قائداعظمؒ کی پشاور آمد، محبت و عقیدت کی ناقابل فراموش داستان
قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پشاور آمد سے جڑی ایک ایسی یاد سامنے آئی ہے جو قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں قوم کے اپنے قائد سے والہانہ محبت اور عقیدت کی عکاسی کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے کرنل (ر) جی بی شاہ نے قائداعظمؒ سے وابستہ بچپن کی اپنی ناقابلِ فراموش یادیں بیان کی ہیں۔
کرنل (ر) جی بی شاہ کے مطابق قیامِ پاکستان صرف ایک سیاسی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ قربانیوں، محنت اور اتحادِ ملت کی ایک لازوال داستان تھی۔ پاکستان کے قیام کے لیے ہر فرد نے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کیا چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، سب کے دلوں میں جذبہ ایک جیسا تھا۔
کرنل (ر) جی بی شاہ نے بتایا کہ 17 اپریل 1948 کو ریڈیو پر یہ اعلان ہوا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ پشاور تشریف لا رہے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی پشاور کے عوام میں اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے غیر معمولی جوش و جذبہ پیدا ہوگیا۔
ان کے مطابق قائداعظمؒ کی آمد کے موقع پر کوئی خاص پولیس نفری تعینات نہیں کی گئی تھی کیونکہ پختون عوام اپنے قائد سے بے حد محبت اور عقیدت رکھتے تھے اور ان کے استقبال کے لیے خود ہی بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے۔
کرنل (ر) جی بی شاہ نے اپنی زندگی کے اس سب سے یادگار لمحے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب قائداعظمؒ کی گاڑی ان کے قریب پہنچی تو ان کے پیچھے کھڑی ایک خاتون نے اچانک بلند آواز میں قائداعظمؒ کو پکارنا شروع کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ قائداعظمؒ نے شاید انہیں اس خاتون کا بیٹا سمجھا اور اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ کم عمری میں قائداعظمؒ کو اپنے سامنے دیکھنا اور پھر ان سے ہاتھ ملانا ان کی زندگی کا ایسا لمحہ بن گیا جو آج بھی ان کے دل و دماغ میں تازہ ہے۔
کرنل (ر) جی بی شاہ کے لیے قائداعظمؒ سے مصافحے کا وہ مختصر سا لمحہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کے قیام، قائد کی شخصیت اور اس دور کے قومی جذبے سے جڑی ایک ایسی یاد ہے جسے وہ اپنی زندگی کا ناقابلِ فراموش سرمایہ قرار دیتے ہیں۔
ان کے بیان سے اس دور کی وہ تصویر بھی سامنے آتی ہے جب نوزائیدہ پاکستان مشکلات میں گھرا ہوا تھا مگر عوام اپنے قائد اور نئے وطن سے غیر معمولی محبت رکھتے تھے۔ یہی جذبہ اور اتحاد پاکستان کے ابتدائی سفر میں قوم کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا۔