خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کیلیے اربوں مالیت کی جدید گاڑیاں دے دی گئیں
خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹںے کیلیے اربوں روپے مالیت کی بلٹ پروف اے پی سیز، فورک لفٹرز اور دیگر گاڑیاں دے دی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک سعد شہید پولیس لائنز پشاورمیںایک تقریب منعقد ہوئی جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کے لیے اربوں روپے مالیت کی بلٹ پروف اے پی سیز ، فورک لفٹرز، سنگل و ڈبل کیبن گاڑیوں اور موٹر سائیکلز صوبے کے مختلف اضلاع کے ضلعی پولیس افسران و دیگریونٹوں کے اعلیٰ پولیس عہدیداران کے حوالے کیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بکتر بند گاڑیوں، ڈبل کیبنز اور فورک لفٹرزکی آپریشنل صلاحیتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے ضروری آگاہی حاصل کی۔ ایڈیشنل آئی جی پیز، ڈی آئی جیز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے صوبے میں مؤثر اور عوام دوست پولیسنگ پالیسی کے تحت ان اضلاع میں دہشت گردی کے خطرات سے بہتر ین انداز میں نمٹنے اور پولیس اہلکاروں کی قیمتی جانوں کی حفاظت کے لیے ضلعی پولیس افسران کوجدید ڈریگون اے پی سیز، بلٹ پروف گاڑیوں، سنگل و ڈبل کیبن گاڑیاں، فورک لفٹرز اور موٹر سائیکلز کی چابیاں حوالہ کیں۔
آئی جی آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دہشت گردوں کے حملوں کا مؤثر جواب دینے اور پُر خطر علاقوں میں سپاہ کی نقل و حرکت آسان اور محفوظ بنانے کیلئے انتہائی جدید ڈریگون اے پی سیزٹانک ، ہنگو اور بر سوات جبکہ دیگراے پی سیز اپر دیر اور مانسہرہ کے حوالے کی گئیں۔
اسی طرح جدید ریوو گاڑیاں ڈی پی او کوہاٹ اور ڈی پی او تور غر کو دی گئیں جبکہ پشاور ، مردان، سوات، کوہاٹ،بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور ٹیلی کمیونیکیشن میں ہائی ایس وینزبھی تقسیم کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق ضلعی پولیس کے آپریشنل استعداد کار بڑھانے کیلئے سنگل و ڈبل کیبن گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ سوات، لوئر دیر کو سنگل کیبن فور بائی فور گاڑیاں جبکہ ٹانک کو 4 سنگل کیبن گاڑیاں دی گئیں ہیں۔
مزید براں33 فورک لفٹرز مختلف اضلاع اور یونٹس میں تقسیم کئے گئے۔ یوں25 موٹر سائیکلز کی چابیاں بھی مختلف اضلاع کے ضلعی پولیس افسران کے حوالہ کی گئیں۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ دہشتگری سے متاثرہ اضلاع میں افسران اور جوانوں کو میسر گاڑیوں کو بلٹ پروف بنانے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا پولیس کی آپریشنل استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ڈریگن اے پی سیز سمیت سنگل اور ڈبل کیبن گاڑیاں بھی افسران کو دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری 84 اے پی سیز کوجدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور ان کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اپگریڈیشن کے عمل سے گزارا جا رہا ہے اور تواتر کیساتھ اے پی سیز ہماری فورس کا حصہ بنتی رہیں گی۔
آئی جی پی نے کہا کہ گزشتہ سال پولیس موبائلز کی سائیڈ آرمینگ بھی کی گئی ہے تاکہ گشت پر موجود نفری محفوظ طریقے سے نقل و حرکت کرسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع کو 33 فورک لفٹرز دیئے ہیں جو ٹریفک مینجمنٹ، غیر قانونی پارکنگ اور شاہراہوں پر رش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
صوبائی پولیس سربراہ نے کہا کہ جدید اے پی سیز اور پِک اپ گاڑیوں کے ذریعے پولیس کی کپیسٹی بلڈنگ کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جارہا ہے اورعوام تک بروقت رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کے دیر پا قیام، مؤثر پولیسنگ اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو جدید ہتھیاروں اور معیاری ٹریننگ کے ساتھ ساتھ جدید گاڑیوں اور گیڈ جیٹری سے بھی لیس کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری و ساری رہے گا۔