مشہور گیمنگ کمپنی 55 ارب ڈالر میں فروخت، گیمرز میں تشویش کی لہر
معروف ویڈیو گیم کمپنی الیکٹرانک آرٹس کی 55 ارب ڈالر کی خریداری مکمل ہوگئی ہے، جس کے بعد کمپنی اب عوامی طور پر کاروبار کرنے والی کمپنی نہیں رہی بلکہ ایک نجی ادارہ بن گئی ہے۔
یہ خریداری سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، سلور لیک اور ایفینیٹی پارٹنرز پر مشتمل ایک کنسورشیم نے کی ہے۔ اس ڈیل کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا جبکہ دسمبر 2025 میں الیکٹرانک آرٹس کے شیئر ہولڈرز نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔
ڈیل مکمل ہونے کے بعد الیکٹرانک آرٹس کے شیئرز اب عوامی اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈ نہیں ہوں گے۔ تاہم، اس تبدیلی پر گیمنگ کمیونٹی کا ردعمل زیادہ مثبت نہیں رہا۔
سوشل میڈیا اور گیمنگ فورمز پر متعدد گیمرز نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ نئی ملکیت کے بعد کمپنی کے مستقبل کے گیمز اور اس کے مختلف اسٹوڈیوز کی پالیسی کیا ہوگی۔
ایک گیمر نے امید ظاہر کی کہ ڈریگن ایج اور ماس ایفیکٹ جیسی فرنچائزز ان ڈویلپرز کو فروخت کر دی جائیں جو ان کے مطابق ان گیمز کے زیادہ حقدار ہیں۔
ایک اور صارف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آخری بار ہے جب وہ اس کمپنی کا کوئی گیم خریدیں گے۔
ایک تیسرے گیمر نے ری اسپان انٹرٹینمنٹ کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ری اسپان کسی مرحلے پر آزاد اسٹوڈیو بن سکے گا۔ ان کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ الیکٹرانک آرٹس مستقبل میں زیادہ تر بیٹل فیلڈ اور اسپورٹس گیمز پر توجہ مرکوز کرے گی۔