میر رضا قتل کیس؛ اہل خانہ کے پولیس تفتیش پر اعتماد کے بعد عدالتی کمیشن کا فیصلہ مؤخر
نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے معاملے پر سندھ حکومت اور مقتول کے اہل خانہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے، جس کے بعد عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے مطابق میر رضا کی والدہ سے میئر کراچی و پیپلزپارٹی رہنما بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بات کی ہے، جبکہ مقتول کے اہل خانہ نے نئی پولیس تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ متضاد رپورٹس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے شفافیت یقینی بنانے اور متاثرہ خاندان کو مکمل اطمینان دلانے کے لیے عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم، نئی پولیس تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد مقتول کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں پولیس کی نئی تفتیشی ٹیم پر اعتماد ہے اور وہی ٹیم میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرے۔
ضیاءالحسن لنجار کے مطابق والدین کی استدعا پر فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ذرائع سندھ حکومت کے مطابق مقتول میر رضا کے اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست نہیں کی تھی، جبکہ اہل خانہ کی جانب سے پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
میر رضا علی قتل کیس میں دفعہ 201 بھی شامل
دوسری جانب، میر رضا علی قتل کیس میں دفعہ 365 اور 302 کے بعد دفعہ 201 بھی شامل کر دی گئی۔ دفعہ 302 قتل جبکہ دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ضائع کرنے سے متعلق شامل کی گئی۔
دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کیس کی تحقیقات نئی تفتیشی ٹیم کے سپرد کی گئی ہے، ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی نئی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
پرانی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے نئی ٹیم کو بریفنگ دی جبکہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے بھی تفتیشی پیش رفت اور شواہد سے آگاہ کیا۔
نئی تحقیقاتی ٹیم کو اب تک کی تحقیقات، شواہد اور فرانزک معلومات منتقل کر دی گئیں۔ سمیع اللہ سومرو اور زبیر نذیر شیخ بریفنگ کے بعد ڈی آئی جی آفس سے روانہ ہوگئے۔
نئی تحقیقاتی ٹیم کیس کے تمام پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔ فرانزک، تکنیکی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھایا جائے گا۔