سمندر کی تہہ سے میگالوڈون کے دانت ملنے کا دعویٰ

یہ دریافت ایک ماہ تک جاری رہنے والے گہرے سمندری سروے کے دوران ہوئی

جنوبی بحرالکاہل میں کُک آئی لینڈز کے جنوب مغربی حصے کے قریب گہرے سمندر کی تحقیق کے دوران محققین کو کئی بڑے فوسل دانت ملے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ قدیم اور دیوہیکل شارک میگالوڈون کے دانت ہیں۔

نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کی جانب سے ایک ماہ تک جاری رہنے والے گہرے سمندری سروے کے دوران محققین کو سمندر کی تہہ پر متعدد پولی میٹالک نوڈولز ملے۔ بعد ازاں ان میں سے کچھ دریافتوں کو ممکنہ طور پر قدیم شارک کے فوسل دانت قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دریافت ہونے والے بعض دانتوں کی لمبائی سات سینٹی میٹر (تقریباً تین انچ) سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے محققین کا اندازہ ہے کہ یہ میگالوڈون کے دانت ہو سکتے ہیں۔

میگالوڈون کو اب تک کے سب سے بڑے اور طاقتور شکاری شارکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ دیوہیکل شارک لاکھوں سال پہلے سمندروں میں راج کرتی تھی اور سائنس دانوں کے مطابق تقریباً 30 لاکھ برس قبل معدوم ہو گئی تھی۔

اگر ان فوسلز کی میگالوڈون سے نسبت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ سمندری حیات کی قدیم تاریخ اور اس دیوہیکل شکاری کے بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

Load Next Story