تاریخ کا انتقام
www.facebook.com/shah Naqvi
یہ تو بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک بڑے کارخانے میں کچھ مخصوص بچوں کو مشینوں کے نقشے دیے جائیں اور انھیں چلانے کا فنی علم سکھایا جائے۔ جب کہ باقی تمام بچوں کو صرف یہ سکھایا جائے کہ ہینڈل کب گھمانا ہے۔ بڑی زبردست مثال ہے یہ ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انھیں کبھی یہ سوال نہیں کرنے دیا جائے کہ مشین آخر کام کیسے کرتی ہے۔ جب نسلوں تک دماغ کو صرف ہینڈل گھمانے تک محدود کر دیاجائے تو بغاوت کا خیال تک پیدا نہیں ہوتا۔ اور جب ایک پورے معاشرے کو صرف ہینڈل گھمانے تک محدود کر دیا جائے تو اس کا سب سے بھیانک نتیجہ فکری زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔
نتیجے میں دماغ سوچنا بند کردیتے ہیں ۔ کتاب میں اس فکری زوال کی انتہائی چمکتی ہوئی مثال 1579ء میں اکبر کے دربار سے ملتی ہے۔ اس دور کی ایلیٹ اپنے محلوں میں بیٹھ کر خود کو دنیا کی سب سے اعلیٰ مخلوق سمجھ رہی تھی۔ جب کہ حقیقت میں وہ علم اور تحقیق کی دوڑ میں صدیوں پیچھے رہ چکے تھے۔ جب کسی معاشرے میں تنقیدی سوچ یعنی Critical Thinking کو دبا دیا جائے تو اس کی جگہ محض اندھی عقیدت اور اطاعت کو فروغ دیا جائے تو لوگ نئے علم کے دروازے خود پر بند کر لیتے ہیں۔ یورپ اس دور میں دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کو سمجھنے کے لیے ان کی زبانیں سیکھ رہا تھا۔ ترجمے کر رہا تھا۔ جب کہ دوسری طرف اقتدار کے نشے میں چور معاشرے اپنی فکری برتری کے جھوٹے گمان میں تھے۔
میکنزم یہاں یہ کام کر رہا تھا کہ جب حکمران طبقہ عوام کو جاہل رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کوشش میں آہستہ آہستہ پورا نظام ایلیٹ سمیت غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔ جب دماغ کھولنے پر پابندی ہو تو تاریخ ایسی قوم کو ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ جب ذہن بند ہو جائے اور نظام اندر سے کھوکھلا ہونے لگے ۔ لوگ عام زندگی کے مسائل سے تنگ آنے لگیں تو حکمران ان کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ یہاں سے ہم اس کتاب کے بہت اہم حصے کی طرف آتے ہیں۔
ایسے حالات میں حکمران تاریخ میں اکثر جنگوں کا سہارا لیتے ہیں۔ قوموں کو جنگوں کے ذریعے ہی ان کی عظمت کا نیا احساس دلایا جاتا ہے۔ کتاب کا ایک حصہ اسی موضوع پر ہے یعنی فتح کا فریب۔ فتح کا فریب بہت اہم باب ہے۔ تاریخ واضح کرتی ہے کہ جنگیں کبھی بنیادی مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ 1914ء میں پہلی عالمی جنگ اور 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کا حوالہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فاتحین جیتنے کے بعد مفتوح قوموں کو ذلیل کرتے ہیں۔ اس سے ان کے اندر انتقام کے شعلے بھڑکتے ہیں اور نتیجتاً نئی جنگیں جنم لیتی ہیں۔ بالکل درست ۔ جنگ دراصل عوام کی توجہ اصل مسائل سے بھٹکانے کا سب سے مئوثر ہتھیار ہے۔ فوجی تاریخ کو اگر گہرائی سے پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ اکثر پروپیگنڈے کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ پروپیگنڈہ مگر کیسے؟
ڈاکٹر مبارک علی واضح کرتے ہیں کہ بعض اوقات مورخین ریاستی دبائو کے تحت فوجی تاریخ میں اپنی شکست اور عظیم غلطیوں کو چھپا دیتے ہیں تاکہ عوام کی قوت فیصلہ اور ریاست پر اعتماد ٹوٹنے نہ پائے۔ سچائی کو قوم پرستی کے جذباتی پردے کے ذریعے چھپا دیا جاتا ہے اور اس طرح اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس موضوع کو کھولتے ہوئے کتاب میں اینا ایرنڈ کی بہت اہم تصنیف Origin of Totaliarism کا ذکر کیا گیا ہے وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ "ڈکٹیٹر شپ یا آمرانہ نظام عوام کو متحرک رکھنے کے لیے خیالی اور فرضی دشمن تیار کرتی ہے۔ وہ ہجوم کے جذبات اس قدر ابھار دیتی ہے کہ لوگوں کی عقل اور ہوشیاری بالکل مفلوج ہو جاتی ہے۔ ایرنڈ کہتی ہیں کہ ایسی حکومتیں صرف جسموں پر حکمرانی نہیں کرتی بلکہ وہ حقیقت کو ہی بدل دیتی ہیں۔ ہجوم کیسے بنتا ہے۔ ہجوم تب بنتا ہے جب انفرادی سوچ ختم ہو جائے۔ جب لوگوں کی انفرادی سوچ ختم ہو جائے اور وہ صرف ایک فرضی خطرے سے ڈر کر اپنے رہنماء کی ہر بات کو پتھر پر لکیر مان لیں۔ ہٹلر نے جرمنی میں نظام کی ناکامی کو چھپانے کے لیے فرضی دشمن بنائے اور لوگوں کو ڈرایا۔ جب ڈر دماغ پر حاوی ہو جائے تو انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ایک مسیحا لایا جاتا ہے۔ اور پھر یہیں سے شخصیت پرستی جنم لیتی ہے۔ شخصیت پرستی کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔
لوگ اور خاص طور پر مخصوص سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو جائز ثابت کرنے کے لیے ماضی کی عظیم شخصیات کے ناموں کا سہارا لیتی ہیں۔ وہ ان تاریخی شخصیات کے فرمودات کو اپنے وقت اور مقصد کے لیے توڑ مروڑ لیتے ہیں ماضی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے۔ ماضی کے ہیروز کو آگے کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام جذبانی طور پر منسلک رہیں اور اپنے حقیقی مسائل پر آواز نہ اٹھائیں۔ یہاں پر ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ کیا تاریخ کے تمام ہیروز صرف پروپیگنڈے کی پیداوار ہیں۔ مطلب یہی کہ کیا وہ لوگ فرضی تھے۔ کیا واقعی ماضی میں ایسے لوگ نہیں گزرے جنھوں نے خود غرضی سے ہٹ کر عظیم کام کیے ہوں۔ اگر ہم تمام ہیروز کو ایک سیاسی ہتھیار سمجھ لیں تو کیا تاریخ کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی۔ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی عظیم کارکردگی سے انکار نہیں کیا جا رہا۔ حقیقت میں انھوں نے عظیم کام کیے ہونگے۔ لیکن سوال ان کے کاموں کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ ان کے مرنے کے صدیوں بعد آج کی طاقتیں ان کے نام کو کس طرح استعمال کر رہی ہیں۔ یعنی معاملہ اس ہیرو کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔
مسئلہ اس میں ہے کہ آج کا اقتدار اس ہیرو کا نام لے کر اپنی کمزوریوں کو جھوٹی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔ تاریخ میں ہیروز کو ڈھال بنا کر حقیقت کا سامنے کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس پوری بات کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ جنگیں یا عظیم شخصیات حقیقت میں تاریخ بناتی نہیں ہیں بلکہ اکثر اوقات جنگیں اس تاریخ کو چھپانے کے لیے لڑی جاتی ہیں جسے حکمران عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سچی حقیقت ہے جو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر قومی داستانیں ، جنگیںاور کتابوں میں لکھی تاریخ اتنی زیادہ تبدیل شدہ ہے تو پھر اصل تاریخ کہاں ملتی ہے؟۔