بادیان کا چھوٹا سا پھول، صحت کے لیے بڑے فائدے
کھانوں کی خوشبو اور ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا بادیان کا پھول صرف ایک مصالحہ نہیں بلکہ کئی غذائی اجزا کا بھی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی اور بی وٹامنز کے ساتھ کیلشیم اور فاسفورس بھی موجود ہوتے ہیں، اسی لیے اسے روایتی طور پر مختلف گھریلو استعمالات میں شامل کیا جاتا ہے۔
بادیان کو کھانوں میں کبھی ثابت، کبھی پاؤڈر اور کبھی گرم مصالحے کے حصے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس سے تیار کی جانے والی چائے بھی مختلف جسمانی مسائل میں مفید سمجھی جاتی ہے۔
بادیان کی چائے تیار کرنے کے لیے ایک سے دو پھول دو کپ پانی میں ڈال کر ابالیں۔ پانی کا رنگ تبدیل ہونے کے بعد اسے مزید تقریباً پانچ منٹ تیز آنچ پر پکائیں اور پھر کپ میں نکال کر استعمال کریں۔
اس چائے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ سانس سے متعلق بعض تکالیف میں مددگار ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر دھول، مٹی اور دیگر ذرات کی وجہ سے ناک بند ہونے یا سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے والے افراد اسے استعمال کرتے ہیں۔ روزانہ ایک کپ بادیان کی چائے ناک کی بندش کم کرنے اور سانس کی تکلیف میں آرام پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
بادیان کی چائے کو خواتین میں ہارمونز کے عدم توازن کے لیے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے صبح نہار منہ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم شوگر کے مریضوں کو اس میں چینی شامل نہیں کرنی چاہیے۔ چائے کو بہت ٹھنڈا کرنے کے بجائے نیم گرم استعمال کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔
جوڑوں میں درد اور تکلیف کے حوالے سے بھی بادیان کی چائے کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا ایک کپ جوڑوں کی تکلیف میں فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے اور اسی وجہ سے بعض افراد اسے مہنگی ادویات کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح رات کے وقت ہاتھوں اور پاؤں میں جلن محسوس ہونے کی صورت میں بھی بادیان کی چائے استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں موجود بعض اجزا کو سکون پہنچانے والا قرار دیا جاتا ہے، جس کے باعث سونے سے قبل ایک کپ چائے پینے سے جلن کی شدت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم بادیان یا اس کی چائے کو کسی بیماری کے باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ محفوظ ہے۔