میر رضا کو قتل سے پہلے 12 گھنٹے تک اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وکیل جبران ناصر
کراچی میں مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے نوجوان تاجر میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ میر رضا کو 12 گھنٹے تک مغوی بناکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اُس کے چہرے پر تیزاب بھی ڈالا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق میررضا کے والدین کے ہمراہ اُن کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وکیل ایڈوکیٹ جبران ناصر نے کہا کہ کیس سے متقل کچھ حقائق ہمارے سامنے آئے ہیں، اٹھائیس جولائی کو میر رضا کی سی ٹی وی سامنے آئی اور پھر اگلے دن اس کی لاش مل گئی۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کی کیمیائی تجزیے کی رپورٹس کے مطابق شرٹ پر گولی کا نشان پیچھے سے ہے جبکہ شرٹ پر تیزاب کے اثرات بھی ملے ہیں۔ جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کا چہرہ ڈی کمپوز نہیں تیزاب سے جلانے پر خراب ہوا جبکہ اُس کو بے ہوشی کی لوکل دوائی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کی لاش بیس سے بائیس گھنٹے پرانی تھی جس کا مطلب وہ بارہ گھنٹے تک کسی کی قید میں تھا اور ممکنہ طور پر اس دوران اُسے اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، فون تک رسائی حاصل کر کے کرپٹو کا اکاؤنٹ بھی خالی کیا گیا تاکہ ظاہر کیا جاسکے کہ وہ مقروض تھا۔
جبران ناصر نے سوال کیا کہ میر رضا کے موبائل سے ایپس کس نے ڈیلیٹ کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سوئم کے دن آکر خاندان سے سابق تفتیشی ٹیم اسمارٹ واچ لے کر گئی اور آٹھ دن سے اسمارٹ واچ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے پاس ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر ایس ایچ او فیروز آباد عدیل حسین لے کر گھوم رہے ہیں جبکہ موبائل فون سی ٹی ڈی کو بھیج دیا گیا، ماضی کی تفتیشی کمیٹی کی سربراہی عثمان سدوزئی ایس ایس پی کو دی گئی جو کشمیر میں موجود تھے۔
جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی ایسٹ، ایس ایچ او، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، تفتیشی ٹیم کے سربراہی کرنے والے افسران کو عہدوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف مجرمانہ کنڈکٹ کے تحت انکوائری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ چند افسران کو ہٹایا گیا جبکہ غلط پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل لیگو افسر کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی ہماری شکایت پر چل رہی ہے، اس کیس میں پولیس سفاک درندوں کو بچانے کیلیے غفلت و لاپرواہی کی انتہا کررہی ہے۔