خود احتسابی کا دن
کہتے ہیں ایک مسافر برسوں بھٹکنے کے بعد اپنے شہر لوٹا تو دروازے پر سبز پرچم لہرا رہا تھا۔ اس نے پرچم کو دیکھا، مسکرایا، آنکھیں بند کیں اور آہستہ سے بولا: ’’یہ میرا وطن ہے۔‘‘
پھر اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ایک بے روزگار نوجوان، ہاتھ میں ڈگری اور آنکھوں میں سوال لیے، کچھ فاصلے پر ایک مزدور مہنگائی کے حساب میں الجھا ہوا، ایک صحافی اپنے لفظوں کی قیمت سوچ رہا تھا اور ایک عام شہری عدالت، تھانے اور دفتر کے درمیان انصاف تلاش کر رہا تھا۔ مسافر نے پھر پرچم کی طرف دیکھا اور خود سے پوچھا کہ ’’کیا صرف پرچم کا لہرانا آزادی کی دلیل ہے؟‘‘
یقیناً 14 اگست ہمارے لیے ایک خوشی کا دن ہے۔ آزادی جیسی عظیم نعمت کے حصول کی مناسبت سے اللہ رب العالمین کے حضور سجدائے شکرکا ادا ہونا واجب ہے، لیکن تاریخ صرف فخر کرنے کے لیے نہیں ہوتی، اس سے سبق بھی لیا جاتا ہے۔
ہم نے آزادی کس سے حاصل کی، انگریز سے؟ ذرا اس سوال کو ایک قدم آگے لے جائیے اور سوچئے کہ کیا انگریز کے جانے کے بعد ہر پاکستانی آزاد ہوگیا؟ کیا طاقت، اختیار اور وسائل کی وہ تقسیم بدل گئی جو صدیوں سے مخصوص طبقات کے ہاتھ میں رہی تھی؟ بظاہر تو آئین میں لکھ دیا گیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ ووٹ بھی عوام کا، حکومت بھی عوام کے نام پر، فیصلے بھی عوام کے نام پر؛ مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد عوام اُن ہی مغنیوں کے دروازے کے باہر بے بس کیوں کھڑے نظر آتے ہیں؟
ریاست کے اصل مالک اس کے شہری ہیں، لیکن ہم اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے ہی ہاتھ کسی اور کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر وہ ہاتھ قانون بناتے ہیں، بجٹ بناتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں اور کبھی کبھی اسی عوام سے اس کی آزادی کا جشن بھی منواتے ہیں، وہ عوام جس کے لیے آٹھ دہائیوں بعد بھی روٹی، روزگار، چھت، انصاف اورعزتِ نفس جیسے مسائل کا حل جوئے شیر کے عین مترادف بنا دیا گیا ہے۔ انتہائی محدود وسائل رکھنے والا ایک عام پاکستانی جب آٹے، بجلی، کرائے، بچوں کی فیس اور دوا کے درمیان الجھا ہو، تو اس کے لیے14 اگست یوم آزادی نہیں بلکہ محض چٹھی کا دن ہی ہوگا۔
قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان محض ایک طاقتور ریاست کا تصور نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی جمہوری اور فلاحی ریاست چاہتے تھے جہاں آئین، قانون اور عوام کی بالادستی بنیادی اصول ہوں۔ یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ’’آج ہم اس تصور سے کتنے قریب ہیں؟‘‘
جمہوریت کمزور ہے، پارلیمان کی وقعت مسلسل سوالوں کی زد میں ہے، آئینی اصول بار بار آزمائش میں پڑتے ہیں، اظہارِ رائے کی آزادی سخت ترین دباؤ کا شکار ہے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ مسلسل کم ہوتا جارہا ہے۔ دوسری طرف دہشت گردی ایک بار پھر شہریوں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لے رہی ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بدامنی کا سایہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں؛ شہری کے جان و مال، عزت، روزگار اور آواز کی حفاظت بھی آزادی ہی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب ہماری نوجوان نسل ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں کی گفتگو کا سب سے مقبول موضوع شاید یہ نہیں کہ ملک کو کیسے بدلنا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ ملک سے کیسے نکلنا ہے؟ ہر دوسرا نوجوان ویزے، امیگریشن، بیرونِ ملک ملازمت یا مستقل رہائش کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ یہ کوئی جرم نہیں، بلکہ معاشی، تعلیمی یا خاندانی مجبوریوں کے تحت ایسی ہجرت مجبوری ہے۔ لیکن موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر ایک پوری نسل کے اجتماعی خواب کا مرکز ترکِ وطن بنتا جارہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ملک میں تعلیم، روزگار، میرٹ، اظہار اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھائی نہ دے تو پھر اس کا ہوائی اڈے کی طرف دیکھنا ہمارے نظام پر ایک سوال بن جاتا ہے۔
ہجرت کسی فرد کی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن اگر ایک پوری نسل اپنے وطن کو بہتر بنانے کی امید ہی چھوڑ دے تو یہ افراد کی نہیں، قوم کی شکست ہوتی ہے۔ اسی لیے آج کے نوجوان کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’ملک مت چھوڑو‘‘ریاست اور معاشرے کو بھی خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے اسے یہاں رہنے کی کیا وجہ دی ہے؟ اور اگر ہم اسے صرف نصیحتیں دیتے رہے اور اس کے سامنے دروازے بند کرتے رہے تو پھر پاسپورٹ پر مہر لگنے کے بعد اسے وطن سے محبت کا درس دینا شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
یوم آزادی ہمیں اسی مقام پرلاکر کھڑا کرتا ہے جہاں جشن اورسوال ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم پرچم ضرور لہرائیں، قومی ترانہ ضرور گائیں، شہداء اور بانیانِ پاکستان کو ضرور یاد کریں؛ مگر چند لمحوں کے لیے خاموش بھی ہوجائیں اور خود سے پوچھیں کیا پاکستان وہی بن گیا ہے جس کے لیے یہ آزادی حاصل کی گئی تھی؟ اگر جواب ہاں ہے تو جشن منائیے۔ اور اگر جواب نہیں ہے تو پھر اس جشن کو ایک نئے عزم میں بدل دیجیے۔ کیونکہ آزادی صرف ایک تاریخ نہیں آزادی ایک مسلسل ذمے داری ہے۔
ایک85 سالہ بزرگ سے کسی نوجوان نے پوچھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں سب سے خوبصورت وطن کون سا دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا، جس کی سڑکیں سب سے کشادہ تھیں، جس کی عمارتیں سب سے بلند تھیں؛ وہ نہیں۔ بلکہ میں نے سب سے خوبصورت وطن وہ دیکھا جہاں لوگوں کو اپنے مستقبل کے لیے وطن چھوڑنے کا خواب نہ دیکھنا پڑے۔ پھر انہوں نے اپنی جیب سے ایک مٹھی مٹی نکالی، اسے آنکھوں سے لگایا اور کہا، وطن ہمیں صرف رہنے کے لیے نہیں ملتا، اسے سنوارنے کے لیے بھی ملتا ہے۔ اگر ہم ہر خرابی پر راستہ بدل کر نکل جائیں تو ایک دن ہماری اگلی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب وطن کو ہماری ضرورت تھی، تب ہم کہاں تھے؟
شاید یہی سوال 14 اگست کے دن ہم سب کے سامنے کھڑا ہے۔
پاکستان ہمیں بزرگوں نے صرف ایک جغرافیہ نہیں، ایک خواب دے کر دیا تھا۔ اب اس خواب کو حقیقت بنانا ہماری ذمے داری ہے۔ اس کے لیے صرف پرچم نہیں، کردار بلند کرنا ہوگا؛ صرف نعرہ نہیں، شعور پیدا کرنا ہوگا؛ صرف حکمرانوں کو الزام نہیں دینا ہوگا، اپنے ووٹ، اپنے رویے اور اپنی خاموشی کا بھی حساب دینا ہوگا کیونکہ قومیں صرف آزادی حاصل کرکے آزاد نہیں رہتیں؛ وہ ہر نسل میں آزادی کی حفاظت، انصاف کی جدوجہد اور اپنے وطن کو بہتر بنانے کا عہد کرکے آزاد رہتی ہیں۔
لہٰذا اس 14 اگست پر ایک سوال کا جواب تلاش کرنے کے بجائے ایک عہد کریں ہم پاکستان کو صرف چھوڑنے کے قابل نہیں، رہنے اور بنانے کے قابل بھی بنائیں گے۔ شاید یہی جشنِ آزادی کا اصل مفہوم ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔