے مضافات میں واقع تھا لیکن آج کا نوشہرہ اس علاقے کو بھی نگل چکا ہے۔ یہ اسٹیشن آپ کو اب کہیں نہیں ملے گا کیوںکہ یہ وقت کی گرد میں گم ہوچکا ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے کی نیت سے جب نوشہرہ پہنچا تو افسوس، کوئی بھی اس کے بارے نہیں جانتا تھا۔
نوشہرہ جنکشن کے اسٹیشن ماسٹر اسداللّہ بھائی سے اس کی لوکیشن بارے کچھ معلومات ملیں اور ہم اسے ڈھونڈنے نکلے۔
پُل سے آگے ایک پٹری جب دو ہوتی ملیں تو ہم نے وہیں پہ تلاش کرنا شروع کیا۔ پہلے اسٹیشن کے اطراف کی عمارتیں ملیں اور پھر ایک پرانی اور چھوٹی سی عمارت میں جب تکٹ گھر لکھا دیکھا تو کنفرم ہو گیا کہ یہی کابل ریور اسٹیشن کی مرکزی عمارت تھی جو کسی بھی دارالحکومت کے نام پہ پاکستان کا دوسرا ریلوے اسٹیشن ہے۔نوآبادیاتی دور کے دوران تعمیرکیا گیا یہ اسٹیشن تاریخی طور پر درگئی کی طرف ناہموار علاقے سے سفر کرنے والے بھاپ کے انجنوں کے لیے ایک اہم رسد اور پانی فراہم کرنے کا مقام تھا۔
کسی زمانے اس میں اہم بنیادی ڈھانچا بشمول لوکوموٹیو شیڈ، پانی دینے کی سہولیات، اور ٹرن ٹیبل بھی موجود تھا۔ یہ علاقہ دریائے کابل کو عبور کرنے والے تاریخی ریلوے پل کے لیے بھی مشہور ہے۔ نوشہرہ، دریائے کابل کے بائیں/شمالی کنارے، مردان اور درگئی میں لوکوموٹیو پانی دینے کی سہولتیں تھیں۔ کابل دریا اب بھی موجود ہے لیکن کابل دریا کا اسٹیشن اب موجود نہیں۔ ان تصاویر میں شاید یہ باقی رہے۔
نوشہرہ درگئی برانچ لائن
خیبرپختونخواہ کے اضلاع نوشہرہ، مردان اور ملاکنڈ کو ملانے والی 65 کلومیٹر کی نوشہرہ - درگئی ریلوے لائن نوشہرہ جنکشن کو رسالپورچھاؤنی، رشکئی، مردان جنکشن، کلپانی، تخت بھائی، سخاکوٹ اور درگئی سے جوڑتی تھی۔ اس پر کابل ریور، رغنکے، گوجر گڑھی اور ہتھیاں نام کے متروک شدہ ریلوے اسٹیشن بھی واقع تھے۔ پختونخواہ کے بلحاظ رقبہ سب سے بڑے ڈویژن مالاکنڈ میں داخل ہونے والا یہ واحد ریلوے ٹریک تھا جسے 2002 میں بند کر دیا گیا۔
فوجی مقاصد کے لیے بچھائی جانے والی اس تنگ گیج لائن کا سروے 98-1897 میں کیا گیا تھا۔ 64 کلومیٹر لمبا یہ ٹریک شمال کی طرف ملاکنڈ پاس کے دامن میں درگئی تک جاتا تھا جو افغان سرحد اور چترال کو جانے والے والے اہم راستے کا دروازہ تھا۔
نوشہرہ سے نکل کر یہ لائن دریائے کابل کو عبور کرتی تھی جس پر ایک زبردست لوہے کا پل بنایا گیا تھا۔ یہ لائن لوکھورا اور بگھیارا نامی چھوٹے دریاؤں پر سے گزرتی ہوئی درگئی پہنچتی تھی۔ دریائے کابل کے شمالی کنارے پر ایک لوکوموٹیو شیڈ اور مرمت کے لیئے چھوٹی ورکشاپس تھیں جبکہ ٹرن ٹیبل درگئی میں تھا۔ ایک وقت میں درگئی شمال (شمال مغرب) میں پاکستان کا آخری اسٹیشن ہوا کرتا تھا جو اس لائن کے بند ہونے کے بعد حویلیاں بن چکا ہے (شمال مشرق)۔
مشہور علاقے و ہستیاں
اکوڑہ خٹک ؛ کابل کنارے واقع ایک مشہور قصبہ جسے پشتو کے معروف شاعر خوشحال خان خٹک کے دادا اکوڑہ خان خٹک نے آباد کیا تھا۔ خوش حال خان خٹک کی جائے پیدائش و وفات بھی یہی شہر ہے۔ اکوڑہ خٹک میں دو بڑی دینی درس گاہیں دارالعلوم حقانیہ اور جامعہ اسلامیہ ہیں جو اس شہر کی وجہ شہرت بھی ہیں یہاں ایک تمباکو کا کارخانہ اور ایک ٹیکسٹائل مل بھی موجود ہے۔
جہانگیرہ
نوشہرہ کی تحصیل جہانگیرہ خوشحال خان خٹک کے پوتے، افضل خان خٹک کے زیر انتظام تھی جسے انہوں نے اس وقت کے مکینوں کو ان کی وفاداری کے صلے میں عطا کیا تھا۔ یہ مقام پہلے ’جہانگیر خان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جو اب جہانگیرہ بن گیا ہے۔ سکھوں اور انگریزوں نے یہاں اپنی اپنی چیک پوسٹیں بھی بنائی تھیں۔ دریائے کابل اسی تحصیل کی حدود میں سندھ سے ملتا ہے۔
مانکی شریف ؛ بہترین مالٹوں اور آستانہ عالیہ مانکی شریف کے لیے مشہور ہے۔ پیر آف مانکی شریف قائداعظم کے اہم رفقاء میں سے تھے جن کے اعزاز میں پاکستان پوسٹ نے ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔
رسالپور؛ اپنی چھاؤنیوں اور ملٹری کالج کے لیئے مشہور ہے۔ پاکستان ریلوے کی لوکوموتو بنانے والی فیکٹری بھی ہیں لگائی گئی تھی۔
رشکئی ؛ نوشہرہ کا صنعتی حب ہے۔ اپنے موٹروے انٹرچینج اور سی پیک اکنامک زون کے لیے مشہور ہے۔
چراٹ؛ 4500 فٹ کی بلندی پر واقع نوشہرہ کا اہم ہل اسٹیشن ہے۔ 1861 سے اسے فوجیوں کے لیے سینیٹوریم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جو پشاور کی گرم اور ملیریا سے متاثرہ وادی میں تعینات تھے۔ اسے 1886 میں چھاؤنی کا درجہ دیا گیا۔ اب یہاں ایس ایس جی کا ہیڈکوارٹر موجود ہے۔ یہاں سیمنٹ کا بہت بڑا کارخانہ بھی ہے۔
خیرآباد ؛ اٹک پل پار کرتے ہی پختونخواہ کا پہلا علاقہ خیرآباد کنڈ کا ہے جس کا اسٹیشن قلعہ نما ہے۔ یہاں کا کارتوس مانومنٹ اور ریلوے کی سرنگیں مشہور ہیں۔
دیگر اہم قصبوں میں تارو جبہ، پبی، اکبر پورہ، پیر سباق اور نظام پورہ شامل ہیں۔
نوشہرہ کے اہم مشاہیر میں خوشحال خان خٹک، راجا ولی خٹک، قاضی حسین احمد، سرتاج عزیز، زرسنگہ، ڈاکٹر راج ولی شاہ، نصر اللہ خان خٹک، مولاان سمیع الحق، پرویز خٹک، اجمل خٹک، عبد الحق اکوڑوی اور جان وینڈٰلر شامل ہیں۔