محسن نقوی اہم دورے پر ایران پہنچ گئے؛ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر بات چیت متوقع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر سمجھوتے کا امکان ظاہر کیا ہے

محسن نقوی امریکا ایران جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے نمایاں کردار نبھایا ہے؛ فائل فوٹو

وزیر داخلہ محسن نقوی آج تہران پہنچ گئے جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں امریکا ایران کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی سفارتی مشن پر تہران آمد سے امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی بحالی اور آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

محسن نقوی کا دورۂ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ ایرانی حکام کے ساتھ خطے میں امن و استحکام، جاری تنازع کے خاتمے اور ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی آج اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی نہ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان محسن نقوی کے تہران پہنچنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد کو دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی پیش رفت کی کچھ امید نظر آ رہی ہے۔ تاہم حتمی معاہدے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

محسن نقوی کا تہران پہنچنا ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مجوزہ راستے کے جغرافیائی نقاط پر باہمی سمجھوتا کرلیا ہے تاہم اس پیش رفت کو ابھی مکمل سکیورٹی معاہدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

قبل ازیں ایران کا مؤقف رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو اس کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کی اور خود کو ایک غیر جانب دار ثالث اور سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔

رائٹرز کے بقول جولائی میں بھی پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں تیز کی تھیں۔ اس وقت چین کی جانب سے بھی سفارتی رابطوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔ اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی پاکستانی وفد کا حصہ تھے۔ 

 

Load Next Story