حوثیوں کے خلاف امریکا کا بڑا فیصلہ، یمن کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کردیا
ریاض: امریکا نے حوثی حملوں کے خلاف یمن کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی واشنگٹن کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی مشن برائے یمن کے ناظم الامور نیل ہوپ نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران نیل ہوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یمن سے متعلق پالیسی ترجیحات سے آگاہ کیا اور کہا کہ امریکا یمن کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس تعاون میں خاص طور پر بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور خطے کے دیگر اہم سمندری راستوں میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔
امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیل ہوپ نے یمنی قیادت کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکا اور یمن کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں میں حملوں کے باعث عالمی بحری تجارت اور خطے کی سکیورٹی کو بھی مسلسل خدشات کا سامنا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ یمن میں بحری سلامتی کو بہتر بنانا نہ صرف یمنی عوام بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن عالمی تجارت کے اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔
Chargé d'Affaires Neil Hop congratulated Foreign Minister @afrah_alzouba on her historic appointment, outlined President Trump’s policy priorities, underscored the importance of strong U.S.-Yemen partnerships on Red Sea and maritime security, and condemned Houthi attacks that… pic.twitter.com/YsnE17uTaC
— U.S. Embassy Yemen السفارة الأمريكية لدى اليمن (@USEmbassyYemen) August 9, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے یمن کی حمایت کا تازہ اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے۔ اگر حوثی حملوں اور یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔