کراچی ٹریفک پولیس اہلکارکی حاضری دماغی، بچی کو مبینہ غلط کام کیلیے اغوا کرنے والا ٹرک ڈرائیور گرفتار
ڈسٹرکٹ ملیر میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکار نے پیسوں کی لالچ دے کر کمسن بچی کو اغوا کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ٹرک ڈرائیور کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ضلع ملیر میں ذوالفقار آباد ٹریفک سیکشن کے عملے نے کمسن بچی کو پیسوں کا جھانسہ دیکر اپنے ہمراہ ٹرک میں لیجانے والے ڈرائیور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
کورنگی پولیس نے گرفتار ڈرائیور کے خلاف والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ، ڈرائیور نے بچی کو کورنگی چمڑا چورنگی کے قریب ٹرک میں بیٹھایا تھا۔
بچی اور ڈرائیور کو ابتدائی طور پر شاہ لطیف تھانے پولیس کے حوالے کیا گیا بعدازاں انھیں کورنگی صنعتی ایریا اور پھر کورنگی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ملیر ٹریفک کے سیکشن آفیسر (ایس او) ذوالفقار آباد انسپکٹر نثار احمد نے بتایا کہ ٹریفک پولیس کے عملے نے نیشنل ہائی وے کے قریب منی ٹرک سے بچی کے چلانے کی آوازیں آنے پر ٹرک کا تعاقب کیا اور اسے روک کر تلاشی لی۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران ڈیش بورڈ کے نیچے بنی ہوئی جگہ سے کمسن بچی کو بازیاب کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ بچی کے ملنے کے بعد ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ہماری بچی ہے اسے گاؤں لیکر جا رہا ہوں اور اس دوران وہ گھبرا کر ٹرک چھوڑ کر قریبی گلیوں میں بھاگ نکلا اور ایک گھر میں چھپ گیا تاہم عملے نے سخت جدوجہد کے بعد ٹرک ڈرائیور کو پکڑ لیا جس کی شناخت فرید اسلم کے نام سے ہوئی۔
اس کے علاوہ بچی کی شناخت 10 سالہ عالیہ دختر بہادر کے نام سے کی گئی۔ بچی نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیور نے کورنگی چمڑا چورنگی سے مجھے 2 ہزار روپے دینے کا جھانسہ دیکر گاڑی میں بیٹھایا تھا اور مجھ سے نازیبا حرکات کر رہا تھا تاہم ٹریفک پولیس کے عملے نے بچی اور ڈرائیور کو ٹرک سمیت شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کے حوالے کر دیا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او شاہ لطیف غلام نبی آفریدی سے رابطہ کیا تو انھوں ںے بتایا کہ مذکورہ واقعہ کورنگی چمڑا پر پیش آیا تھا جس کے باعث بچی اور ڈرائیور کو ٹرک سمیت کورنگی صنعتی ایریا پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
بعدازاں ایس ایچ او کورنگی صنعتی ایریا حکم داد سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ بچی اور ڈرائیور کو کورنگی پولیس کے حوالے کیا ہے جو ڈرائیور سے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کر رہی۔
ایس ایچ او کورنگی ملک اشفاق سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ بچی عالیہ اور ڈرائیور کورنگی ضیا کالونی گلی نمبر 29 کے رہائشی ہیں جبکہ پولیس نے بچی کے والد بہادر علی چوہان کی مدعیت میں ٹرک ڈرائیور فرید اسلم کے خلاف مقدمہ نمبر 387 سال 2026 بجرم دفعات 364 اے ، 376 تھری 511 پی پی سی اور تھری ٹی آئی پی کے تحت درج کرلیا ہے۔
مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ کورنگی ضیا کالونی سیکٹر 32 اے کا رہائشی اور کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، 11 اگست کو اُس کی بیٹی 12 سالہ عالیہ جو کہ کباڑ وغیرہ چننے کے لیے معمول کے مطابق گھر سے 10 بجے کے قریب گئی اور عام طور پر وہ ایک سے دو گھنٹے میں کباڑ فروخت کر کے واپس گھر آجاتی تھی تاہم دوپہر تک واپس نہیں آئی۔
مدعی نے بتایا کہ دوپہر ساڑھے تین بجے میرے گھر پر محلے کے لوگ آئے اور انھوں نے بتایا کہ تمھاری بیٹی عالیہ کی ویڈیو واٹس ایپ گروپ میں چل رہی ہے، جس کوکوئی ٹرک ڈرائیور اپنے ساتھ لے گیا تھا جو اس وقت کورنگی صنعتی ایریا تھانے میں موجود ہے۔
اس اطلاع پر مدعی اپنے مالک مکان کے ہمراہ تھانے گیا جہاں پر بیٹی موجود تھی۔ جس نے والد کو بتایا کہ جب وہ کباڑ کا سامان فروخت کرنے جا رہی تھی اور لنک روڈ سیکٹر 32 اے کورنگی پہنچی تو دوپہر 12 بجے ایک ٹرک ڈرائیور نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر زبردستی مجھے ٹرک میں ساتھ بیٹھایا اور ٹرک چلانے لگا اور کہا کہ شور مچایا تو تمھیں چھری مار دونگا اور میری شلوار اتاری۔
بچی کے مطابق جب وہ چلائی تو ڈرائیور نے کہا کہ چپ ہوجاؤ میں تمھیں 2 ہزار روپے بھی دونگا اور ٹرک چلانے لگا تھوڑا آگے جا کر ٹریفک پولیس نے ٹرک کو روکا اور مجھ سے معلوم کیا تم کون ہو تو میں نے ساری بات ان کو بتائی جس کے بعد وہ مجھے تھانے پر لے آئے۔
مدعی کے مطابق میرا دعویٰ ٹرک ڈرائیور کے خلاف میری بیٹی کو نازیبا حرکت کرنے کی نیت سے زبردستی اپنے ساتھ لیجانے اور کوشش کرنے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔