شخصیت کی تعمیر کیسے کریں؟
شخصیت کسے کہتے ہیں؟ کوئی ایسا فریم ورک نہیں جو اس کا احاطہ کر سکے کہ شخصیت کیا ہوتی ہے۔ عمومی طور پر شخصیت سے مراد کسی شخص کا وہ ذاتی وجود ہے جو اس کی زندگی سے ظاہری اور باطنی پہلوؤں میں موجود خوبیوں اور خامیوں کو نمایاں کرکے اس کی شناخت بن جاتا ہے۔
انسانی شخصیت محض فرد کی عادتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ فرد کے عمل اور رد عمل اور دیگر سماجی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔ شخصیت ہی بتاتی ہے عام حالات اور خاص حالات میں فرد اپنا رد عمل کیسے ظاہر کرتا ہے، مشکل حالات میں کیسے ثابت قدم رہتا ہے، دوسروں کے ساتھ تعلقات کو کس مہارت سے نبھاتا ہے اور مضبوط تعلقات استوار کرتا ہے۔ شخصیت کی تشکیل میں کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جو فرد کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ عمومی طور پر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کے حالات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔
شخصیت سازی کی بنیاد گھر میں پڑتی ہے بچپن وہ دور ہے جس میں شخصیت کا بیج بویا جاتا ہے یہ بچہ کمہار کے ہاتھوں گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے جس کو جس سانچے میں ڈھالا جائے ڈھل جاتا ہے اس کے بعد گھر کا ماحول، جغرافیائی حالات، سماجی عوامل، معاشی حالات، تعلیم و تربیت اور بچے کے فطری اور ذاتی رجحانات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ بچپن میں والدین بالخصوص والد کا نامناسب سلوک، تشدد، بے جا سختی اور ذہنی دباؤ انسانی شخصیت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
بچپن میں گھر کے اندر درست تربیت بالخصوص والدین کا مثبت کردار شخصیت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے یہی تربیت بچے میں خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہے جس سے بچے میں اپنی عملی زندگی میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔
انسان صرف ایک گھر کا فرد نہیں ہے بلکہ وہ سماج کا بھی حصہ ہے، اسے سماج کے ساتھ باہم مل کر زندگی گزارنی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان ایک دوسرے سے اپنے خیالات اور احساسات کا نہ صرف اشتراک کرتے ہیں بلکہ شعوری اور غیر شعوری طور پر ایک دوسرے کو متاثر بھی کرتے ہیں ،اس طرح یہ سماجی عوامل بھی انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
زندگی کے متنوع تجربات بھی مضبوط شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کے نتیجے میں انسان میں زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے یہ عمل انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور انسانی سوچ کو وسعت دیتا ہے یہ وسیع سوچ ایک معاون ماحول کی تعمیر کرتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
ماضی میں شخصیت سازی کے حوالے سے اچھی صحت اور کام میں مہارت پر زور دیا جاتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں نئے نئے چیلنجز کے سامنے آنے کے باعث شخصیت سازی کی ترقی کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اب اس عمل نے ایک سائنس کی صورت اختیار کر لی ہے جس کا جاننا ضروری ہو گیا ہے۔موجودہ زمانے میں شخصیت کا باطنی اور ظاہری طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے ، اگر آپ کی شخصیت باطنی طور پر کمزور ہے اور آپ دوسروں پر اپنا اثر قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو آپ کو اپنی شخصیت سازی پر توجہ دینی چاہیے۔
شخصیت کی تعمیر کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنی ذات کے خول سے باہر آئے، ہماری زندگی کے بیشتر مسائل کی وجہ ہمارا خودساختہ کمفرٹ زون ہے جسے گوشہ عافیت یا سہل پسندی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں ہم خود کو قید کر لیتے ہیں وقت کے تقاضوں کے تحت ہمارے سامنے جو نئے چیلنجز آتے ہیں ہم ان کو قبول کرنے سے گھبراتے ہیں اور اپنے آپ کو ایک مخصوص دائرے میں مقید کر لیتے ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اگر نکلنا بھی چاہیں تو نکل نہیں پاتے۔
یہ ایک منفی طرز عمل ہے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ خود اعتمادی آپ کی صلاحیتوں اور فیصلوں پر آپ کا اعتماد اور یقین ہے جس کے ذریعے آپ چیلنجز سے موثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں اور اپنے مقرر کردہ اہداف کو پورا کر سکتے ہیں خود اعتمادی ایک طاقتور محرک ہے اس کے ذریعے آپ دباؤ اور چیلنجز کو زیادہ موثر طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ جادوئی عنصر نہیں ہے وقت کے ساتھ رفتہ رفتہ پیدا ہوتا ہے۔ الغرض خود اعتمادی کو شخصیت کی تعمیر میں اولین حیثیت حاصل ہے۔
ہم جو کچھ سوچتے ہیں جس طرح سوچتے ہیں اسے دوسروں تک پہنچانے کا عمل ابلاغ کہلاتا ہے۔ شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں ابلاغ کی صلاحیت ہو۔ ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے خیالات اور پیغام کو واضح اور اختصار کے ساتھ واضح انداز میں ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بات توجہ کے ساتھ کی جائے، بات مفروضوں پر مبنی نہ ہو، حقائق پر مبنی ہو۔ اور آپ کو اپنی بدن بولی یعنی باڈی لینگویج پر بھی عبور حاصل ہو۔
ابلاغ کا تعلق محض واضح اور اختصار کے ساتھ خیالات کے اظہار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق سننے اور دوسروں کے ساتھ جڑے رہنے سے بھی ہے۔ اس میں اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنا دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنا اور بامعنی تعلقات استوار کرنے سے بھی ہے اس ضمن میں آپ کی باڈی لینگویج کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔شخصیت کی تعمیر میں فیصلہ سازی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔
فیصلہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ جس امور پر فیصلے فرما رہے ہیں آپ کو اس کی پوری تفصیلات کا علم ہو۔ مفروضات کی بنیاد پر نتائج اخذ نہیں کیے جائیں فیصلہ غیر جذباتی انداز فکر اپناتے ہوئے منطقی انداز کو اپنا کر کیا جائے اور جرأت کے ساتھ کیا جائے۔فیصلہ سازی کے وقت معاملہ فہمی کے پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے معاملہ فہمی آنے والی صورت حال کی غیر جانب دارانہ تشخیص، حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے مثبت ردعمل دینے کا نام ہے شخصیت کی تعمیر میں اس اہم پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رکھیں جس طرح آپ خود کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے، دنیا آپ کے سامنے اسی انداز میں پیش آئے گی۔ اس لیے خود کو دنیا کے سامنے پیش کرتے وقت اپنی صحت، لباس اور اپنے انداز گفتگو بالخصوص اپنی باڈی لینگویج پر خصوصی توجہ دیں۔ وقت کی قدر کریں۔ جذبہ، یکسوئی، دیانت داری اور سچائی کے اصول کو اپنائیں آپ کی شخصیت پراثر ہو جائے گی۔ آپ کی پراثر شخصیت ہی آپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔