گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز کا پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے پانچ نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبات نہ ماننے پر 15 اگست صبح 6 بجے سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین ملک خدا بخش نے وائس چیئرمین انور کمال، امیر خان طارق حسن و دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے کیونکہ ملک بھر 14ہزار پیٹرولیم ڈیلرز کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔
ملک خدابخش نے کہا کہ حکومت کو پہلے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی جو پوری ہوچکی ہے۔ مہلت کے بعد حکومت کو بذریعہ خط مطلع کیا گیا کہ ہم پر 14 ہزار ڈیلرز کا پریشر ہے اور ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
چئیرمین پی پی ڈی اے نے کہا کہ ہم نے اخلاقیات کے پیش نظر 15 روز قبل ہڑتال واپس لی تھی اور سمجھ رہے تھے کہ حکومت سنجیدہ ہے۔
پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ 72 گھنٹوں کی مہلت ہفتہ 15اگست کی صبح 6 بجے ختم ہوجائے گی۔ اگر ڈیلر کمیشن، 24گھنٹے پرائس میکنزم میں تبدیلی، کمپنی الاٹمنٹ پالیسی جیسے حساس نوعیت کے مسائل طے نہ کیے تو 15اگست صبح 6بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے اور اس وقت تک کاروبار نہیں کھولا جائے گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ ڈیلرز نے پیٹرول پر 8 فیصد مارجن کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ اصل مسئلہ روزانہ کی بنیادوں پر قیمتوں کے تعین کا ہے جس کی وجہ سے ہمارا ورکنگ کیپیٹل ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امکان ہے آج ہی حکومت انہیں طلب کرکے مسائل حل کرلے گی۔
وائس چیئرمین حاجی امیر خان نے کہا کہ ہم نے خیر سگالی کے لیے ہڑتال کو ملتوی کیا تھا۔ اگر پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن ہمارے ساتھ شامل ہوں تو ہم منع نہیں کریں گے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت ہمیں کیوں اتنا حقیر سمجھ رہی ہے کہ صرف ایم این اے ہی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔