اے آئی سے لکھے گئے مواد کی شناخت کے لیے اینتھراپِک کا اہم قدم!

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا نفاذ دنیا بھر میں ہوگا

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کمپنی اینتھروپِک نے اعلان کیا ہے کہ اس کا اے آئی چیٹ بوٹ کلاؤڈ اب اپنی تیار کردہ تحریروں اور تصاویر میں ایسے پوشیدہ واٹرمارکس شامل کرے گا جن کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔

کمپنی کی جانب سے یہ اقدام یورپی یونین کے اے آئی کے تحت اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور شفافیت سے متعلق تقاضوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا نفاذ دنیا بھر میں ہوگا اور کلاؤڈ کے مخصوص استعمال (بشمول کلاؤڈ کوڈ) میں بھی اس کا اطلاق ہوگا۔

پوشیدہ واٹرمارک انسان کو عام طور پر نظر نہیں آئے گا۔ البتہ، خودکار نظام مخصوص نشانات یا اشاروں کی مدد سے یہ معلوم کر سکیں گے کہ مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں واٹرمارکنگ کا استعمال پہلے ہی نسبتاً عام ہو چکا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی کچھ حدود بھی ہیں۔ مثال کے طور پر تصویر کو دوبارہ تبدیل کرنے، فارمیٹ تبدیل کرنے یا اس کا اسکرین شاٹ لینے سے بعض صورتوں میں واٹرمارک متاثر یا ختم ہو سکتا ہے۔

اینتھروپِک کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کم معیار کے مواد میں تیزی سے اضافے پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر تیار ہونے والے مواد کو عام طور پر ’اے آئی سلوپ‘ کہا جاتا ہے۔

Load Next Story