جنگ سے زیادہ ڈوبتی معیشت کا خوف، ایران کو مذاکرات پر لانے کا امریکی منصوبہ سامنے آگیا
واشنگٹن: اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات میں مزید رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی معاشی پالیسیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔
مائیک والٹز نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندے مذاکرات کی میز پر بار بار مالی معاملات اور رقم تک رسائی کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے نمائندے مذاکرات کے دوران بار بار "پیسے، پیسے اور پیسے" کی بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول تہران بمباری کا سامنا تو کر سکتا ہے لیکن موجودہ معاشی دباؤ اس کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
امریکی سفیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی قیادت اس وقت امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے معاشی دباؤ ایک ایسے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اسے مذاکرات میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے۔
مائیک والٹز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کو اس وقت اپنی فوجی صورتحال سے زیادہ ملکی معیشت، کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی بلند شرح کی فکر ہے۔ ان کے مطابق ایرانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل بیرون ملک منجمد کیے گئے اپنے اثاثوں تک رسائی اور نقد رقم کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ والٹز کے مطابق امریکا کی جانب سے مالی وسائل محدود کرنا اور ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا واشنگٹن کی مذاکراتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ معاشی دباؤ کے ساتھ ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی بھی تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی حکمت عملی یہ ہے کہ معاشی اور دیگر دباؤ کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ ایران بالآخر اپنے مؤقف میں تبدیلی اور رعایتوں پر آمادہ ہو جائے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایران کی معیشت اس وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جن میں کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی، مالی پابندیاں اور بیرون ملک اثاثوں تک محدود رسائی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ امریکا کی پابندیاں اور اقتصادی اقدامات ایرانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ تہران نے ماضی میں بھی مطالبہ کیا ہے کہ منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور ایرانی تیل سمیت دیگر اقتصادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ کو مذاکراتی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنا ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم عنصر ہے۔ اگر تہران کو اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ محسوس ہوا تو یہ مستقبل کے مذاکرات میں اس کے مؤقف اور ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
تاہم ایران کی جانب سے امریکی سفیر کے تازہ دعووں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔