آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کو دھچکا، تیل کی قیمتیں پھر دباؤ میں آگئی

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو خطے میں امریکا کے رویے اور ایرانی مطالبات سے الگ نہیں کیا جا سکتا

لندن: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے امریکا سے متعدد مطالبات پورے کرنے کی شرط سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں دن کے آغاز پر اضافہ ہوا، تاہم بعد میں ایران کے مؤقف کے باعث یہ تیزی ختم ہوگئی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کے امکانات پہلے سے کم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 43 منٹ پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 83.54 ڈالر فی بیرل رہی، جو تقریباً ایک فیصد کمی کے برابر ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 15 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 78.03 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔

تاہم ایران کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے بعد کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو بعض مطالبات پورے کرنا ہوں گے، سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو خطے میں امریکا کے رویے اور ایرانی مطالبات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

Load Next Story