کولمبیا نے گولان پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرلی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظور نظر کولمبیا کی نئی حکومت نے اپنے پہلے اقدام میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مسلسل علاقائی عدم استحکام اور گولان کی پہاڑیوں کی اسرائیل کی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا، اسرائیل کے بیرونی خطرات سے اپنے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ موجودہ علاقائی سیکیورٹی صورتحال میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا کنٹرول اور خودمختاری اس کے قومی دفاع اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ ہے۔
کولمبیا کی نئی حکومت کا یہ فیصلہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مزید قربت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کولمبیا پہلے ہی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔
کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا نے حال ہی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ حلف برداری سے ایک روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے بیرانکیلا میں ان سے ملاقات بھی کی تھی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گولان کی پہاڑیوں کا تنازع
گولان کی پہاڑیاں شام کا ایک تزویراتی علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی 6 روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اسرائیل نے 1981 میں وہاں اپنا قانون، انتظامیہ اور دائرہ اختیار نافذ کردیا تھا جسے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر الحاق کے مترادف سمجھا گیا۔
2019 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ایک صدارتی اعلان کے ذریعے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا تھا۔
اسرائیل گولان کی پہاڑیوں کو اپنی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتا ہے جبکہ شام اس علاقے پر اپنا حق برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بیشتر عالمی برادری طویل عرصے سے گولان کو شام کا مقبوضہ علاقہ قرار دیتی رہی ہے اور اسرائیلی الحاق کو تسلیم نہیں کرتی۔
کولمبیا کی جانب سے اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل کولمبیا کی پالیسی اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں نسبتاً مختلف رہی ہے۔
نئی حکومت کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کولمبیا اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اور اب گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کی حمایت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی قربت میں اضافے کی واضح علامتیں ہیں۔