امریکا ایران کشیدگی کے باوجود تیل سستا، عالمی منڈی میں قیمتیں ایک ڈالر سے زائد گر گئیں

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تازہ کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی طلب کے حوالے سے توقعات میں کمی ہے

لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی طلب کے نئے اندازوں میں کمی اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.29 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد برینٹ کی قیمت 87.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.30 ڈالر یا 1.6 فیصد کم ہو کر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تازہ کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی طلب کے حوالے سے توقعات میں کمی ہے۔ مختلف اداروں اور مارکیٹ کے ماہرین نے 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب کے اندازوں پر نظرثانی کی ہے، کیونکہ خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی سے عالمی تجارت اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں بھی تاحال کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث سرمایہ کار مستقبل میں توانائی کی عالمی منڈی کی صورتحال کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی رسد کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں سے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

اگرچہ عالمی طلب میں کمی کے خدشات نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں نے قیمتوں میں مزید بڑی کمی کو کسی حد تک محدود رکھا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا رخ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت، عالمی معاشی سرگرمیوں اور تیل کی طلب و رسد کے نئے اعداد و شمار سے طے ہوگا۔

Load Next Story