میر رضا قتل کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم جائے وقوع پہنچ گئی، شواہد کا جائزہ
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں پیش رفت کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم لاش ملنے والے مقام پر پہنچ گئی، جہاں شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایکسپریس کے مطابق پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک 2 کے رہائشی مقتول نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں، منگل کی صبح تقریبا ساڑھے نو بجے کے قریب ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم نئی تحقیقاتی ٹیم کے سیکریٹری ایس ایس پی آر آر ایف الفلاح سید محمد علی رضا مقتول نوجوان تاجرکے اہل خانہ کے ہمراہ گلستان جوہر میں اس مقام پر پہنچے جہاں سے 29 جولائی کو مقتول کی لاش ملی تھی۔
ایس ایس پی محمدعلی رضا نے مقتول نوجوان تاجر کے اہل خانہ کے ہمراہ کرائم سین کا تفصیلی جائزہ لیا اور مقتول نوجوان تاجرکی نشاندہی کرنے والے نرسری کے ملازم یاسر سے جائے وقوع سے متعلق اہم تفصیلات بھی حاصل کیں۔ ایس ایس پی علی رضا نے لاش ملنے کے مقام اور اطراف کی جگہوں کا جائزہ لیا اور تصاویر بھی بنائیں۔ ایس ایس پی نے مقتول نوجوان لاش ملنے کے مقام کے قریب واقع مسجد کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا اورمسجد کی انتظامیہ سے بھی معلومات حاصل کیں اس دوران وکیل جبران ناصربھی پہنچ گئے۔
ایس ایس پی نے دوسری گلی میں کھلنے والے مسجد کے گیٹ اور گلی کے اندر مختلف مقامات پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کرنے کی ہدایت کی، ایس ایس پی علی رضا، مقتول نوجوان کے والدین اور وکیل جبران ناصر نے تقریباً 4 گھنٹے تک گلستان جوہر میں اور واٹر کارپوریشن کی کالونی، فراہمی آپ کی ذخیرہ گاہ، مختلف گلیوں اورمشکوک مقامات کی نشاندہی بھی کی۔
ڈی آئی جی ایسٹ آفس میں تعینات ڈی ایس پی آپریشن اینڈ آئی ٹی محمد حنیف اور ایس آئی اوکے آئی اے چوہدری غضنفر اور دیگر پولیس افسران بھی موقع پر پہنچے اور 14 روز کے بعد جائے وقوع ، گیسٹ ہاؤس اور مقتول نوجوان 28 جولائی کو جس مقام پر آن لائن ٹیکسی سے ڈراپ ہوا اس مقام کی جیوفینسگ بھی کی گئی۔
اس سے قبل مقتول نوجوان تاجر کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے والد میر حسین کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 12 سے زائد دن گزرنے کے بعد پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں مل رہی تھی ت ومقتول کے والدین کی جانب سے جائے وقوع پر آئے خود تفتیش کرنے کی کوشش کی، کبھی انھوں نے ایک گلی دیکھی، جھاڑیاں دیکھیں، راستے دیکھے، لوگوں کے معلومات حاصل کی، کیمرے دیکھے ، جب آپ خود مجبور ہوں تو خود تفتیش کرنے پر تو کچھ چیزیں آپ خود نوٹ کر لیتے ہیں کیا ضروری ہے اور کیا ضروری نہیں، نئی تحقیقاتی ٹیم نےاس بات پر اتفاق کیا کہ جس طرح متاثرہ فیملی چیزیں بتا رہی ہیں اس طرح ایک ٹیم کے رکن کے ہمراہ دیکھ لیا جائے انھوں نے بتایا کہ ٹیم کے رکن کو کچھ مشکوک مقامات کی نشاندہی کرائی گئی ہے کہ ان مقامات کو باریک بینی سے دیکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو آڈیو، بینک اکاؤنٹ، مالی معاملات لیک کرنے کی ضرورت نہیں ہے متاثرہ فیملی میڈیا کو بیٹھا کر خود بات کررہی ہے میڈیا کو مقتول نوجوان کے والدین کی ذاتی زندگی پر بات کررہی ہے وہ ہم نے خود لکھوائی ہوئی ہے ان کا ازدواجی رشتہ کیا ہے، سابقہ میاں بیوی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم پیشہ ورانہ لوگ نہیں بلکہ ایک عام انسان ہیں اور ہم نے سادہ عام فہم آنکھ سے ساری چزیں دیکھی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ جب پولیس ٹیم آئے گی تو باریک بینی سے تحقیقات کرے گی اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کرے گی، صاف شفاف تحقیقات ضروری ہیں، متاثرہ فیملی میڈیا سے کچھ چھپا نہیں رہی۔
مقتول نوجوان کے والد میر حسین کا کہنا تھا کہ رضا کا گلستان جوہر آنا جانا نہیں، عید الضحیٰ کے بعد رضا کا کچن اوپن ہوا تھا رضا صرف وہاں آتا تھا، جہاں سے لاش ملی اس علاقے میں رضا کا کوئی دوست نہیں ہے نہ اس کا آناجانا ہے۔
میرحسین کا کہنا تھا کہ رضا کو انصاف دلانے کے لیے جس سطح پر جانا پڑا تو وہ جانے کے لیے تیار ہیں ہم خود شواہد تلاش کر رہے ہیں پتہ چلے کہ رضا کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ابھی تفتیش شروع ہوئی ہے اگر یہ تفتیش پہلے شروع ہوجاتی تو آج ہم کہیں اور کھڑے ہوتے، 13 روز کے بعد یہ پہلا دن ہے کہ پولیس ہمارے ساتھ چل رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ مقتول میر رضا کے دوست کہاں ہیں ہمیں مل ہی نہیں رہے ہیں۔