وہائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی ویڈیوز سے ٹیلر سوئفٹ کے گانے اچانک ہٹادیے

ٹیلر سوئفٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلاف کئی برس پرانا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شیئر کی گئی بعض ویڈیوز میں استعمال ہونے والے معروف گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے گانے ہٹا دیے گئے ہیں۔ سوئفٹ کی موسیقی ماضی میں ٹرمپ کی مہم اور وائٹ ہاؤس کی متعدد ویڈیوز کا حصہ بنتی رہی ہے، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد ان گانوں کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس اور ٹیلر سوئفٹ کے نمائندوں نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔ یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ ویڈیوز سے گانے ہٹانے کا فیصلہ کس وجہ سے کیا گیا اور آیا گلوکارہ یا ان کی ٹیم نے ان کے استعمال پر کوئی اعتراض اٹھایا تھا۔

ٹیلر سوئفٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلاف کئی برس پرانا ہے۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں سوئفٹ نے ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کی حمایت کی تھی، جبکہ 2020 کی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

کملا ہیرس کی حمایت کے بعد ٹرمپ نے بھی ٹیلر سوئفٹ کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پر گلوکارہ سے نفرت کا اظہار کیا، جبکہ بعد میں ان کی مقبولیت اور ظاہری شخصیت کے حوالے سے بھی تنقیدی تبصرے کیے۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موسیقی کے استعمال پر اعتراض صرف ٹیلر سوئفٹ تک محدود نہیں رہا۔ سبریانا کارپنٹر، اریانا گرانڈے اور دیگر معروف فنکار بھی اپنی موسیقی کو انتظامیہ کی جانب سے استعمال نہ کیے جانے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے سوئفٹ کے دو گانوں کا حوالہ دینے والی ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس میں گانوں کے ناموں اور بول کو سیاسی تناظر میں تبدیل کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے سیاسی مخالفین پر طنز کیا گیا۔ ویڈیو میں امریکی سرحد، سابق صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس انتظامیہ سمیت مختلف سیاسی معاملات کو موضوع بنایا گیا تھا۔

اس سے قبل جون میں بھی ٹرمپ مہم نے ٹیلر سوئفٹ کے ایک نئے گانے کو پس منظر میں استعمال کرتے ہوئے مختصر ویڈیو جاری کی تھی۔ اس میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں بچوں سے ملاقات، یو ایف سی مقابلے کے دوران رقص اور ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ ٹرمپ کو امریکا اور امریکی عوام سے محبت کرنے والا رہنما قرار دیا گیا تھا۔

اپریل میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے شیئر کی گئی ایک اور ویڈیو میں آرٹیمس ٹو مشن کے عملے کی صدر ٹرمپ سے ملاقات دکھائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں ٹیلر سوئفٹ کا گانا ’ہائی انفائیڈیلیٹی‘ استعمال کیا گیا اور اس کے بول بھی ویڈیو کے مناظر کے تناظر میں شامل کیے گئے تھے۔

اسی طرح گزشتہ نومبر میں وائٹ ہاؤس کے ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر نشر کی گئی ویڈیو میں سوئفٹ کے البم ’دی لائف آف شوگرل‘ کا گانا ’دی فیٹ آف اوفیلیا‘ شامل تھا۔ ویڈیو میں امریکی پرچم، مختلف قومی یادگاروں اور صدر ٹرمپ کی تصاویر دکھائی گئی تھیں، جن میں 2023 میں ان کی گرفتاری کے وقت لی گئی تصویر بھی شامل تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی کمیونیکیشن ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے مقبول موسیقی کو سیاسی اور حکومتی سرگرمیوں کی تصاویر کے ساتھ جوڑ کر سوشل میڈیا مواد تیار کرتی رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے معاملات کو بھی نمایاں کیا گیا۔

ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کا ٹرمپ مہم اور وائٹ ہاؤس کی ویڈیوز میں استعمال، اور پھر بعض ویڈیوز سے ان کے ہٹائے جانے کی تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر سیاسی مہمات میں معروف فنکاروں کی موسیقی کے استعمال پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم سوئفٹ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مخصوص معاملے پر باضابطہ وضاحت سامنے نہ آنے تک گانے ہٹانے کی حتمی وجہ واضح نہیں ہوسکی۔

Load Next Story