مودی کے ہندوتوا نظریے کیخلاف اندرونی بغاوت، ہندو انتہا پسند تنظیموں کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں

مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے ہندوتوا تنظیموں کو طاقتور ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے

بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا نظریے کیخلاف اندرونی بغاوت سامنے آ رہی ہے، جس سے ہندو انتہا پسند تنظیموں کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں ہوگیا ہے۔

ہندوتوا انتہا پسند تنظیموں کی بڑھتی سرگرمیاں بھارت سمیت پڑوسی ممالک کے امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں۔ مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے ہندوتواتنظیموں کو طاقتور ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق بھارت میں ہونے والے بم دھماکوں میں آر ایس ایس اور  وشو ہندو پریشد  کے کردار کی تحقیقات پر آوازیں  اٹھنے لگی ہیں۔ سابق آر ایس ایس رہنما یشونت سہدیَو شندے  نےآر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

دیو ائر کے مطابق سابق آر ایس ایس  رہنمانے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہونے والی شرپسند کارروائیوں کا تربیتی نیٹ ورک آر ایس ایس کی قیادت میں چلایا جاتا ہے۔ امن کے دشمن وی ایچ پی رہنما ملند پراندے کی نگرانی میں تمام آر ایس ایس کارکنوں کو بم بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

بھارتی سیاسی تجزیہ کار شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی پرتشدد سرگرمیاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی بڑھانے کی طویل تاریخ رکھتی ہیں۔

دی وائر کے مطابق سی بی آئی کے شواہد کے باوجود بی جے پی نواز عدالتوں میں ہندوتوا تنظیموں کیخلاف مقدمات بریت پر ختم ہو جاتے ہیں۔

بھارتی سیاسی تجزیہ کار راجو پارولیکر کے مطابق اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے باعث آر ایس ایس دیگر دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ خطرناک بن چکی ہے۔

Load Next Story