میر رضا قتل کیس، تحقیقاتی کمیٹی میں مزید 2 افسران کی شمولیت کا امکان
فوٹو ایکسپریس
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی اندوہناک موت کے حوالے سے قائم کی گئی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس پانچ گھنٹے طویل رہا جس میں ورثا کی درخواست پر مزید دو افسران کو شامل کرنے پر غور کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس میں کیس کے محرکات، شواہد، پیشرفت اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں کیس کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر دیکھنے پر غور کیا گیا جبکہ کیس میں ناقص تفتیش کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔
پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں میر رضا کے والدین اور وکیل کی جانب سے تجویز کردہ دو افسران کو شامل کرنے پر بھی غور کیا گیا جس کے بعد کمیٹی میں مزید دو اراکین کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ورثا کی جانب سے ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر کو ٹیم شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران کو جلد تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرلیا جائے گا۔
اُدھر آئی جی سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمام چیزوں کو غلط فہمی کی بنیاد اور آپس میں رابطہ کاری نہ ہونے کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میررضا کیس میں مس کمیونیکیشن ہوئی اب اس پر نئی کمیٹی تحقیقات کررہی ہے جس میں واقعے سے متعلق حقیقت سمجھ آجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میرےخیال میں مس کمیونی کیشن کامسئلہ آیا ہے جس کی وجہ سے کیس خراب ہوا بہرحال حقیقت سامنےآجائےگی۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ پرانی ٹیم کا مقصد بھی کیس کی شفاف تحقیقات تھا اس لیے انہوں نے والدین سے گاہے بگاہے رابطے، ملاقاتیں کر کے شواہد مانگے اور کسی پر شک ہونے کی صورت میں نام بھی مانگا۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اب واضح ہدایت کردی ہے کہ کیس کے حوالے سے بات چیت کو شفاف اور واضح انداز میں فیملی و میڈیا کے ساتھ شیئر کریں تاکہ مزید بگاڑ نہ ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کیس کی پرانی تحقیقات میں کچھ تکنیکی خرابیاں تھیں تاہم اُس پر متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔