وزن میں کمی اور بہتر ہاضمہ: کیا باسی روٹی واقعی آپ کو سمارٹ بنا سکتی ہے؟
باسی روٹی کو عموماً تازہ روٹی کے مقابلے میں کم پسند کیا جاتا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق مناسب طریقے سے محفوظ کی گئی رات کی روٹی کے کچھ ممکنہ فوائد ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق پکی ہوئی روٹی ٹھنڈی ہونے کے بعد اس میں موجود نشاستے کی کچھ مقدار ریزسٹنٹ اسٹارچ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ 24 گھنٹے محفوظ کی گئی چپاتی میں تازہ چپاتی کے مقابلے میں ریزسٹنٹ اسٹارچ کی مقدار زیادہ دیکھی گئی، جو جسم میں عام نشاستے سے مختلف انداز میں ہضم ہوتا ہے۔
بلڈ شوگر میں مدد
ریزسٹنٹ اسٹارچ آنتوں میں مکمل طور پر گلوکوز میں تبدیل نہیں ہوتا، جس کے باعث باسی روٹی کھانے سے کھانے کا گلیسیمک انڈیکس کم ہونے اور بلڈ شوگر کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے تحقیق ابھی محدود ہے۔
نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید
ریزسٹنٹ اسٹارچ بڑی آنت میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا کی نشوونما میں مدد کر سکتا ہے۔ جبکہ اگر روٹی ثابت گندم کے آٹے سے بنی ہو تو اس میں موجود فائبر قبض سے بچاؤ اور بہتر ہاضمے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس
فائبر اور ریزسٹنٹ اسٹارچ کی وجہ سے روٹی زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دے سکتی ہے، خصوصاً اگر اسے دہی، انڈے یا سبزیوں جیسی غذاؤں کے ساتھ ناشتے میں کھایا جائے۔
غذائیت سے بھرپور ناشتہ
ثابت گندم کی روٹی میں فائبر، وٹامنز، منرلز اور صحت مند اجزا موجود ہوتے ہیں، اس لیے اسے متوازن ناشتے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
نوٹ:
تاہم ماہرین کے مطابق باسی روٹی لازماً تازہ روٹی سے زیادہ صحت مند نہیں۔ اس کے فوائد کا انحصار روٹی بنانے کے طریقے، استعمال کیے گئے آٹے اور اسے محفوظ رکھنے کے طریقے پر بھی ہوتا ہے۔